قرآن: پیروی کس کی کی جائے ۔
قرآن: پیروی کس کی کی جائے ۔

🔴 امام علیؑ کے خلفا کو مشورہ دینے کی علت:

 

📜 حضرت امام صادقؑ ایک واقعے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب شیخین کسی صحیح فیصلے سے عاجز رہے اور امیرالمؤمنینؑ نے ان کو درست حکم سکھایا، 

 

تو سلمان فارسیؓ نے امام علیؑ سے پوچھا:

 

❓"آپ انہیں (شیخین کو) کیوں رہنمائی کرتے ہیں؟"

 

امامؑ نے فرمایا:

 

👈 "میں نے صرف یہ چاہا کہ اس آیت کے مضمون کو اپنے اور ان کے بارے میں واضح کر دوں:

 

📜 کیا وہ شخص جو لوگوں کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے زیادہ لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہدایت نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ تم اس بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہو؟

 

📚 [یونس: ۳۵]

 

📕 نتیجہ:

جب شیخین کسی مسئلے میں پھنس جاتے اور امیرالمؤمنینؑ درست جواب بتاتے، تو یہ ان کی خلافت کی تائید یا مدد کے لیے نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس لیے کہ انہیں اور ان کے پیروکاروں کو یہ سمجھا دیا جائے کہ وہ جاہل ہیں اور امت کی قیادت کے اہل نہیں ہیں۔ اصل میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہم ہیں۔

 

📚 ماخذ:

 

بحارالانوار، ج40، ص300

کافی، ج7، ص249

فقه القرآن، ج2، ص379

روضة المتقین، ج16، ص343-344

تفسیر نور الثقلین، ج2، ص304

 

#بدر_علی 

#التماس_دعا

#تبدیلی_ممنوع 

#تعلیمات_اہلبیتؑ  

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2