Back to بیعت و خلافتِ شیخین

عمر بن خطاب کا بیان واقعۂ سقیفہ کے موقع پر

عمر بن خطاب کا بیان واقعۂ سقیفہ کے موقع پر
عمر بن خطاب کا بیان واقعۂ سقیفہ کے موقع پر
عمر بن خطاب کا بیان واقعۂ سقیفہ کے موقع پر

🔴 عمر بن خطاب کا بیان واقعۂ سقیفہ کے موقع پر:

 

عمر بن خطاب نے واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ کے دوران کہا تھا:

 

📜 "ہم اپنے مخالفین کو قتل کر دیں گے!"

 

یہ بات کتاب المغازی میں مذکور ہے، جو موسیٰ بن عقبہ کی تصنیف ہے۔

 

اہلِ سنت کے محدثین اور مورخین کے نزدیک "المغازی" از موسیٰ بن عقبہ، رسولِ اکرم ﷺ کے غزوات اور ابتدائی اسلامی تاریخ پر لکھی گئی سب سے صحیح اور معتبر کتاب مانی جاتی ہے۔

 

▪️ لہٰذا اہلِ سنت کے معتبر ماخذ کے مطابق:

خلیفہ دوم عمر بن خطاب نے سقیفہ کے وقت خلافت کے مخالفین کے بارے میں کھلم کھلا قتل کی دھمکی دی تھی،

تاکہ ابوبکر کی بیعت کو بزور طاقت منوایا جا سکے۔

 

📚 المغازی از موسیٰ بن عقبہ (از قدیم‌ترین کتبِ سیر و تاریخ)

 

✅ اہلِ سنت کے نزدیک صحیح ترین کتاب المغازی

 

⭕ خلاصہ:

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ سقیفہ میں خلافت کا فیصلہ مشورے یا اجماع سے نہیں،

بلکہ تلوار، دھمکی اور خوف کے ماحول میں ہوا تھا۔

 

۔

 

🔴 ڈاکٹر حسن فرحان المالکی سعودی عالم دین اور شروطِ صحتِ بیعت

 

علامہ مالکی اپنی کتاب "بیعة علی بن أبی طالب فی ضوء الروایات الصحیحة" (صفحه 50) میں فرماتے ہیں:

 

📜 شروط صحة البيعة:

٣ ـ أن يجيب المبايع إلى البيعة، 👈 ولا يُجبر عليها 👉

 

📃 "بیعت کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ بیعت کرنے والا خود اپنی رضامندی سے بیعت کرے، اور اسے زبردستی بیعت پر مجبور نہ کیا جائے۔"

 

▪️ اردو ترجمہ و توضیح:

 

شرط نمبر 3:

بیعت کرنے والا شخص دل کی رضا سے بیعت کرے،

اگر اسے زبردستی، خوف، دھمکی، یا دباؤ کے ذریعے بیعت پر مجبور کیا جائے تو ایسی بیعت شرعی اعتبار سے باطل ہے۔

 

📚 ماخذ: بیعة علی بن أبی طالب فی ضوء الروایات الصحیحة، حسن فرحان المالکی، ص 50، ام مالک الخالدی.

 

بدر علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3