بلاذری نقل کرتے ہیں:
ابو بکر نے عمر بن خطاب کو حکم بھیجا جب علیؑ نے اپنی بیعت سے کنارہ کشی کی تو کہا: “اُنہیں سب سے سخت طریقے سے لا کر لاؤ۔”
ابو بکر نے عمر کو ہدایت کی کہ جاؤ اور علی بن ابی طالبؑ کو سب سے سخت اور دلخراش صورت میں بیعت کے لیے لایا جائے۔
📚 بلاذری، انساب الأشراف، جلد اوّل، ص 580
کیا یہ اسی انصاف کے مطابق ہے جو پیغمبر ﷺ نے بتائے تھے؟
پھر انھیں عبائیں جھکڑ کر، زبردستی کھینچا گیا تاکہ وہ ابوبکر کو بیعت کریں۔
علیؑ کو گھر سے باہر کھینچا گیا، ان کی عبا ان کے گلے میں لپیٹی گئی اور انہیں گھسیٹ کر بیعت کے لیے لے جایا گیا۔
📚 جوہری، السقيفة و فدک، ص 73
لوگ جمع ہوئے اور شہر کی گلیاں مردوں سے بھر گئیں۔
جب علیؑ کو گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف لے جایا گیا تو مدینہ کی گلیاں لوگوں سے بھر گئیں۔
📚 جوہری، السقيفة و فدک، ص 70
ابن قتیبہ دینوری فرماتے ہیں:
قی عمر ومعه قوم ، فأخرجوا علیا ، فمضوا به إلى أبو بکر ، فقالوا له : بايع ، فقال : إن أنا لم أفعل فمه ؟ قالوا : إذا والله الذي لا إله إلا هو نضرت عنقك
جب علیؑ کو گھسیٹتے ہوئے مسجد لایا گیا تو اُن سے کہا گیا کہ ابوبکر سے بیعت کرو۔ علیؑ نے پوچھا: “اگر میں بیعت نہ کروں تو کیا ہوگا؟” عمر نے کہا: “قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر تم بیعت نہ کرو تو ہم تمہاری گردن کاٹ دیں گے۔”
📕📚 ابن قتیبہ دینوری، الامامة و السیاسة، ص 12
کیا یہ انصاف ہے؟
کیا رسولِ اکرم ﷺ نے اسی طرح زبردستی کی ہوئی بیعت کا حکم دیا تھا؟
امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ نے فرمایا:
، قال : إذا تقتلون عبد الله وأخا رسوله ، قال عمر : أما عبد الله فنعم ، وأما أخو رسوله فلا ، وأبو بكر ساكت لا يتكلم ، فقال له عمر : إلا تأمر فيه بأمرك ، فقال : لا أكرهه على شئ ما كانت فاطمة إلى جنبه ، فلحق علي بقبر رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - يصبح ويبکي ، وينادي ( يا ابن أم إن القوم استضعفوني وكادوا یقتلوننی )
اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو تم نے ایک بندے اور رسولِ اللہ کے بھائی کو قتل کیا ہوگا۔ عمر نے کہا: “عبد اللہ (قتل) تو ٹھیک ہے، مگر رسول کا بھائی نہیں!” اور ابوبکر خاموش رہا۔ عمر نے ابوبکر سے کہا: “کیا تم حکم نہیں کرو گے؟” ابوبکر نے کہا: “میں اسے کسی چیز پر مجبور نہیں کرتا جب تک فاطمہ اس کے پاس ہے۔”
پھر علیؑ رسولِ اللہ ﷺ کے قبر کی طرف گئے، صبح گئے، روئے اور پکارے: “اے بی بی کے بیٹے! لوگوں نے مجھے کمزور کر دیا اور مجھے قتل کرنے کی کوشش کی۔”
اگر تم مجھے مارو گے تو تم نے ایک بندے اور رسولِ اللہ کے بھائی کو قتل کیا ہے۔ عمر نے کہا: “عبد اللہ تو شاید، مگر رسول کا بھائی نہیں۔” ابوبکر خاموش رہا اور عمر نے کہا کہ حکم دے مگر ابوبکر نے کہا کہ فاطمہ کے موجود ہونے تک وہ علیؑ کو زور نہیں دیں گے۔ علیؑ پھر قبرِ رسولؐ کے پاس گئے، رونے اور پکارنے لگے کہ اے نبی! یہ لوگ مجھے کمزور کر رہے ہیں اور آج مجھے مارنے آئے ہیں۔
📚 ابن قتیبہ دینوری، الامامة و السیاسة، باب: کیف کانت بیعة علی
۔
🔴 امام علی علیہ السلام سے جبراً بیعت کروانے کی کوشش
عربی متن
أخبرنا عبد الله بن الحسن الإيوازي بإسناده عن عدي بن حاتم، قال: قالوا لأبي بكر : قد بايعك الناس كلهم إلا هذان الرجلان علي بن أبي طالب والزبير بن العوام.
فأرسل إليهما، فأتي بهما وعليهما سيفاهما، فأمر بسيفيهما فأخذا، ثم قيل للزبير: بايع.
قال: لا أبايع حتى يبايع علي.
فقيل لعلي بايع.
قال: فإن لم أفعل فمه !؟
فقيل له: يضرب الذي فيه عيناك.
ومدوا يده، فقبض أصابعه ثم رفع رأسه إلى السماء وقال: اللهم اشهد.
فمسحوا يده على يد أبي بكر، فأما سيف الزبير فإنهم كسروه بين حجرين، وأما سيف علي فردوه عليه۔
اردو ترجمہ
ہمیں عبداللہ بن الحسن الایوازی (شاگرد امام زیدیہ الناصر للحق الحسن بن علی الأطروش) نے اپنی سند کے ساتھ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا:
لوگوں نے جناب اول سے کہا: "تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی ہے سوائے ان دو آدمیوں کے: علی بن ابی طالب (علیہ السلام) اور جناب زبیر بن عوام۔"
چنانچہ انہوں نے ان دونوں کی طرف قاصد بھیجا، تو انہیں لایا گیا تو ان دونوں کی تلواریں ان کے ساتھ تھیں۔ آپ (جناب اول) نے ان کی تلواروں کو لے لینے کا حکم دیا تو وہ لے لی گئیں۔
پھر جناب زبیر سے کہا گیا: "بیعت کرو۔"
انہوں نے کہا: "میں ہرگز بیعت نہیں کروں گا جب تک کہ علی (علیہ السلام) بیعت نہ کریں۔"
تو علی (علیہ السلام) سے کہا گیا: "بیعت کرو۔"
انہوں نے فرمایا: "اگر میں بیعت نہ کروں تو کیا ہوگا؟"
انہیں کہا گیا: "جس میں تمہاری آنکھیں ہیں، اس کو مارا جائے گا۔" (اس سے مراد ان کی گردن ہے۔)
پھر انہوں نے ان کا ہاتھ آگے بڑھایا، تو انہوں (یعنی علی علیہ السلام) نے اپنی انگلیاں بند کر لیں۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا: "اے اللہ! گواہ رہنا۔"
پھر لوگوں نے ان کا ہاتھ جناب اول کے ہاتھ پر پھیرا۔(یعنی بیعت مکمل کی)۔
جہاں تک جناب زبیر کی تلوار کا تعلق ہے، تو لوگوں نے اسے دو پتھروں کے درمیان رکھ کر توڑ دیا، اور جہاں تک علی (علیہ السلام) کی تلوار کا تعلق ہے، تو وہ انہیں واپس کر دی گئی۔
📚 حوالہ: المصابيح في سيرة الرسول وآل البيت, از امام زیدیہ امام أبو العباس أحمد بن إبراهيم الحسني (المتوفى: 356 هـ)، صفحہ: 259.
۔
📌ابن قتیبہ دینوری (تیسری صدی ہجری کے عالم) روایت کرتے ہیں:
📒 حضرت علیؓ کو مسجد میں لایا گیا، اور ان سے کہا گیا کہ ابوبکر کی بیعت کریں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں بیعت نہ کروں تو کیا ہوگا؟
انہوں نے کہا: خدا کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں، ہم تمہاری گردن مار دیں گے۔ ❗️
حضرت علیؓ نے فرمایا: اس صورت میں تم نے اللہ کے بندے اور رسول کے بھائی کو قتل کر دیا ہوگا۔
عمرؓ نے کہا: ہم اللہ کے بندے ہونے کو مانتے ہیں، لیکن رسول کا بھائی ہونے کو نہیں مانتے۔
📚 حوالہ:
الامامہ والسیاسہ، جلد 1، صفحہ 30
Invisibleislam.com
موضوع جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
Gallery
Tap any image to view full screen