Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں چند نکات

1⃣ ولادت اور وفات:
قدیم منابع میں ان کی ولادت اور وفات کی تاریخ کا ذکر نہیں ملتا، لیکن بعد کے منابع میں بغیر کسی ماخذ کے، ان کی ولادت کو یکم ذیقعدہ بیان کیا گیا ہے۔
📚 نمازی مستدرک سفینة البحار، جلد 8، صفحہ 261
🍃🌸🍃🌸🍃🌸🍃🌸🍃
2⃣ والدین:
ان کے والد بزرگوار حضرت امام کاظم علیہ السلام ہیں، جن کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"میرے بیٹے موسیٰ کے ساتھ نیکی کرو، بے شک وہ میری اولاد میں سب سے افضل ہے اور میرے بعد میرا جانشین اور اللہ کی تمام مخلوقات پر اس کی حجت ہے۔"
📚 الارشاد، شیخ مفید، جلد 2، صفحہ 220
ان کی والدہ ایک کنیز تھیں، جن کا نام نجمہ یا تکتم تھا۔ ان کی عظمت کے متعلق ایک روایت میں آیا ہے کہ جب انہیں خریدا گیا تو ایک اہلِ کتاب خاتون نے کہا:
"یہ لڑکی تمہارے لائق نہیں، اسے زمین کے سب سے بہترین انسان کے لیے ہونا چاہیے۔ کچھ عرصے بعد، وہ ایک ایسا بیٹا جنم دے گی جس کی مشرق و مغرب میں کوئی مثال نہیں ہوگی۔"
📚 الکافی، کلینی، جلد 1، صفحہ 486
🔅 محمد بن جریر طبری شیعی کے مطابق، حضرت امام رضا علیہ السلام اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ایک ہی تھیں۔
📚 دلائل الامامہ، صفحہ 309
🍃🌸🍃🌸🍃🌸🍃🌸🍃
3⃣ معصومین علیہم السلام کے اقوال میں مقام:
✅ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"قم میں میری ایک بیٹی دفن ہوگی، جس کا نام فاطمہ ہوگا، جو بھی اس کی زیارت کرے گا، اس پر جنت واجب ہو جائے گی۔"
(یہ فرمان امام کاظم علیہ السلام کی ولادت سے پہلے دیا گیا تھا)
📚 بحار الانوار، جلد 57، صفحہ 217
✅ امام رضا علیہ السلام سے سعد اشعری نے سوال کیا:
"حضرت فاطمہ بنت موسیٰ علیہا السلام کی زیارت کا ثواب کیا ہے؟"
امام علیہ السلام نے فرمایا: "جو بھی ان کی زیارت کرے، اس کا ثواب جنت ہے۔"
✅ امام جواد علیہ السلام نے فرمایا:
"جو بھی میری پھوپھی کی قبر کی زیارت کرے، اس کا ثواب جنت ہے۔"
✅ عبدالجلیل رازی نے نقل کیا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک قم کی طرف کھلتا ہے، وہاں میری ایک بیٹی فاطمہ بنت موسیٰ دفن ہوگی، اور اس کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔"
📚 النقض، تحقیق حسینی ارموی، صفحہ 165
🍃🌸🍃🌸🍃🌸🍃🌸🍃
4⃣ زیارت نامہ میں درجات:
🔹 شفاعت:
"اے فاطمہ! جنت میں میری شفاعت فرما، بے شک تمہارا اللہ کے ہاں ایک بلند مقام ہے۔"
🔹 محورِ محبت و بیزاری:
"میں اللہ کا قرب تمہاری محبت اور تمہارے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے حاصل کرتا ہوں۔"
🔹 عاقبت بخیری کا ذریعہ:
"اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا انجام سعادت پر ہو۔"
.
.
.
.
.
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا نام
سمّى الإمام الكاظم عليه السلام ابنته وفلذة كبده "فاطمة"، وذلك تيمُّنًا باسم جدته الصديقة الكبرى فاطمة الزهراء عليها السلام سيدة نساء العالمين، مسدّدًا من الله تعالى كما هو شأن الإمامة الإلهية، حيث سمّيت بهذا الاسم في السماء قبل أن تحلّ ضيفةً على أهل الأرض، فالإمام الصادق عليه السلام قبل ولادتها بل قبل ولادة أبيها، نطق باسمها وبشّر الناس بسيدةٍ تأتي من بعده اسمها "فاطمة" حيث قال: « … ولنا حرمًا وهو قم، وستدفن فيه امرأة من ولدي تسمى فاطمة»(١)، وهذا من أصدق الدلائل وأوضحها في علو مكانتها ورفعة مقامها.(٢)
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اپنی نورِ نظر بیٹی کا نام فاطمہ رکھا، تاکہ اپنی عظیم جدہ، خاتونِ جنت حضرت فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا کے نام کی تبرک و تيمّن حاصل کریں۔ یہ نام خداوند متعال کی طرف سے تھا، جیسا کہ امامتِ الٰہیہ کا شیوہ ہے، اور آپ کا یہ نام آسمانوں میں رکھا گیا تھا، قبل اس کے کہ آپ زمین والوں کے درمیان آئیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے نہ صرف آپ کی ولادت سے پہلے بلکہ آپ کے والد کی ولادت سے بھی پہلے، آپ کے نام کا تذکرہ فرمایا اور لوگوں کو ایک عظیم خاتون کی آمد کی بشارت دی جن کا نام فاطمہ ہوگا۔ آپ نے فرمایا:
«...ہمارا بھی ایک حرم ہے، اور وہ قم ہے، اور اس میں میرے نسل سے ایک خاتون دفن ہوں گی جن کا نام فاطمہ ہوگا»
(بحار الأنوار، جلد 48، صفحہ 317)
یہ پیشگوئی اور صراحت، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بلند مقام اور عظمت کی روشن ترین دلیلوں میں سے ہے۔
ماخذ:
1. بحار الأنوار 48: 317
2. فاطمة المعصومة (ع) الجنة الموعودة، ص 20
.
.
.
.
جناب معصومہ قم ع کالقب
ایک لقب جو حضرت معصومہ(س) کا ہے وہ ہے کریمہ اہل بیت ، یہ لقب بھی ایک عظیم المرتبت عالم دین کے خواب کے ذریعے امام معصوم(ع) کی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔
خواب کی تفصیل اس طرح ہے کہ مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ سید شھاب الدین مرعشی کے والد بزرگوار تھے، اس عظیم ہستی کی دلی خواہش تھی کہ حضرت صدیقہ طاہرہ (س) کی قبر اطہر کاصحیح پتہ مل جائے آپ اس عظیم امر کی خاطر بہت پریشان رہا کرتے تھے ۔ لہٰذا آپ نے ایک عمل شروع کردیا اور چالیس روز تک ختم قرآن کا عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دن بھی آ گیا کہ مرحوم نے اپنے اس چالیس روزہ عمل کا اختتام کیا،آپ کافی تھک چکے تھے لہٰذا آپ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور کافی دیر تک آپ آرام فرماتے رہے دوران استراحت آپ کی زندگی کی وہ مبارک گھڑی بھی آ پہنچی جس کا انتظار ہر شیعیان علی (ع) کو رہتا ہے یعنی خواب کے عالم میں امام باقر(ع) یا امام صادق(ع) تشریف لے آئے اور آپ ان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت امام (ع) نے فرمایا:
علیک بکریمۃ اہل البیت۔ کریمہ اہل بیت(ع) کے دامن سے متمسک ہو جاو
مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی (رح) نے سمجھا کہ منظور امام (ع) حضرت زہرا (س) ہیں۔ مرحوم نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہو جاوں اے میرے آقا ! میں نے یہ ختم قرآن کا عمل اسی وجہ سے کیا ہے کہ حضرت زہرا (س) کی قبر کا دقیق پتہ معلوم ہو جائے تا کہ بہتر طریقے سے ان کی قبر اطہرکی زیارت کر سکوں۔ اس وقت امام (ع) نے فرمایا میری مراد حضرت معصومہ(س) کی قبر شریف ہے جو کہ قم میں ہے ۔ پھر امام (ع) نے فرمایا :خدا نے کسی مصلحت کی بنیاد پر جناب زہرا (س) کی قبر شریف کو مخفی رکھا ہے اور اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س) کی قبر اطہر کو تجلی گاہ قبر حضرت زہرا (س) قرار دیا ہے۔
اگر حضرت زہرا (س) کی قبر مبارک ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانیت و جلالت دیکھنے کو ملتی اتنی ہی نورانیت و جلالت خداوند کریم نے حضرت معصومہ(س) کی قبر شریف کو عطا کی ہے۔
مرحوم مرعشی نجفی جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جلد از جلد بارگاہ معصومہ(س) میں حاضری دیں گے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زیارت حضرت معصومہ(س) کی خاطر نجف اشرف کو ترک کر ایران کے شہر مقدس قم میں آ گئے۔
کریمہ اہل بیت، ص43