Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ
بی بی شہربانو کے نام اور وجود پر تاریخ میں متعدد اعتراضات پر رد post-3
اسلامی متون کے مطابق بی بی شہبانو سو (100) کنیزوں کے ہمراہ حضرت علی بن ابی طالبؑ کی خدمت میں آئیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی اسیری اکیلے نہیں بلکہ عورتوں کے ایک گروہ کے ساتھ ہوئی تھی۔ اسیری کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک شہزادی ہیں۔
بی بی شہبانو اور امام حسینؑ کے ازدواج سے امام سجادؑ پیدا ہوئے، اور یہ بات تاریخ میں کثرت سے منقول ہے۔
شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کی مختلف شاخیں بی بی شہبانو کے وجود پر متفق ہیں، اگرچہ ان کے بارے میں روایات مختلف ہیں مگر جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ بی بی شہبانو کا وجود تاریخی طور پر ثابت ہے۔
تاریخِ قم کے حوالے سے بی بی شہبانو کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ہیں بعض کہتے ہیں کہ وہ ولادت کے وقت وفات پا گئیں مگر جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ بی بی شہبانو امام سجادؑ کی والدہ تھیں۔
یہ کتاب مختلف روایات اور مآخذ پر مبنی ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بی بی شہبانو کی روایت فارسیوں کے درمیان عام اور معروف تھی۔
اسی طرح بہت سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ شہبانو کی اسیری عثمان کے دور میں مشرقی علاقوں جیسے مرو یا سندھ میں ہوئی۔
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف ماخذ میں شہربانو کا نام سُلافہ، غَزالہ اور جعدہ کے طور پر بھی آیا ہے۔ ایرانیوں کے درمیان وہ شہربانو کے نام سے معروف تھیں، جبکہ عربوں میں ان کے دوسرے نام مشہور تھے۔
اسی طرح شہربانو کا نسب نامہ بھی عربوں کے لیے واضح طور پر محفوظ تھا، جو خُداینامہها (قدیم ایرانی تاریخی کتابوں) کی بنیاد پر لکھا گیا اور ایک مستند و تاریخی سند سمجھا جاتا ہے۔
حضرت علی بن ابی طالبؑ نے بی بی شہبانو کے لیے امام حسینؑ کا انتخاب کیا، اور انہی کے بطن سے علی بن حسینؑ یعنی امام سجادؑ کی ولادت ہوئی۔
بی بی شہبانو کی وفات کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں بعض کہتے ہیں کہ وہ ولادت کے وقت وفات پا گئیں، جبکہ بعض کے مطابق وہ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد طبعی موت سے دنیا سے رخصت ہوئیں۔
کتاب منتقل آلِ ابی طالب، جو ابن شہر آشوب (مازندرانی مؤرخ) نے تحریر کی، شیعہ و سنی دونوں مکاتب میں ایک معتبر ماخذ شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کے چوتھے جلد میں ائمہ کے نسب، تاریخِ زندگی اور سوانح کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے، اور اسے ایک نہایت معتبر تاریخی ماخذ مانا جاتا ہے۔
روایات کے مطابق، شہبانو کا اصل نام جہان بانویہ تھا، اور حضرت علیؑ نے ان کا نام شہبانو اور ان کی بہن کا نام مروارید (مرداوند) رکھا۔
اسی طرح، مختلف کتب میں شہبانو کے دیگر نام بھی ملتے ہیں جیسے سُلافہ، غَزالہ اور سلامہ۔ مگر تمام ماخذ اس بات پر متفق ہیں کہ بی بی شہبانو مشرقی علاقوں میں اسیر ہوئیں، وہ یزدگرد کی بیٹی تھیں، اور اسیری کے بعد امام حسینؑ کے نکاح میں آئیں اور امام سجادؑ کو جنم دیا۔
بعض لوگوں نے امام سجادؑ کو تحقیر کرنے کی نیت سے شہبانو کو اُمِّ ولد، سیستانی، ہندی وغیرہ جیسے القاب سے پکارا، جو کہ اموی خطوط میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
جبکہ دیگر روایات میں انہیں صرف شاہدخت (شہزادی) کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ کتاب الدر النّظیم ایک سید سید بن طاووس کی اجازت سے لکھی گئی، جو خود ساداتِ علویہ میں سے تھے، اور اس اجازت نے بی بی شہبانو کی روایت کو مزید تاریخی اعتبار اور مضبوطی بخشی۔
Gallery
Tap any image to view full screen