#شبہ_نبی_ص_کے_بعد_صدقات_ابوبکر_کو_دیں_المستدرک_حاکم
❌ وہابیوں کی روایت:
👇👇👇
انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
"بنی مصطلق نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ آپؐ کے بعد ہم اپنے صدقات (زکوٰۃ وغیرہ) کس کو ادا کریں؟
انس کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ سے سوال کیا، تو آپؐ نے فرمایا:
'ابوبکر کو۔'"
📚 المستدرک علی الصحیحین للحاکم، جلد ۳، صفحہ ۸۲، حدیث ۴۴۶۰
"حاکم کے نزدیک حدیث صحیح"
---
✅ شیعہ جواب:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس میں ایک مجہول راوی موجود ہے۔
روایت کی سند یہ ہے:
4460 - ابو بکر احمد بن سلمان الفقیہ نے بغداد میں بیان کیا، انہوں نے کہا: جعفر بن محمد بن ابی عثمان طیالسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا:
👈 نصر بن منصور المروزی 👈
نے بیان کیا، انہوں نے کہا: بشر بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مختار بن فلفل نے انس بن مالک سے روایت کی کہ...
📚 المستدرک علی الصحیحین، جلد ۳، صفحہ ۸۲
اس سند میں:
👈 نصر بن منصور المروزی 👈
موجود ہے، جو مجہول ہے، اور اہل سنت کی کتبِ رجال میں اس کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل موجود نہیں ہے۔
---
اور مختار بن فلفل نے یہ حدیث انس بن مالک سے نقل کی ہے، جبکہ سلیمانی، جو اہل سنت کے علماء میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ راوی انس سے منکر روایات نقل کرتا ہے۔
سلیمانی کہتے ہیں:
"اور سلیمانی نے اس پر کلام کیا ہے، اور اسے ان راویوں میں شمار کیا ہے جو انس سے منکر روایات نقل کرتے ہیں،
📚 تہذیب التہذیب، جلد ۱۰، صفحہ ۶۹
لہٰذا یہ روایت بھی مختار بن فلفل کی انس بن مالک سے نقل کردہ منکر روایات میں سے ایک ہے۔