Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ

بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4

بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-4
🔴 شہربانو اور ساسانی سلطنت کی میراث:
📜 روایات کے مطابق، یزدگرد سوم کے بیٹے پیروز کی ایک بیٹی نے امام زین العابدین (علیه‌السلام) سے شادی کی۔ اس کے نتیجے میں، علویوں نے نہ صرف پیغمبر اسلام اور امام علی (علیهماالسلام) کی وراثت حاصل کی، بلکہ ایک قانونی و شاہی خاندان (ساسانیان) کی میراث بھی اپنے اندر جمع کر لی۔
لوگ پہلے ہی حضرت فاطمہ (سلام‌الله‌علیها) کے معاملے میں اس تصور کے عادی ہو چکے تھے کہ بیٹیاں نسل اور نسب کے تسلسل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایرانیوں کی نظر میں یہ کوئی مانع یا غیر معمولی بات نہ تھی۔
📚 Iran in the Early Islamic Period
🔴 امام سجاد (ع) اور بی‌بی شہربانو کا شجرۂ نسب:
📜 شجرۂ نسب کے مطابق، جو امام زین العابدین علیہ‌السلام (امامِ چہارم شیعیان) کے بارے میں مرتب کیا گیا ہے، بی‌بی شهربانو، ساسانی بادشاہ یزدگرد سوم کی دختر، امام سجاد علیہ‌السلام کی محترم والدہ تھیں۔
📚 The Karbala
🔴 بی‌بی شہربانو اور واقعۂ کربلا
📜 موجودہ تاریخی ماخذوں کے مطابق، اگرچہ بی‌بی شہربانو واقعۂ کربلا میں موجود نہیں تھیں، لیکن انہیں محض ایک افسانوی شخصیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شیخ مفید (دسویں صدی کے معروف شیعہ عالم و سوانح نگار) کے بیان کے مطابق، بی‌بی شہربانو امام زین العابدین علیہ‌السلام کی والدہ تھیں۔ تاہم بعض محققین نے اس حقیقت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں کی روایت افسانہ سازی اور خرافات سے وابستہ تھی۔ درحقیقت یہ ایک تاریخی و اسلامی روایت پر مبنی سچا واقعہ ہے۔
اگرچہ بی‌بی شہربانو ایک حقیقی و تاریخی شخصیت تھیں، مگر مؤرخین نے ان سے متعلق بعض افسانوی حکایات بھی نقل کی ہیں۔ مثلاً بعض داستانوں میں ان کے واقعۂ عاشورا میں موجود ہونے اور شہر ری کے پہاڑ کی طرف فرار کا ذکر ملتا ہے — جو غالباً ایک زرتشتی داستان سے ماخوذ ہے۔ اسی وجہ سے آج بعض شبہات پائے جاتے ہیں، تاہم شہر ری میں موجود مزار واقعی بی‌بی شہربانو سے منسوب ہے، اگرچہ وہاں ان کی تدفین کے حالات افسانوی روایات سے مختلف ہیں۔
📚 Horse of Karbala

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8