Back to بیعت و خلافتِ شیخین

اگر ابوبکر اور عمر نے خلافت کو غصب کیا تھا تو پھر امام علی (ع) کیوں انکے ساتھ تعاون کیا کرتے تھے ؟

*اگر ابوبکر اور عمر نے خلافت کو غصب کیا تھا تو پھر امام علی (ع) کیوں انکے ساتھ تعاون کیا کرتے تھے ؟*

 

*اعتراضات*

 

اگر حضرت علی (ع) دلی طور پر ابوبکر و عمر سے راضی نہیں تھے اور انکو اپنے حق کو غصب کرنے والے جانتے تھے تو انکو اپنے غصب شدہ حق کو واپس لینے کے لیے ہمیشہ ایک مناسب فرصت کے انتظار میں رہنا چاہیے تھا اور فرصت ملتے ہی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، اور جب عمر نے حضرت علی (ع) سے ایرانیوں سے جنگ پر جانے کے لیے مشورہ لیا تھا تو حضرت علی (ع) کو مشورہ دینا چاہیے تھا کہ عمر تم خود میدان جنگ میں جاؤ تا کہ وہ جنگ میں قتل ہو جاتا اور خلافت دوبارہ حضرت علی (ع) کو واپس مل جاتی، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی کیسے مخلصانہ طور پر عمر اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے خود عمر کو ذاتی طور پر جنگ پر جانے سے منع کرتے ہیں اور سچے دل سے خلوص نیت کے ساتھ مختلف مواقع پر خلفاء کو مشورے دیتے ہیں اور واقعا حضرت علی (ع) ایسے ہی مخلص اور پاک نیت انسان تھے۔

 

❌ اگر حضرت علی خلفاء کی حکومت کے مخالف تھے تو انکے وزیر اور معاون نہ بنتے، 

 

📚 كتاب تاريخ ابن اثير ج 3، ص 55، میں نقل ہوا ہے کہ 

 

حضرت علی، عمر کے لیے بہترین مشاور اور خیر خواہ اور مشکل مسائل میں بہترین قاضی تھے۔ 

 

حتی عمر سے نقل ہوا ہے کہ:

 

📝 *لولا علي لهلك عمر*

 

اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔

 

 *بحث و تحقیق:*

 

 *مخلصانہ مشورے:*

 

امیر المؤمنین علی (ع) کے وہ تمام کام کہ جو خلفاء کے ساتھ تعاون کرنا اور مشورہ دینا شمار ہوتے تھے، کی تین اقسام ہیں:

 

*1- مقدمات میں مشورہ دینا،*

 

*2- جنگی اور دفاعی امور میں مشورہ دینا،*

 

*3- علمی اور اعتقادی مسائل میں مشورہ دینا،*

 

ان تمام امور میں امیر المؤمنین علی (ع) کا کردار زیادہ سے زیادہ ایک سوال کرنے والے شخص کا جواب دینا اور انکے مسائل کو حل کرنا تھا کہ جو ہر مسلمان کا دینی اور اخلاقی وظیفہ ہے۔ 

 

حتی اگر وہ مشورہ لینے والا مسلمان نہ بھی ہو تو پھر بھی ضروری ہے کہ مکمل انصاف اور امانتداری سے اسکی مدد کی جائے اور جب حفظ اسلام اور دین خدا کی بات ہو گی تو واضح ہے کہ ایک مسلمان کا وظیفہ کتنا دشوار اور اہم ہو گا۔

 

*مرحوم سيد مرتضی نے اس بارے میں لکھا ہے:*

 

📝 فأما استدلاله علي رضاه بما ادعاه من إظهار المعاونة والمعاضدة ، وأنه أشار عليه بقتال أهل الردة فإنه ادعاء معاونة ومعاضدة علي سبيل الجملة لا نعرفها ، ولو ذكر تفصيله لتكلمنا عليه ، فإن أشار بذلك إلي ما كان يمدهم به من الفتيا في الأحكام ، فذلك واجب عليه في كل حال ، ولكل مستفت فلا يدل إظهار الحق والتنبيه علي الصواب في الأحكام لا علي معاونة ولا معاضدة ، وإن أشار إلي ما كان منه عليه السلام في وقت من الأوقات من الدفع عن المدينة فذلك أيضا واجب علي كل مسلم وكيف لا يدفع عن حريمه وحريم المسلمين ، فأي دلالة في ذلك علي ما يرجع إلي الإمامة .

 

فأما المشورة عليه بقتال أهل الردة فما علمنا أنها كانت منه ، وقد كان يجب عليه أن يصحح ذلك ، ثم لو كانت لم تدل علي ما ظنه لأن قتالهم واجب علي المسلمين كافة والمشورة به صحيحة .

 

آپ کا دعوا ہے کہ علی (ع) نے خلیفہ کی مدد اور اسکے ساتھ تعاون کیا ہے، جیسے اہل ردہ کے ساتھ جنگ کرنے کے موقع پر ابوبکر کو مشورہ دینا وغیرہ، 

یہ صرف ایک دعوا ہے اور اگر اسکی تھوڑی تفصیل بھی ذکر ہوتی تو اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا تھا، 

اور اگر *اس تعاون سے مراد احکام دین میں مدد و راہنمائی کرنا ہو تو یہ ہر عالم پر واجب ہوتا ہے* اور اسکو صحیح بیان بھی کرنا چاہیے، اس بات سے ان (خلفاء) کے ساتھ تعاون کرنا استفادہ نہیں ہوتا اور *اگر آپکی مراد علی (ع) کا مدینہ کے لوگوں کی جان ، مال اور ناموس کے دفاع کے لیے، مشورہ وغیرہ دینا ہو تو یہ بھی واجب ہے*

 

کیونکہ دوسروں کی جان کی حفاظت کے علاوہ اپنی جان کی بھی حفاظت کی ہے اور *ان کاموں کا تعلق خلفاء کی خلافت کی تائید و تصدیق وغیرہ کرنے سے نہیں ہے۔*

 

👈🏻 کیونکہ ایسا کرنا تو ہر مسلمان کا شرعی و اخلاقی فرض ہے۔

 

اور ابوبکر کے علی (ع) کے ساتھ اہل ردہ کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں مشورہ کرنے والی بات کو ہم نہیں مانتے یا کم از کم یہ بات ہمارے لیے واضح نہیں ہے اور یہ بات مزید واضح ہونی چاہیے اور اگر تمہارے مقصود پر دلالت نہ بھی کرتی ہو پھر بھی *اسلام میں مشورہ دینا اور تعاون کرنا نیک کام ہے* کیونکہ مرتدین کے ساتھ اسلام کی راہ میں جنگ کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔

 

📚 الشافي في الامامة ، علي بن الحسين الموسوي معروف به الشريف المرتضي (متوفي436 هـ) ، ج 3 ص 251

 

۔

 

 *امیر المؤمنین علی (ع) اور اہم وظیفہ حفظ دین:*

 

خداوند کی جانب سے منصوب شدہ امام و راہنما کے وظائف میں سے ایک بہت ہی اہم وظیفہ، دین و شریعت کی حفاظت کرنا ہے 

*اور اگر وہ محسوس کرے کہ دین خطرے میں ہے تو ہر ممکن طور پر دین کی حفاظت کرے۔*

 

البتہ یہ وظیفہ زمان اور مکان کے لحاظ سے مختلف ہوتا رہتا ہے اور ہر امام و راہنما موجودہ حالات کے مطابق قدم اٹھاتا ہے،

 

▪️ کبھی حالات کے مطابق یہ وظیفہ غصب شدہ حق کے مقابلے پر صبر و تحمل و سکوت کرنے سے ادا ہوتا ہے 

 

▪️اور کبھی یہ وظیفہ دشمن کے سامنے ڈٹ جانے سے ادا ہوتا ہے۔ 

 

ہر امام عقل ، معرفت اور بصیرت کے لحاظ سے کامل ہوتا ہے، اس لیے کن حالات میں کیسا قدم اٹھانا ہے، یہ امام کی اپنی ذاتی حکمت عملی پر منحصر ہوتا ہے۔

 

*ابن حجر ہيثمی نے رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:*

 

📜 في كل خلف من أمتي عدول من أهل بيتي ينفون عن هذا الدين تحريف الضالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ألا وإن أئمتكم وفدكم إلي الله عز وجل فانظروا من توفدون .

 

📝 ہر زمانے میں میرے اہل بیت میں سے عادل افراد میری امت میں موجود ہوں گے کہ جو گمراہ افراد کی تحریف ، باطل نسبتوں اور جاہلوں کی غلط تاویلوں کو دین سے دور کریں گے، آگاہ ہو جاؤ کہ تمہارے امام تم کو خداوند کے پاس لے کر جانے والے ہیں، پس غور کرنا کہ کس کو تم روانہ کرنے والے ہو، (یعنی ہر کسی کو اپنا امام تسلیم نہ کرنا)

 

📚 الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة ، أبو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر الهيثمي (متوفي 973هـ) ، ج 2 ، ص 441 ، ناشر : مؤسسة الرسالة – لبنان،

 

امير مؤمنین علی (ع) کو اگرچہ انکے مسلّم حق اور رسول خدا (ص) کی جانشینی و خلافت سے دور کر دیا گیا اور حقیقت میں خلفاء کی طرف سے انکا حق چھین لیا گیا، لیکن اسکا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ اپنے دوسرے وظائف پر عمل نہ کریں *کیونکہ کبھی کبھی خلفاء کی لا علمی اور انکے غلط فیصلے سبب بنتے تھے کہ وجود اسلام خطرے میں پڑ جاتا تھا، اس حساس صورتحال میں امام علی (ع) کا دینی فریضہ تھا کہ وہ شریعت اسلامی پر کوئی آنچ نہ آنے دیں،* مثلا جنگ نہاوند کے موقع پر بادشاہ ایران نے اسلام کی نابودی کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا ہوا تھا اور *اگر امیر المؤمنین علی (ع) کی تدبیر اور جنگی مہارت نہ ہوتی تو نہ صرف یہ کہ یقینی طور پر عمر کا سارا لشکر بلکہ اسلام جڑ سے نابود ہو جاتا۔*

 

👈🏻 اس موقع پر امیر المؤمنین علی (ع) کا وظیفہ تھا کہ رسول خدا (ص) کی شہادت کے بعد نظام اسلامی اور دین اسلامی کی حفاظت کریں کیونکہ رسول خدا (ع) کے اہل بیت ہونے کے حوالے سے اس بارے میں انکا وظیفہ ہر دوسرے مسلمان سے سنگین تر اور اہم تر تھا۔

 

▪️عمر کی بنائی ہوئی چھ افراد پر مشتمل شورا میں امیر المؤمنین علی (ع) نے فرمایا:

 

📜 بَايَعَ النَّاسُ لأبِي بَكْرٍ وَأَنَا وَاللَّهِ أَوْلي بِالأَمْرِ مِنْهُ ، وَأَحَقُّ بِهِ مِنْهُ ، فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ كُفَّارَاً يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ رِقَابَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ عُمَرَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَوْلي بِالأَمْرِ مِنْهُ وَأَحَقُّ بِهِ مِنْهُ ، فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ كُفَّارَاً يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ رِقَابَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ .

 

📝 *لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی حالانکہ خدا کی قسم میں اس سے بیعت کے لیے مناسب تر تھا، لیکن میں نے لوگوں کے زمانہ جاہلیت و کفر کی طرف واپس پلٹنے اور مسلمانوں کی داخلی جنگ ہونے کے ڈر سے، سکوت اختیار کیا، پھر عمر کی بیعت کی گئی، حالانکہ خدا کی قسم میں اس سے بھی زیادہ اس کام کا مستحق تھا، لیکن پھر بھی قتل و غارت ہونے اور لوگوں کے دوبارہ کافر ہونے کے ڈر سے چپ رہا۔*

 

📚 جامع الاحاديث (الجامع الصغير وزوائده والجامع الكبير) ، الحافظ جلال الدين عبد الرحمن السيوطي (متوفي911هـ) ج 12 ص 54

 

📚 تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل ، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله الشافعي (متوفي571هـ) ج 42 ، ص 434 ، ناشر : دار الفكر – بيروت،

 

در اصل امیر المؤمنین علی (ع) نے لوگوں کے مرتد ہونے اور انکے زمانہ جاہلیت کی طرف واپس پلٹنے، ظلم و غصب کے مقابلے پر صبر و سکوت کرنے اور خلفاء سے تعاون کرنے میں سے کسی ایک کو انتخاب کرتے کہ رسول خدا (ص) کے فرمان کے مطابق *اپنے حق سے چشم پوشی کرتے ہوئے، اسلام اور مسلمین کی خاطر خلفاء کے ساتھ تعاون کرنے کو ترجیح دی تا کہ اپنا حق رہے نہ رہے لیکن اسلام اور مسلمین باقی رہ جائیں*، لہذا ایک مقام پر مولا علی (ع) نے فرمایا ہے کہ:

 

📜 إِنَّ هَؤُلَاءِ خَيَّرُونَّا أَنْ يَظْلِمُونِي حَقِّي وَ أُبَايِعَهُمْ فَارْتَدَّ النَّاسُ حَتَّي بَلَغَتِ الرِّدَّةُ أَحَداً فَاخْتَرْتُ أَنْ أُظْلَمَ حَقِّي وَ إِنْ فَعَلُوا مَا فَعَلُوا .

 

📝 *اس قوم نے میرا حق غصب کرنے اور میرا انکی بیعت کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس صورتحال سے ایک گروہ دین سے مرتد ہو گیا، پس میں نے اپنے حق پر ظلم ہوتا برداشت کر لیا اگرچہ اس قوم کا جو دل تھا، انھوں نے انجام دیا۔*

 

📚 بحار الأنوار ، محمد باقر مجلسي ، ج28 ، ص393