Back to شیـخین

رسول ص نے فرمایا ابوبکر و عمر میرے دو کان اور آنکھیں ہیں؟

#شبهہ_پیغمبر_ص_ابوبکر_عمر_میرے_دو_کان_اور_آنکھیں_ہیں_مستدرک_حاکم

 

👇👇👇

 

عبدالعزیز بن مطلب بن عبداللہ بن حنطب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا عبداللہ بن حنطب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:

 

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور فرمایا:

 

"یہ دونوں (میرے) کان اور آنکھیں ہیں۔"

 

یعنی:

 

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ دونوں میری آنکھیں اور کان ہیں۔"

 

📚 مستدرک، جلد 3، صفحہ 73، حدیث 4432

(حاکم: حدیث حسن صحیح)

 

 

👆👆👆

 

✅ شیعہ جواب:

 

پھر وہابی نے ایک ضعیف روایت سے استدلال کیا ہے۔

 

4432 - ابو جعفر احمد بن عبید حافظ نے ہم سے بیان کیا، ہمدان میں، انہوں نے کہا: ہم سے ابراہیم بن حسین نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے آدم بن ابی ایاس عسقلانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک مدنی نے بیان کیا، انہوں نے:

 

حسن بن عبداللہ بن عطیہ سعدی سے روایت کیا، وہ عبدالعزیز بن مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا عبداللہ بن حنطب سے روایت کرتے ہیں:

 

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور فرمایا:

 

"یہ دونوں کان اور آنکھیں ہیں۔"

 

 

 

1️⃣ حسن بن عبداللہ بن عطیہ سعدی مجہول ہے۔

 

اس کے بارے میں اہل سنت کی کتب میں کوئی جرح و تعدیل موجود نہیں ہے۔

 

 

2️⃣ عبداللہ بن حنطب کے صحابی ہونے میں بھی اختلاف ہے۔

 

امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:

 

"یہ حدیث مرسل ہے، اور عبداللہ بن حنطب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔"

 

یعنی:

 

"یہ حدیث مرسل ہے اور عبداللہ بن حنطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔"

 

📚 سنن ترمذی، جلد 5، صفحہ 613

 

 

 

3️⃣ حتیٰ کہ ابن عبدالبر، جنہوں نے عبداللہ بن حنطب کو صحابی مانا ہے، وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ روایت سند کے اعتبار سے مضطرب ہے اور اس کی سند ثابت نہیں ہے۔

 

(1516) عبداللہ بن حنطب مخزومی:

 

ان کی صحابیت ہے۔ مطلب نے ان سے قریش کی فضیلت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کے بارے میں مرفوع روایت نقل کی ہے، لیکن ان کی حدیث کی سند مضطرب ہے اور ثابت نہیں ہوتی۔

 

📚 الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 3، صفحہ 892

 

 

لہٰذا یہ سند ضعیف ہے اور اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔

 

 

لیکن آپ لوگ جو ایسی باتوں کے لیے ضعیف سند پر اعتماد کرتے ہیں، تو اس روایت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

 

👇👇👇

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 

"رہے تم، اے جعفر! تو تمہاری صورت میری صورت سے مشابہ ہے، تمہارا اخلاق میرے اخلاق کے مشابہ ہے، اور تم مجھ سے ہو اور میرے شجرہ (خاندان) سے ہو۔

 

اور رہے تم، اے علی! تو تم میرے بھائی ہو اور میرے بچوں کے والد ہو، تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔

 

اور رہے تم، اے زید! تو تم میرے آزاد کردہ غلام ہو، تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اور تم قوم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔"

 

حاکم نے کہا:

 

"یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔"

 

[تعلیق - تلخیص ذہبی]

4957 -

 

"مسلم کی شرط پر ہے۔"

 

🔵 ترجمہ:

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 

"... اے علی علیہ السلام! پس تم میرے بھائی ہو اور میرے بچوں کے والد ہو، تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں..."

 

📚 مستدرک حاکم، جلد 3، صفحہ 239

 

 

لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ:

 

"علی علیہ السلام مجھ سے ہیں اور میں علی علیہ السلام سے ہوں۔"

 

🤔 تو پھر کیا آپ کے اصول کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ نہیں ہونا چاہیے تھا؟

 

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 

"میں ان سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔"

 

👈 اسکین پیجز جلد لگا دئیے جائیں گے

 

بدر علی