Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ
جناب سیده معصومه قم (س) کی زندگی پر ایک جامع تحریر
حضرت فاطمہ معصومہ(س)، کریمہ اہل بیت کے نام سے مشہور، حضرت امام کاظم(ع) کی بیٹی، امام رضا(ع) کی بہن اور اہل بیت عصمت و طہارت کی بافضیلت اور برجستہ خواتین میں سے تھیں۔ آپ شہر مقدس قم میں مدفون شخصیات اور امام زادوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ اہل تشیع کے یہاں آپ کی زیارت خاص اہمیت کی حامل ہے یہاں تک کہ ائمہ سے منقول احادیث میں آپ کی زیارت کرنے والے کیلئے بہشت واجب قرار دی گئی ہے۔
آپ مدینہ سے سنہ 201ھ ق کو اپنے بھائی امام رضاؑ کے دیدار کے لئے ایران کے شہر طوس کی طرف روانہ ہوئیں، لیکن راستے میں بیماری کی وجہ سے قم میں وفات پا گئیں۔
ولادت اور نسب
قدیمی کتابوں میں حضرت معصومہ(س) کی ولادت کا ذکر نہیں ہوا ہے لیکن جدید کتابوں کے مطابق آپ کی ولادت پہلی ذیقعدہ سنہ173ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ شیخ مفید کی نظر میں امام موسی کاظم(ع) کی دو بیٹیوں کا نام فاطمہ تھا، ایک فاطمہ صغری اور دوسری فاطمہ کبری۔ ابن جوزی کی نظر میں امام کاظم(ع) کی دو بیٹیوں کا نام فاطمہ وسطی اور فاطمہ اخری تها۔ آپ کی مادر گرامی کا نام نجمہ خاتون ہے جو امام رضا(ع) کی والدہ بھی ہیں۔
تاریخ ولادت اور وفات
نور علم رسالے میں آیت الله رضا استادی لکهتے ہیں کہ قدیمی ترین کتاب جس میں حضرت معصومہ کی ولادت اور وفات کی تاریخ ذکر ہوئی ہے وہ نور الآفاق(تاریخ نشر ۱۳۳۴ق) تالیف جواد شاه عبدالعظیمی (م ۱۳۵۵۵ق) ہے۔ آیت اللہ استادی بہت سے مطالب ذکر کر نے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کتاب کے بہت سے مطالب جعلی ہیں اور ان کا کوئی مستند مدرک نہیں ہے۔ ان جعلی مطالب میں سے ایک حضرت معصومہ کی تاریخ ولادت اور وفات بھی ہے نیز دیگر کتابوں میں بهی اسی کتاب سے مطلب منقول ہوئے ہیں۔[1] آیت لله رضا استادی کے اس مقالے کے منتشر ہونے کے چند سال بعد تاریخ اسلام کے محقق رسول جعفریان نے کیلنڈر اور جنتریوں میں اسی تاریخ کو آپ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کے طور پر درج ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے رضا استادی کی ان تحقیقات کے خلاصے کو دوبارہ منتشر کیا۔[2] سید ضیاء مرتضوی بھی اپنے ایک مقالہ میں [3] اسی نکتہ پر تاکید کرتے ہیں۔ حضرت معصومہ کی تاریخ ولادت اور وفات کے حصول کیلئے بلا ثمر کوششوں کے ذکر کے دوران جواد شاه عبدالعظیمی کے مورد استناد منابع کو جعلی یا غیر قابل اعتماد معرفی کرتے ہیں۔[4]
آیت الله سید موسی شبیری زنجانی نے حضرت معصومہ کی تاریخ ولادت اور وفات کے جعلی ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے نیز اس کے جعلی ہونے کے واقعہ کو بهی ذکر کیا ہے۔[5] ریاحین الشریعہ کے مؤلف نے بھی ان تاریخوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ نیز عبد العظیمی کے بیان کردہ منبع میں یہ مذکور نہیں تھا اور جب اس نے یہی مطلب آیت الله شہاب الدین مرعشی کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے بھی ان تاریخوں کو جعلی اور ساختگی کہا اور آیت الله مرعشی اس جعل کرنے والے شخص کو جانتے تھے اور اس کے جعل کرنے کی وجہ سے بھی آگاہ تھے ۔[6]
نام اور القاب
معصومہ، طاہرہ، حمیدہ، رشیدہ، تقیہ، نقیہ، رضیہ، مرضیہ، سیدہ، اور اخت الرضا (یعنی امام رضا کی بہن) آپ کے القاب ہیں[7] اور کسی زیارت نامے میں آپ کے دو لقب صدیقہ اور سیدۃ النساء العالمین کا ذکر بھی ہوا ہے۔[8]
معصومہ
آپ کا مشہور لقب معصومہ ہے۔ یہ لقب امام علی بن موسی الرضا(ع) کی اس حدیث سے اخذ کیا گیا ہے جس میں آپ فرماتے ہیں: جس کسی نے قم میں معصومہ کی زیارت کی، گویا اس نے میری زیارت کی۔ اسی طرح خود آپ نے اپنا تعارف معصومہ اور امام رضا(ع) کی بہن کے نام سے کروایا ہے۔
کریمۂ اہل بیت
حضرت معصومہ (س)، آج کل بطور خاص ایرانی معاشرے میں کریمہ اہل بیت کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔ ظاہراً یہ لقب آیۃ اللہ مرعشی نجفی کے والد سید محمود مرعشی نجفی کے ایک خواب سے منسوب ہے، اور اس میں کسی معصوم نے حضرت معصومہ کو کریمہ اہل بیت کے نام سے پکارا اور آیت اللہ مرعشی کو آپ کی زیارت کی تاکید فرمائی۔ حکایت کچھ یوں ہے آیت اللہ مرعشی کے والد گرامی بہت اشتیاق رکھتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے حضرت زہراء(س) کی قبر مطہر سے آگاہ ہو سکیں، اس مقصد کے لئے آپ نے ایک مجرب عمل شروع کیا، اور چالیس رات تک اس مخصوص ذکر کا ورد کیا۔ اس امید پر کہ شاید خداوند کسی طریقے سے ان کو حضرت زہراء کی قبر مبارک سے آگاہ فرمائے، چالیسویں رات جب آپ ذکر اور توسل سے فارغ ہو کر آرام کر رہے تھے تو عالم خواب میں امام باقر(ع) یا امام صادق(ع) کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
امام(ع) نے ان سے فرمایا:"علیک بکریمة اھل البیت" کریمہ اہل بیت کے حضور میں جاؤ۔ آپ نے سوچا کہ کریمہ اہل بیت سے مراد حضرت زہراء(س) ہیں، اس لئے کہا: میں نے یہ ختم اسی لئے کیا ہے کہ آپ کی قبر مبارک کا نشان مل سکے تاکہ میں آپ کی زیارت سے مشرف ہو سکوں۔ امام(ع) نے فرمایا: میری مراد حضرت معصومہ(س) کی قبر مبارک ہے جو قم میں ہے۔ جب نیند سے بیدار ہوئے تو سفر کا ارادہ کیا اور حضرت معصومہ(س) کی زیارت کے لئے قم کی طرف روانہ ہوئے۔ کریمہ اہل بیت نامی کتاب کے مولف رقمطراز ہیں :آیۃ اللہ مرعشی (رہ) نے اس واقعے کو کئی بار مؤلف کے لئے بیان فرمایا ہے ۔ ۔ ۔
شخصیت
دینی متون اور منابع میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ موسی بن جعفر (ع) کے تمام فرزندوں میں امام رضا(ع) کے بعد کوئی بھی حضرت معصومہ(س) کے ہم رتبہ نہیں ہے[9]۔ شیخ عباس قمی کہتے ہیں: امام موسی کاظم(ع) کی بیٹیوں میں سب سے افضل، سیدہ، جلیلہ اورمعظمہ فاطمہ ہیں جو معصومہ کے نام سے مشہور ہیں۔[10]
علمی مقام
آپ کے علمی مقام کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے کہ ایک دفعہ اہل تشیع کے کچھ افراد مدینہ میں داخل ہوئے جو امام کاظم(ع) سے کچھ سوالات کے جواب دریافت کرنا چاہتے تھے لیکن آپ(ع) کسی سفر پر گئے ہوئے تھے۔ حضرت فاطمہ معصومہ(س) نے ان سوالات کے جوابات لکھ کر ان تک پہنچا دی۔ وہ جواب لے کر مدینہ سے باہر نکلے کہ راستے میں امام(ع) سے ملاقات ہوئی جب امام(ع) نے ان کے سوالات اور حضرت معصومہ(س) کے جوابات کو ملاحظہ فرمایا، تو تین بار فرمایا: تمہارا باپ تم پر قربان ہو جائے۔ [11]
فاطمہ معصومہ(س) نے آل محمد(ص) کی محبت، امام علی(ع) کے مقام اور آپ کے شیعوں کے بارے میں بہت سی احادیث نقل فرمائی ہیں۔[12]
شادی
یعقوبی کے نقل کے مطابق امام موسی بن جعفر نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی بیٹیاں شادی نہ کریں۔ لیکن بعض دیگر مورخین اس روایت کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس نظریے کو رد کرتے ہیں۔
حضرت معصومہ(ع) کی شادی نہ کرنے کی اصلی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہارون الرشید اور مامون کے زمانے میں اہل تشیع اور علوی بالخصوص امام کاظم(ع) سخت اذیت اور آزار کی حالت میں زندگی گزارتے تھے اور آپ(ع) کا معاشرے کے ساتھ رابطہ بہت محدود ہو گیا تھا، کوئی اہل بیت کے نزدیک ہونے کی جرات نہیں کرتا تھا، آپ کے ساتھ شادی بیاہ کے رشتے برقرار کرنا تو دور کی بات تھی۔
ایران کی طرف ہجرت اور قم میں داخل ہونا
تاریخ قم کے مؤلف نے یوں لکھا ہے: سنہ200 ہجری میں مامون عباسی نے امام علی بن موسی الرضا(ع) کو مدینے سے "مرو" بلایا۔ مامون کا اصلی مقصد امام(ع) کو اپنے نزدیک رکھ کر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا تھا لیکن اس نے عام لوگوں میں یہ مشہور کرایا کہ مامون نے امام رضا(ع) کو اپنی ولایت عہدی(جانشینی) کیلئے بلایا ہے۔ سنہ 201 ہجری میں آپ کی بہن حضرت معصومہ نے اپنے بھائی کے دیدار کی خاطر "مرو" کا سفر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ فاطمہ معصومہ(س) نے اپنے بھائی کا خط دریافت کرنے کے بعد خود کو سفر کے لئے تیار کیا۔ اس سفر میں حضرت معصومہ نے اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے ایک قافلے کے ساتھ ایران کی جانب سفر کیا۔ جب ساوہ کے مقام پر پہنچیں تو اہل بیت کے دشمنوں نے اس کاروان پر حملہ کیا اور ان کے ساتھ لڑائی میں آپ کے سب بھائی اور بھتیجے شہید ہو گئے۔ فاطمہ معصومہ نے جب اپنے سب عزیزوں کے جنازوں کو خون میں غلطاں دیکھا تو سخت بیمار ہو گئیں۔ اور آپ نے اس حادثے کے بعد اپنے خادم سے فرمایا کہ انہیں قم کی طرف لے جائے۔
دوسرے قول کے مطابق جب آپ کی بیماری کی خبر آل سعد تک پہنچی تو انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے قم تشریف لانے کی درخواست کریں۔ لیکن موسی بن خزرج جو کہ امام رضا(ع) کے اصحاب میں سے تھے، نے اس کام میں پہل کی اور حضرت فاطمہ معصومہ کی خدمت میں جا کر آپ کے اونٹ کی مہار پکڑی، آپ کو قم کی طرف لے آئے اور اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ جدید کتابوں کے مطابق آپ 23 ربیع الاول کو قم میں وارد ہوئیں۔ حضرت فاطمہ معصومہ 177 دن اس گھر میں عبادت اور راز و نیاز میں مشغول رہیں۔ آپ کی عبادت گاہ موسی بن خزرج کا گھر تھا جو کہ اب ستیہ یا بیت النور کے نام سے مشہور ہے۔
وفات
قدیمی کتابوں میں آپ کی وفات کی کوئی تاریخ ذکر نہیں ہوئی ہے لیکن جدید کتابوں کے مطابق آپ کی وفات 10 ربیع الثانی سنہ 201 ہجری قمری، 288 سال کی عمر میں ہوئی۔[13] بعض مورخین نے 12 ربیع الثانی نقل کی ہے۔[14]
اہل تشیّع نے آپ کی تشییع جنازہ کی اور آپ کو موسی بن خزرج کی ملکیت بابلان نامی جگہ پر دفن کیا۔[15] نقل ہوا ہے کہ جب قبر تیار کی گئی اور مشورہ ہو رہا تھا کہ کون قبر میں اترے اور سب نے ایک بوڑھے شخص جس کا نام قادر تھا کو انتخاب کیا اور کسی کو اس کی طرف بھیجا ایسے میں اچانک دو نقاب پوش آئے جنہوں نے آ کر آپ کو دفن کیا اور دفن کرنے کے بعد کسی سے بات کئے بغیر گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔[16] اس وقت موسی بن خزرج نے آپ کی قبر مبارک پر نشان بنایا اور سنہ 256 میں امام جواد(ع) کی بیٹی اپنی پھوپھی کی زیارت کرنے کے لئے قم آئیں تو انہوں نے آپ کی قبر پر مزار بنوایا۔[17]
زیارت کی فضیلت
اصل مضمون: زیارت نامہ حضرت معصومہ(س)
حضرت معصومہ کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں ائمہ معصومین سے مختلف روایات نقل ہوئی ہیں۔امام صادق(ع) نے فرمایا: خدا کا ایک حرم ہے جو کہ مکہ ہے، رسول خدا کا ایک حرم ہے جو کہ مدینہ ہے، امیر المومنین کا ایک حرم ہے جو کہ کوفہ ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم ہے جو کہ شھر قم ہے۔ امام صادق(ع) نے ایک اور روایت میں فرمایا: میری اولاد میں سے موسی بن جعفر کی بیٹی قم میں وفات پائے گی ۔ اس کی شفاعت کے صدقے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ ایک اور بیان کے مطابق آپ کی زیارت کا اجر بہشت ہے۔ [18] [19]امام رضا(ع) کی حدیث میں یوں آیا ہے کہ جو کوئی اس کی زیارت کرے گویا اس نے میری زیارت کی۔[20] اور دوسری روایات کے مطابق: بہشت اس کی ہے۔[21]امام جواد(ع) نے فرمایا: جو کوئی قم میں پورے شوق اور معرفت کے ساتھ میری پھوپھی کی زیارت کرے گا وہ اہل بہشت میں سے ہو گا۔[22]
زیارت نامہ
بعض شیعہ کتابوں میں امام رضا علیہ السلام سے حضرت معصومہ کے لیے ایک زیارت نامہ نقل ہوئی ہے۔[23] علامہ مجلسی اس زیارت کو تحفۃ الزائر میں ذکر کیا ہے {حوالہ درکار} اور اس کتاب کے مقدمے میں ذکر کیا ہے کہ اس کتاب میں صرف معتبر زیارتیں نقل ہوئی ہیں۔[24]
کہا جاتا ہے کہ خواتین میں سے صرف حضرت زہرا(س) اور حضرت معصومہ ہی ہیں جن کے لیے ماثورہ(وہ زیارت نامہ جس کی سند کسی معصوم تک پہنچتی ہے) زیارت نقل ہوئی ہے۔[25]
حوالہ جات
1: مجلہ نور علم شماره ۵۰-۵۱ ص ۲۹۷-۳۰۱
2: انتقادہای رسول جعفریان درباره دو تاریخ ساختگی
3: تاریخ ولادت و وفات حضرت فاطمہ معصومہ (س) شرحی بر یک سندسازی بیپایہ تاریخ ولادت و وفات حضرت فاطمہ معصومہ (س)
4: تاریخ ولادت و وفات حضرت فاطمہ معصومہ (س) «شرحی بر یک سندسازی بیپایہ»
5: جرعہ ای از دریا، ج۲، ص۵۱۶
6: محلاتی، ذبیح الله، ریاحین الشریعہ، ج۵، ص۳۱-۳۲
7: کاتوزیان، انوار المشعشعین، ج۱ ، ص۲۱۱۔
8: خوانساری، زبدة التصانیف، ج۶، ص۱۵۹۔
9: تواریخ النبی و الآل، ص۶۵۔
10: منتہی الآمال، ج۲، ص۳۷۸۔
11: کریمہ اہل بیت، ص ۶۳ و ۶۴ نقل از کشف اللئالی۔
12: بحارالانوار، ج۶۵، ص۷۶۔
13: انجم فروزان، ص۵۸؛ گنجینہ آثار قم، ج۱، ص۳۸۶۔
14: مستدرک سفینہ البحار، ص۲۵۷۔
15: تاریخ قم، ص۱۶۶؛ بحارالانوار، ج۴۸، ص۲۹۰
16: بحارالانوار، ج۴۸۸، ص۲۹۰
17: منتہی الآمال، ج۲، ص۳۷۹۔
18: مستدرک سفینہ البحار، ص۵۹۶؛ النقض، ص۱۹۶۔
19: بحارالانوار، ج۵۷، ص۲۱۹۔
20: ریاحین الشریعۃ، ج۵، ص۳۵۔
21: عیون اخبارالرضا (ع)، ج۲، ص۲۷۱؛ مجالس المؤمنین، ج۱، ص۸۳
22: کامل الزیارات، ص۵۳۶، ح۸۲۷؛ بحارالانوار، ج۱۰۲، ص۲۶۶۔
23: مراجعہ کریں: مجلسی، زادالمعاد، ۱۴۲۳ق، ص۵۴۸-۵۴۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۹، ۱۴۰۳ق، ص۲۶۶-۲۶۷۔
24: مجلسی، تحفة الزائر، ص۳۔
25: حمیدی،عمه سادات زندگی حضرت معصومه(س)،ص ۴۶
.
.
.
(علم و فضل)
آپ کی فضیلتوں میں سے ایک بہت بڑی فضیلت بیت وحی اور کاشانہ رسالت و امامت سے آپ کا انتساب ہے ۔ آپ دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ، دختر ولی خدا ، خواہر ولی اللہ ، عمہ (پھوپھی ) ولی اللہ ہیں اور یہ امر خود تمام فضائل و کمالات معنوی و روحانی کا سر چشمہ ہے کہ آپ کی زندگی ائمہ معصومین علیہم السلام کے جوار میں گزری ہے ، مثلا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام اور ایسے راہ نور و سعادت کے رہنماوٴں کی تعلیمات سے بہرہ مند ہونا خود آپ کی بلندی روح اور مقام علمی و رفعت علمی کے لئے ایک اساسی عامل ہے ۔ اس بنیاد پر ہم آپ کو فضائل اہلبیت علیہم السلام کا نمونہ کہہ سکتے ہیں ۔
قرآن مجید کی صریح آیت ” وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون “ (۱) ( ہم نے جن و انس کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔ تاکہ اس راہ میں کمال حاصل کر کے ہم سے نزدیک ہوں )کے پیش نظر ہدف خلقت انسان فقط عبادت الٰہی ہے وہ حضرات جو اس ہدف کی حقیقت سے روشناس ہیں وہ مرتبہ عالی تک پہنچنے کے لئے جو اطمینان و نفس مطمئنہ کا حصول ہے کسی بھی زحمت کو زحمت نہیں سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی کے بہترین لمحات کو بارگاہ ایزدی میں عبادت و راز و نیاز کا زمانہ سمجھتے ہیں ۔ رات کے سناٹے میں اپنے محبوب کی دہلیز پر سر نیاز خم کردیتے ہیں اور زبان دل سے ہم کلام ہوکر والہانہ انداز میں محو راز و نیاز ہوتے ہیں نیز ہمیشہ اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ نماز و راز و نیاز کی حالت میں اس سے ملاقات کریں تا کہ اس آیہ کریمہ ” یا ایتہا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ “ (۲) کے مصداق قرار پائیں ۔
بندگی اور عبادت الٰہی کا ایک عالی ترین نمونہ کریمہ اہل بیت فاطمہ معصومہ علیہا السلام ہیں ۔ وہ ۱۷ دنوں کا قیام اور دختر عبد صالح یعنی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی لخت جگر کی وہ یادگار عبادت ، خضوع و خشوع ، شب زندہ داریہ تمام چیزیں آپ کی بندگی و عبادت کا ایک گوشہ ہیں وہ بیت النور اور معبد و محراب اس صفیۃ اللہ کی عبادتوں کی یادگار ہے ۔ اسی راز و نیاز کی برکتوں سے لخت جگر باب الحوائج نے قیامت تک کے لئے عاشقان عبادت و ولایت کی ہدایت کی راہیں کھول دیں ۔
آپ کی عبادت گا موسیٰ بن خزرج کے دولت سرا میں تھی اور آج بھی یہ حجرہ میدان میر خیابان چہار مردان نزد مدرسہ ستیہ موجود ہے کہ جو محبان اہلبیت علیہم السلام کی زیارت گاہ ہے ۔
اسلامی فرہنگ میں سچے محدثوں کی ایک خاص عزت و حرمت رہی ہے ۔ راویوں اور محدثوں نے گنجینہ معارف اسلامی اور مکتب تشیع کے گرانمایہ ذخیروں نیز اسلام کے غنی فرہنگ کی حفاظت کی خاطر ایک نمایاں کردار پیش کیا یہ افراد اسرار آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ اور امانت الٰہی کے امین و محافظ تھے ۔
ایک بلند ترین عنوان کہ جو آپ کے علمی مرتبے اور آپ کی معرفت کا شاہکار وہ یہ ہے کہ آپ کو ” محدثہ “ کہا جاتا ہے بزرگان علم حدیث بلا جھجھک آپ سے منقول احادیث کو قبول فرماتے ہیں اور اس سے استناد کرتے ہیں ۔ کیونکہ آپ مورد وثوق و اطمینان افراد کے علاوہ کسی دوسرے سے حدیث نقل نہیں فرماتی تھیں ۔ ہم مناسب موقع پر ان احادیث میں سے بعض کو بعنوان نمونہ ذکر کریں گے ۔
انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں اس حد تک پہنچ سکتا ہے کہ مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا جائے ، یہ ذات اقدس الہ کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :
انا اقول للشیء کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشیء کن فیکون (۶) اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا ! پس وہ وجود میں آجا تی ہے ، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی ۔
امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا :
العبودیۃ جوھرۃ کنہہا الربوبیۃ (۷)
یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے ۔
اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی با برکت زندگی میں بھی اور اس عارضی زندگی کے بعد بھی منشاء کرامات و عنایات ہیں ۔ جوان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے ۔
قدیم الایام سے آستان قدس فاطمی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے ، کتنے نا امید قلوب فضل و کرم الٰہی کی امیدوں سے سر شار اور کتنے تہی داماں افراد رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر کر ، اور کتنے ہر جگہ سے نا امید افراد اس در پر آکر خوشحال و شادمان ہوکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوتے ہوئے لوٹے ہیں اور اولیاء حق کی ولایت کے سایہ میں مستحکم ایمان کے ساتھ اپنی زندگی کی بنیاد ڈالی ہے ۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی عظمت روحی اور بے کراں منبع فیض و کرم خداوندی کی نشانی ہیں عنقریب آپ کی کرامت کے نمونے ذکر کئے جائیں گے ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حق شفاعت اور اس مقام عظیم تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لئے ایک خاص اہلبیت کی ضرورت ہے ، کیونکہ خداوند عالم ایسے لوگوں کی شفاعت قبول کرتا ہے کہ جنہیں اس کی طرف سے اجازت حاصل ہے ۔ یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن (۸) اس دن کسی کی شفاعت سودمند نہ ہوگی مگر جسے رحمن اجازت دے گا ۔ اور یہ اذن ان لوگوں کو ملتا ہے کہ جو قرب الٰہی کے مرتبہ عالی اور مخلصانہ بندگی پرور دگار کو حاصل کرچکے ہیں ان میں انبیاء و ائمہ معصومین سر فہرست ہیں اور ان کے بعد خالص بندگان الٰہی اور اولیاء مقرب ایزدی ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے حد و مقام اور اپنے درجہ معنوی کے مطابق شفاعت کا حق رکھتے ہیں ۔ مثلا علما ، شہداء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے شائستہ فرزند ۔ انہی لوگوں میں سے کہ جن کی شفاعت کے حق کی روایات میں تصریح ہوئی ہے وہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
تدخل بشفاعتہا شیعتی الجنۃ باجمعہم (۹) یعنی ان ( فاطمہ معصومہ ) کی شفاعت سے ہمارے سارے شیعہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔
آپ کی زیارت میں امام معصوم کے حکم کے مطابق کہا جا تا ہے کہ یافاطمۃ اشفعی لی فی الجنۃ ۔ یعنی اے فاطمہ جنت میں ہماری شفاعت فرمائیے ۔ یہ جملہ خود آپ کی عظمت اور رفعت مقام ، جلالت قدر کو بیان کر رہا ہے کہ آپ شفیعہ روز جزا ہیں ،چنانچہ اسی زیارت کے دوسرے ٹکڑے میں آیا۔ فان لک عند اللہ شاٴ نا من الشاٴن (۱۰) یعنی ہم جو آپ سے شفاعت کی بھیک مانگ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ خد کے محضر میں نا قابل بیان شان و منزلت کی حامل ہیں جو زمینوں کے باسیوں کے لئے قابل تصور نہیں ہے فقط خدا ، پیامبر اور اوصیاء طاہرین اس سے واقف ہیں ۔
وہ روایتیں جو آپ کی زیارت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں آپ کے فضائل کی بہترین سند ہیں کیونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو اس مرقد مطہر و منور کی زیارت کی تشویق فرمائی ہے نیز اس کا بہت عظیم ثواب بیان فرمایا ہے یہ ثواب ایسا ہے کہ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں امام رضا علیہ السلام کے بعد فقط آپ ہی کے سلسلے میں کتابوں میں ملتا ہے ۔ ہم یہاں فقط چند روایات ذکر کرتے ہیں ہیں ۔
۱۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا : من زارہا فلہ الجنۃ (۱۱) یعنی جو ان ( فاطمہ معصومہ ) کی زیارت کرے گا وہ بہشت کا حقدار ہے ۔
۲۔ امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا : من زارہا قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ (۱۲) یعنی جو قم میں ہماری پھوپھی کی زیارت کرے گا اس کے لئے جنت ہے ۔
۳۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا : من زارہا عارفا بحقھا فلہ الجنۃ (۱۳) جو ان ( فاطمہ معصومہ ) کی زیارت ان کے حق کو پہچانتے ہوئے کرے گا وہ بہشت کا حق دار ہے ۔
۴۔ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا : قال الامام الصادق علیہ السلام : ان لِلّٰہ حرما و ہو مکہ وللرسول حرما و ہو المدینہ و لامیرالموٴمنین حرما و ہو الکوفۃ و لنا حرما و ہو قم و ستدفن فیہ-اامرۃ من ولدی تسمی فاطمۃ من زارہا وجبت لہ الجنۃ ۔( قال علیہ السلام ذالک و لم تحمل بموسیٰ امۃ ) (۱۴)
خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے رسول کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے ، امیرالموٴمنین کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے ہمارے لئے ایک حرم ہے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے ، عنقریب وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون دفن کی جائے گی جس کا نام فاطمہ ہوگا ۔ امام علیہ السلام نے یہ حدیث اس وقت ارشاد فرمائی کہ جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ حاملہ بھی نہ ہوئی تھیں ۔ جو بھی اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی ۔
اس روایت سے خصوصا اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل یہ حدیث صادر ہوئی بخوبی اندازہ ہوتا کہ حضرت فاطمہ معصومہ کا قم میں دفن ہونا خداوند عالم کے اسرار میں سے ایک سر خفی ہے اور اس کا تحقق مکتب تشیع کی حقانیت کی ایک عظیم دلیل ہے ۔
حوالہ جات :
۱۔ سورہ ذاریات آیہ / ۵۷ ۔
۲۔ سورہ فجر آیہ / ۲۸ ، ۲۷ ۔
۳۔ آیۃ اللہ حسن زادہ عاملی نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کی تحقیقی کانفرنس میں دانشگاہ قم میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
۴۔ ناسخ التواریخ ج/ ۷ ص ۳۳۷ ۔
۵۔ انوار المشعشعین : شیخ محمد علی قمی ص / ۲۱۱ ۔
۶۔ مستدرک الوسائل ج/ ۲ ، ص / ۲۹۸ ۔
۷۔مصباح الشریعۃ باب ۱۰۰ ۔
۸۔ سورہ طٰہ / ۱۰۵ ۔
۹۔ سفینۃ البحار ج/ ۲ ص / ۳۷۶ ۔
۱۰۔ بحار الانوار ج/ ۱۰۲ ص/ ۲۶۶ ۔
۱۱۔بحار الانوار ج / ۱۰۲ ص / ۲۶۵ ۔
۱۲۔ مدرک سابق ۔
۱۳۔ بحار الانوار ج / ۱۰۲ ص / ۲۶۶ ۔
۱۴۔ بحار الانوار ج / ۱۰۲ ص / ۲۶۷