Back to بیعت و خلافتِ شیخین

منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون

منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون
منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون
منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون
منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون
منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون
منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون
منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون

🔴 منافقین کا اہلِ بیتؑ کے گھر پر شبخون

 

📜 وَتَخَلَّفَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ، وَاخْتَرَطَ الزُّبَيْرُ سَيْفَهُ، وَقَالَ: لَا أَغْمِدُهُ حَتَّى يُبَايَعَ عَلِيٌّ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: خُذُوا سَيْفَ الزُّبَيْرِ، فَاضْرِبُوا بِهِ الْحَجَرَ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ، فَجَاءَ بِهِمَا تَعِبًا، وَقَالَ: لَتُبَايِعَانِ وَأَنْتُمَا طَائِعَانِ، أَوْ لَتُبَايِعَانِ وَأَنْتُمَا كَارِهَانِ، فَبَايَعَا.

 

تاریخ طبری کی روایت:

طبری نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ:

"علی اور زبیر نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا۔ زبیر نے اپنی تلوار کھینچ لی اور کہا:

'میں اس کو نیام میں نہیں رکھوں گا جب تک علی بیعت نہ کر لیں۔'

 

یہ خبر ابوبکر اور عمر تک پہنچی۔

عمر نے کہا: زبیر کی تلوار پکڑو اور اسے پتھر پر مارو 

 

پھر عمر ان دونوں کے پاس گیا، بڑی مشقت سے انہیں لے آیا اور کہا:

'تم دونوں یا تو خوشی سے بیعت کرو گے، یا ناپسندیدگی کے باوجود بیعت کرو گے!'

چنانچہ دونوں نے بیعت کر لی۔"

 

📚 تاریخ طبری، جلد 3، صفحہ 203

 

⭕ سند کی تحقیق

 

1️⃣ زکریا بن یحیی — صدوق (سچ بولنے والا)، حسن الحدیث۔

2️⃣ ابو عوانہ وضاح — ثقہ (قابلِ اعتماد) اور ثبت۔

3️⃣ داوود بن عبداللہ الاودی — ثقہ۔

4️⃣ حمید بن عبدالرحمن الحميری — تابعی بزرگ راوی۔

 

تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں، لہٰذا روایت موثق (قابلِ اعتماد) ہے۔

 

⭕ تصحیحِ سند پر ابن تیمیہ کا تبصرہ

 

ابن تیمیہ نے ایک مشابہ سند پر کہا:

 

📜 فَهَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ، وَلَعَلَّ حُمَيْدًا أَخَذَهُ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ شَهِدُوا ذَلِكَ

 

📃 "یہ ایک حسن مرسل روایت ہے، اور غالباً حمید نے یہ بات ان صحابہ سے لی ہے جو ان واقعات (سقیفہ کے وقت) کے گواہ تھے۔"

 

📚 منهاج السنة، جلد 1، صفحہ 526

 

⚖️ خلاصۂ تحقیق

 

تمام راوی ثقہ ہیں، اور ابن تیمیہ نے بھی اس روایت کے منقطع ہونے کے شبہے کو رد کیا، کیونکہ حمید بن عبدالرحمن تابعی تھے اور انہوں نے صحابہ سے یہ واقعہ سنا تھا۔

 

⚠️ اہم نکات

 

▪️ یہ روایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ:

 

1. حضرت علیؑ اور زبیرؓ نے ابوبکر کی بیعت سے اختلاف کیا۔

 

2. زبیرؓ نے تلوار کھینچ لی تھی اور آمادۂ جنگ تھے۔

 

3. عمر نے زبردستی ان دونوں کو بلوا کر بیعت لینے پر مجبور کیا۔

 

👈 دیگر روایات (جیسے روایتِ ہشام بن عمار، السنہ، تاریخ طبری وغیرہ) کے مطابق یہ واقعہ حضرت فاطمہؑ کے گھر میں پیش آیا۔

 

📚 تاریخ طبری، جلد 3، صفحہ 203

📚 منهاج السنة، جلد 1، صفحہ 526

 

۔

 

🔴 عمر بن خطاب کا بیان واقعۂ سقیفہ کے موقع پر:

 

عمر بن خطاب نے واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ کے دوران کہا تھا:

 

📜 "ہم اپنے مخالفین کو قتل کر دیں گے!"

 

یہ بات کتاب المغازی میں مذکور ہے، جو موسیٰ بن عقبہ کی تصنیف ہے۔

اہلِ سنت کے محدثین اور مورخین کے نزدیک "المغازی" از موسیٰ بن عقبہ،

رسولِ اکرم ﷺ کے غزوات اور ابتدائی اسلامی تاریخ پر لکھی گئی سب سے صحیح اور معتبر کتاب مانی جاتی ہے۔

 

▪️ لہٰذا اہلِ سنت کے معتبر ماخذ کے مطابق:

خلیفہ دوم عمر بن خطاب نے سقیفہ کے وقت خلافت کے مخالفین کے بارے میں

کھلم کھلا قتل کی دھمکی دی تھی،

تاکہ ابوبکر کی بیعت کو بزور طاقت منوایا جا سکے۔

 

📚 ماخذ:

 

المغازی از موسیٰ بن عقبہ (از قدیم‌ترین کتبِ سیر و تاریخ)

 

اہلِ سنت کے نزدیک صحیح ترین کتاب المغازی

 

⭕ خلاصہ:

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ سقیفہ میں خلافت کا فیصلہ مشورے یا اجماع سے نہیں،

بلکہ تلوار، دھمکی اور خوف کے ماحول میں ہوا تھا۔

 

۔

 

🔴 ڈاکٹر حسن فرحان المالکی سعودی عالم دین اور شروطِ صحتِ بیعت

 

علامہ مالکی اپنی کتاب "بیعة علی بن أبی طالب فی ضوء الروایات الصحیحة" (صفحه 50) میں فرماتے ہیں:

 

📜 شروط صحة البيعة:

٣ ـ أن يجيب المبايع إلى البيعة، 👈 ولا يُجبر عليها 👉

 

📃 "بیعت کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ بیعت کرنے والا خود اپنی رضامندی سے بیعت کرے، اور اسے زبردستی بیعت پر مجبور نہ کیا جائے۔"

 

▪️ اردو ترجمہ و توضیح:

 

شرط نمبر 3:

بیعت کرنے والا شخص دل کی رضا سے بیعت کرے،

اگر اسے زبردستی، خوف، دھمکی، یا دباؤ کے ذریعے بیعت پر مجبور کیا جائے تو ایسی بیعت شرعی اعتبار سے باطل ہے۔

 

📚 ماخذ: بیعة علی بن أبی طالب فی ضوء الروایات الصحیحة، حسن فرحان المالکی، ص 50، ام مالک الخالدی.

 

⚖️ استدلال:

 

اس اصول کی روشنی میں،

خلفائے اوّل (ابوبکر) کی بیعت کو اگر دیکھا جائے تو متعدد تاریخی مصادر (بشمول تاریخ طبری) اس بات پر متفق ہیں کہ:

 

حضرت علیؑ اور زبیرؓ نے بیعت رضامندی سے نہیں کی بلکہ

عمر کے دباؤ اور زبردستی کے نتیجے میں کی۔

 

خود عمر بن خطاب نے کہا:

 

📜 "اِنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ فَلْتَةً وَقَى اللَّهُ شَرَّهَا"

 

📃 ابوبکر کی بیعت اچانک اور بُرائی تھی، اللہ نے اس کے شر سے بچایا

 

📚 صحیح بخاری، کتاب الحدود، حدیث 6830

 

👈 یہ خود اعتراف ہے کہ بیعت سیاسی دباؤ اور اضطرار کے ماحول میں ہوئی، نہ کہ اجتماعی مشاورت یا قلبی رضا سے۔

 

⭕ نتیجہ

 

اہلِ سنت کے اصولی منہج کے مطابق بھی اگر:

 

بیعت اکراہ (زبردستی) سے ہو،

 

یا تقیہ (خوف یا سیاسی مصلحت) کے تحت کی جائے،

تو وہ بیعت شرعی نہیں، بلکہ باطل ہے۔

 

لہٰذا علامہ حسن فرحان المالکی کی تحقیق کے مطابق:

بیعتِ ابوبکر چونکہ تلوار، خوف اور جبر کے ماحول میں لی گئی، اہلِ سنت کے اپنے فقہی معیار کے مطابق بھی باطل بیعت شمار ہوتی ہے۔

 

بدر علی

 

#بدر_علی

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7