امام زین العابدینؑ کی والدہ
شہربانویہ بنت یزدجرد بن شہریار بن کسریٰ — انہیں “شاہِ زنان” بھی کہا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
میں نے مسلمانوں کے لشکر کے آنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ رسولِ خدا محمد ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے، امام حسینؑ بھی ساتھ تھے۔ رسولِ خدا ﷺ نے میرا نکاح حسینؑ سے پڑھایا۔ جب میں بیدار ہوئی تو یہ بات میرے دل پر بہت اثر انداز ہوئی، اور میرے دل میں اس کے سوا کوئی خیال نہ رہا۔
پھر دوسری رات میں نے دیکھا کہ فاطمہ بنتِ محمد ﷺ میرے پاس آئیں، مجھے اسلام کی دعوت دی، تو میں مسلمان ہو گئی۔ پھر انہوں نے فرمایا: مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگا، اور تم بہت جلد میرے بیٹے حسینؑ کے پاس پہنچو گی، سلامت رہو گی اور کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔
انہوں نے کہا: چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ میں مدینہ پہنچی، اور کسی انسان کا ہاتھ مجھے نہیں لگا۔
امیرالمؤمنینؑ نے ان کا نام “مریم” رکھا، اور کہا جاتا ہے کہ انہیں “فاطمہ” بھی کہا۔ نیز روایت ہے کہ حضرت علیؑ نے امام حسینؑ کو ان کے بارے میں وصیت فرمائی:
“شہربانویہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، کیونکہ وہ پسندیدہ ہے، اور تمہارے بعد روئے زمین کے بہترین انسان کو جنم دے گی۔”
اور ایک دوسرے موقع پر فرمایا:
“یہ اوصیاء کی ماں ہیں، پاکیزہ نسل کی بنیاد۔”
نسب
شہر بانو کے باپ کے نام کے متعلق مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے ۔[1] اکثر تاریخی روایات میں ساسانی سلسلہ کے آخری بادشاہ یزدگر کو اس کا باپ سمجھتے ہیں، تیسرے قرن میں یعقوبی[2]، نوبختی، اشعری قمی، حسن بن محمد قمی،[3]ابن ابی ثلج بغدادی،[4]ابن حیون[5] اور خلیفہ ابن خیاط[6] اس کے معتقد ہیں جبکہ چوتھی صدی میں کلینی،[7] شیخ مفید[8] اور شیخ صدوق[9] نے بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔انکے بعد بہت سے مؤرخین اور محدثین نے انکی پیروی کرتے ہوئے امام سجاد کی والدہ کو یزدگر کی بیٹی شہر بانو کہا ہے ۔
شیخ مفید نے اپنی کتاب مقنعہ[10] اور شیخ طوسی نے تہذیب[11] میں بھی اسی کو ذکر کیا ہے۔ لیکن بعض مؤرخین اور محدثین نے امام سجاد کی والدہ کو صرف ایرانی خاتون کہا ہے اور ان کے باپ کا نام یزدگر کے علاوہ کوئی اور ذکر کیا ہے۔
مجمل التواریخ والقصص میں مختلف روایات کے ضمن میں شہر بانو کے باپ کا نام سنجان ملک فارس ذکر ہوا ہے ۔[12]
ابن شہر آشوب نے مناقب میں مختلف نظریات بیان کرنے کے بعد سجاد کی والدہ کو نوشجان کی بیٹی کہا ہے۔[13] اربلی نیز ابن خشاب سے نقل کرتا ہے کہ اس کا باپ نوشجان ہے[14]
امام حسین(ع) سے ازدواج
جنہوں نے شہر بانو کی شادی امام حسین سے ذکر کی ہے وہ واقعے کے نقل میں بھی اتفاق نظر نہیں رکھتے ہیں۔ وہ اس شادی کا زمانہ شہر بانو کے مدینے آنے کے وقت کو ذکر کرتے ہیں لیکن مدینے آنے کا کون سا زمانہ ہے:
زمان حکومت عمر: وہ منابع جو ازدواج امام حسین(ع) یزدگرد کی بیٹی سے شادی کا زمانہ خلیفہ دوم ذکر کرتے ہیں وہ: کلینی،[15] یعقوبی [16]زمخشری، مسعودی کتاب اثبات الوصیہ،[17] ثقفی کوفی.[18] ہیں۔
زمان حکومت عثمان: صدوق نے عیون اخبار الرضا[19] ذکر کیا۔
زمان حکومت حضرت علی(ع): علماء کا ایک گروہ اس شادی کو حضرت علی(ع) کے زمانے میں سمجھتا ہے۔ مثلا شیخ مفید[20] فتال نیشابوری[21] طبرسی،[22][23]اربلی،[24]
مادر امام سجاد
اکثر قدیم منابع امام سجاد(ع) کی والدہ ماجدہ کو یزدگرد ساسانی کی بیٹی سمجھتے ہیں لیکن ان کے نام میں اختلاف نظر رکھتے ہیں:
شہربانو: صدوق[25][26] طبرسی تاج الموالید[27]، مفید نے ارشاد میں احتمال کے ساتھ ذکر کیا ہے .[28]صفار،[29]
طبری[30]، ابنطاووس[31]،ابن ابی الثلج بغدادی[32]و ابن داود[33] نیز تاریخ قم سے بھی اسی کا استفادہ ہوتا ہے کہ اسکا ابتدائی نام شہر بانو تھا ۔[34] اربلی بھی چند اسما کے بعد شہر بانو کے نام کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
سلامہ: کلینی[35] و ابن کثیر،[36]البتہ تاریخ قم میں سلامہ لکھا ہے ۔[37]
سلافہ: بلاذری اسے سجستان کے اہالیوں میں سے سمجھتا ہے ۔[38]
جہانشاه: مسعودی[39] اور مفید مقنعہ[40]
شاه زنان: مفید ارشاد[41] اور طبرسی اعلام الوری[42] میں شاه زنان ذکر کرتے ہیں اگرچہ شہر بانو کا اسم احتمال کے طور منقول ہے لیکن فتال نیشابوری ابتدا شاه زنان پھر دیگر احمالات ذکر کرتا ہے ۔[43] ثقفی کوفی امام سجاد کی والدہ با نام شاه زنان لکھتا ہے ۔[44]
شہر ناز: مجمل التواریخ والقصص نے انہیں شہر ناز کہا ہے ۔[45]
حرار: یعقوبی کہتا ہے: ان کا نام حرار تھا جسے عزالہ میں تبدیل کیا گیا.[46]
دیگر نے امام سجاد کی والدہ کنیز ذکر کی ہے ۔
نقد و نظر
اگرچہ بہت سے مؤرخین شهر بانو کو امام سجاد کی والدہ اور یزدگر کی بیٹی کے طور پر ذکر کرتے ہیں لیکن دور حاضر کے محققین اس میں تردید کا شکار ہیں۔ مطہری،[47] شریعتی،[48] دہخدا،[49] شہیدی،[50] تقی زاده،سعید نفیسی و کریسٹن سن ان محققین میں سے ہیں جو اس سے اختلاف نظر رکھتے ہیں ۔یوسفی غروی، اگرچہ اس میں تردید رکھتے تھے لیکن بعد میں مشہور(شہربانو) کے موافق ہو گئے ۔[51]
سید جعفر شہیدی نے کتاب زندگانی علی بن الحسین میں اس واقعے کی تفصیل سے بحث ذکر کی ہے اور اسے رد کیا ہے ۔[52]
دلائل تردید
بعض تاریخی تحقیقات امام سجاد(ع) کی والدہ کو سیستان اور سِند یا کابل کی ایک کنیز سمجھتی ہیں ۔[53]
کسی مؤرخ نے بھی شہر بانو نام کی بیٹی آخری بادشاه ساسانی کے لئے ذکر نہیں کی ہے۔[54] صرف مسعودی نے یزدگرد کیلئے تین بیٹیوں کے نام آدرک، شاہین و مردآوند ذکر کی ہیں۔ [55]
یہ ایرانی شہزاده تیسری صدی میں بنی ہاشم کیلئے جانی پہچانی شخصیت نہیں تھا۔ منصور دوانیقی نے محمد بن عبدالله (نفس زکیہ) کو خط میں لکھا: رسول خدا(ص) کی رحلت کے بعد علی بن الحسین(ع) سے زیادہ بزرگ شخصیت تمہارے خاندان میں کوئی پیدا نہیں ہوئی اور ان کی والدہ بھی ام ولد (کنیز) تھیں.[56]
سید جعفر شہیدی اسکے متعلق لکھتا ہے:
منصور نے ام ولد کا لفظ محمد بن عبدالله ( نفس زکیہ) کی تحقیر کیلئے استعمال کیا ہے۔ یہ خط امام سجاد کی شہادت کے نصف صدی بعد لکھا گیا ہے کہ جس زمانے میں بہت سے ہاشمی زندہ تھے۔ اگر شہر بانو کی داستان درست ہوتی تو وہ ایسی تعبیر استعمال نہ کرتا اور اگر اس نے جھوٹ لکھا ہوتا تو محمد قاطعیت کے ساتھ اسے جواب دیتا کہ ان کی والدہ کنیز نہیں بلکہ شہزادی تھی ۔[57]
دہخدا کے مطابق تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ داستان واقعیت نہیں رکھتی ہے اور یزدگر کی شہر بانو نام کی کوئی بیٹی نہیں تھی۔ نیز حقیقت میں شہر بانو کی داستان ربیع الابرار زمخشری اور قابوس نامہ سے لی گئی ہے۔[58]
یوسفی غروی نے کہا: یعقوبی کی بات سند کے بغیر ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں نیز یعقوبی کا ذکر کردہ نام حرار ایران کے قدیمی ناموں کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا ہے، کافی کی روایت کو عمرو بن شمر کا نام سند میں ہونے کی وجہ قبول نہیں کرتا کیونکہ نجاشی نے اس کی تضعیف کی ہے، شیخ صدوق کی بات سہل بن قاسم نوشجانی کی وجہ سے درست نہیں چونکہ وہ مجہول ہے لہذا ان اسباب کی وجہ سے یوسفی غروی کی نگاہ میں بھی یہ داستان قابل قبول نہیں تھی؛ لیکن دوبارہ تحقیق میں شہر بانو، یزدگرد کی بیٹی ہونے کو قبول کیا ہے.[59]
وفات
اکثر مؤرخین کے مطابق امام سجاد(ع) کی والدہ ان کی ولادت کے وقت فوت ہو گئیں تھیں۔[60]
ابن سعد قائل ہے کہ امام حسین(ع) کے بعد شہر بانو زندہ تھیں اور انہوں نے زُیَید (زید کی تصغیر) نے شادی کی جو امام کے غلاموں سے تھا اور اس سے ایک بیٹا عبداللہ پیدا ہوا۔اسی وجہ سے عبداللہ ماں کی طرف سے امام کا بھائی ہے۔ (طبقات کبری، ج۵، ص۱۶۳)یہ مطلب یہاں سے پیدا ہو کہ شہر بانو کی وفات کے بعد وشیکہ نام کی ایک دایہ تھی جسے امام سجاد ماں کہہ کر بلاتے تھے۔(الرجال (لابن داود)، ص ۳۷۲) مسعودی نیز مطلب کے بیان کرنے کے بعد کہتا ہے: جب امام بڑے ہوگئے تو امام نے اس دایہ کی شادی اپنے ایک غلام سے کر دی۔اسی بنا پر بنی امیہ امام سے مسخرہ کرتے ہوئے کہتے علی بن الحسین نے اپنی ماں کی شادی اپنے ایک غلام سے کردی۔(اثبات الوصیہ، ص: ۱۷۰)}}
بعض نہایت ہی ضعیف نقل کے مطابق شہر بانو واقعہ عاشورا کے بعد کربلا سے بلا فاصلہ ایران کی طرف چلی گئیں اور ری کے نزدیک پہاڑ کے دامن میں ناپدید ہو گئی۔[61] آج کل شہر ری کے نزدیک ایک مقبرہ ان سے منسوب ہے۔
حوالہ جات
1: یوسفی غروی، ص۱۵
2: تاریخ الیعقوبی،ج۲،ص:۲۴۷
3: تاریخ قم،ص:۱۹۶
4: تاریخ أہل البیت نقلا عن الأئمة علیهم السلام، ص: ۱۲۱
5: شرح الأخبار فی فضائل الأئمۃ الأطہار علیہم السلام، ج۳، ص ۲۶۶
6: تاریخ خلیفة،ص:۲۴۰
7: الکافی (ط - الإسلامیہ)، ج۱، ص ۴۶۶؛
8: کمال الدین و تمام النعمہ، ج۱، ص ۳۰۷؛
9: عیون أخبار الرضا علیہ السلام، ج۱، ص ۴۱؛
10: المقنعۃ، ص: ۴۷۲
11: تہذیب الأحکام (تحقیق خرسان)، ج۶، ص: ۷۷
12: مجمل التواریخ والقصص،متن،ص:۴۵۶
13: مناقب آل أبی طالب علیہم السلام (لابن شہرآشوب)، ج۴، ص: ۱۷۶
14: کشف الغمہ فی معرفۃ الأئمہ (ط - القدیمہ)، ج۲، ص: ۱۰۵
15: کافی، ج۱ص ۴۶۷
16: تاریخ یعقوبی،ج۲ص۳۰۳
17: اثبات الوصیہ، ص: ۱۷۰
18: الغارات (ط - الحدیثہ)، ج۲، ص: ۸۲۵
19: صدوق، عیون اخبار الرضا، جزء دوم، ص۱۲۸، ح ۶
20: مفید، ارشاد ج۱ص ۱۳۷
21: روضۃ الواعظین، ص۳۳۲
22: تاج الموالید. ص۸۹
23: اعلام الوری باعلام الہدی، ج۱ص۴۸۰
24: کشف الغمہ ج۲ص ۸۳
25: عیون أخبار الرضا علیہ السلام، ج۱، ص: ۴۱
26: کمال الدین و تمام النعمہ، ج۱، ص: ۳۰۷
27: تاج الموالید، ص: ۸۸
28: الإرشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، ج۲، ص: ۱۳۷
29; بصائر الدرجات، ج۱ص ۳۳۵
30: دلائل الامامہ،ص۱۹۵
31: التشریف بالمنن، فی التعریف بالفتن، صص۳۷۳
32: تاریخ ائمہ نقلا علی الائمہ...، ۳۲۵
33: الرجال (لابن داود)، ص: ۳۷۲
34: تاریخ قم،ص:۱۹۷
35: الکافی (ط - دارالحدیث)، ج۲، ص: ۵۱۲
36: البدایہ والنہایہ، ج۹ص۱۰۴
37: تاریخ قم،ص:۱۹۷
38: انساب الاشراف، ج۳ص ۱۰۲
39: اثبات الوصیہ، ص: ۱۷۰
40: المقنعہ، ص: ۴۷۲
41: الإرشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، ج۲، ص: ۱۳۷
42: طبرسی إعلام الوری بأعلام الہدی (ط - القدیمہ)، النص، ص: ۲۵۶
43: روضۃ الواعظین و بصیرة المتعظین (ط - القدیمہ)، ج۱، ص: ۲۰۱
44: الغارات (ط - الحدیثہ)، ج۲، ص: ۸۲۵
45: مجمل التواریخ والقصص،ص۴۵۶
46: یعقوبی، ج ۲ص ۲۴۶
47: مطہری خدمات متقابل اسلام و ایران، صص۱۳۱ -۱۳۳
48: شریعتی، تشیع علوی و تشیع صفوی، ص۹۱
49: لغت نامہ دہخدا
50: زندگانی علی ابن الحسین(ع)، ص۱۲
51: حول سیده شہربانو، ص ۲۰ و نیز موسوعۃ التاریخ الاسلامی، ج4، ص357 و 652
52: شہیدی، زندگی حسین بن علی، ص۱۲- ۲۷
53: مجلسی، بحارالانوار، ج۴۶، صص۹
54: زندگانی علی ابن الحسین(ع)، ص۱۲
55: مروج الذہب،ج۱،ص::۳۱۴
56: طبری، تاریخ طبری، ج۶، ص۱۹۸۸.
57: شہیدی، زندگانی علی بن الحسین، تہران، دفتر نشر فرہنگ، ۱۳۶۵، ص۲۴
58: قابوس نامه باب ۲۷ ص۱۴۴
59: حول السیده شہر بانو،ص۲۸ و نیز موسوعہ التاریخ الاسلامی، ج4، ص357 و 652
60: مسعودی، اثبات الوصیہ، ص۱۴۵؛ الرجال (لابن داود)، ص: ۳۷۲
61: شہیدی، زندگی علی بن حسین، ص ۲۷