Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ
جناب سیده معصومه قم (س) کی زندگی پر ایک مختصر مگر جامع تحریر
فاطمہ معصومہ (س) جو کہ کریمہ اہل بیت کے نام سے مشہور ہیں، حضرت امام کاظم(ع) کی بیٹی، اہل بیت کی بافضیلت اور برجستہ خواتین میں سے تھیں اور ان امام زادوں میں سے تھیں جنہیں قم میں دفن کیا گیا اور اہل تشیع کی نظر میں ان کی قبر مبارک کی زیارت کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے جسطرح کہ ان کی زیارت کرنے والوں کا اجر بہشت ہے.
آپ کی ولادت مدینہ میں ہوئی اور آپ سنہ 201ھ ق کو اپنے بھائی امام رضا(ع) کی زیارت کی خاطر ایران کے شہر مشہد کی طرف روانہ ہوئیں، لیکن راستے میں بیماری کی وجہ سے قم میں اس دنیا سے چل بسیں.
*ولادت اور نسب*
پرانے منابع میں، حضرت معصومہ(س) کی ولادت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن نئے منابع کے مطابق آپ کی ولادت پہلی ذیقعد سنہ173ق کو مدینہ میں ہوئی. شیخ مفید کی نظر میں، امام موسی کاظم(ع) کی بیٹیوں میں سے دو کے نام فاطمہ تھے، ایک فاطمہ صغری اور دوسری فاطمہ کبری ہیں. ابن جوزی کی نظر میں امام کاظم(ع) کی ان ببیٹیوں کے ایک فاطمہ وسطی اور دوسری فاطمہ اخری بھی تھیں. آپکی مادر گرامی کا نام نجمہ خاتون ہے جو کہ امام رضا(ع) کی والدہ گرامی بھی ہیں.
*نام اور القاب*
معصومہ، طاہرہ، حمیدہ، رشیدہ، تقیہ، نقیہ، رضیہ، مرضیہ سیدہ، اور اخت الرضا (یعنی امام رضا کی بہن) آپ کے القاب ہیں اور آپ کے زیارت نامے میں آپ کے دو لقب صدیقہ اور سیدۃ النساء العالمین کا ذکر بھی ہے.
*معصومہ*
آپ کا مشہور ترین لقب معصومہ ہے. یہ نام امام علی بن موسی الرضا(ع) کی روایت میں ذکر ہوا ہے: جو کوئی قم میں معصومہ کی زیارت کرے، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے میری زیارت کی. اور جیسا کہ خود آپ نے اپنا تعارف معصومہ امام رضا(ع) کی بہن کے نام سے کراویا ہے.
*کریمۂ اہل بیت*
معصومہ کے حرم کی قدیمی تصویر
حضرت معصومہ (س)، کریمہ اہل بیت کے لقب سے مشہور ہے. سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی کے والد تھے وہ بہت اشتیاق رکھتے تھے کہ جیس طریقے سے ممکن ہو حضرت زہراء(س) کی قبر مطہر سے آگاہ ہو سکیں، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے ایک مجرب ختم شروع کیا، اور چالیس رات تک وہ ذکر کرتے تہے کہ شاید خداوند کسی طریقے سے ان کو حضرت زہراء کی قبرمبارک سے آگاہ فرمائے، جب چالیسویں رات آپ نے ذکر اور توسل سے فارغ ہو کر آرام کیا تو عالم خواب میں امام باقر(ع) یا امام صادق(ع) کی زیارت سے مشرف ہوئے.
امام(ع) نے ان سے فرمایا:"علیک بکریمہ اھل البیت" کریمہ اہل بیت کے حضور میں جاؤ. آپ نے سوچا کہ کریمہ اہل بیت سے مراد حضرت زہراء(س) ہیں، کہا: میں نے یہ ختم اسی لئے کیا ہے کہ آپ کی قبر مبارک کا نشان مل سکے تا کہ میں آپکی زیارت سے مشرف ہو سکوں. امام(ع) نے فرمایا: میرا مطلب حضرت معصومہ(س) کی قبر مبارک ہے جو قم میں ہے. جب نیند سے بیدار ہوئے تو ارادہ کیا کہ سفر کی تیاری کریں اور حضرت معصومہ(س) کی زیارت کے لئے قم کی طرف سفر کریں. کریمہ اہل بیت کی کتاب کے مولف رقمطراز ہیں کہ
:آیۃ اللہ مرعشی (رہ) نے اس واقعے کو کئی بار آپ کے لئے ذکر فرمایا ہے . . .'
*شخصیت و علمی مقام*
آپ کے علمی مقام کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے کہ ایک دن کچھ اہل تشیع مدینہ میں داخل ہوئے جو کچھ سوالات کے جواب امام کاظم(ع) سے دریافت کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ کسی سفر پر گئے ہوئے تھے. اور حضرت فاطمہ معصومہ(س) نے ان سوالات کے جوابات لکھ کر ان تک بھیجے. وہ جواب لے کر مدینہ سے باہر نکلے کہ راستے میں امام(ع) سے ملاقات ہوئی جب امام(ع) نے ان کے سوالات اور حضرت معصومہ(س) کے جوابات کو ملاحظہ فرمایا، تو تین بار فرمایا: تمہارا باپ تم پر قربان ہو جائے.[3]
فاطمہ معصومہ(س) نے بہت سی روایات آل محمد(ص) کی محبت، اور امام علی(ع) کا مقام اور آپ کے شیعوں کے بارے میں نقل فرمائیں.[4]
*ازدواج*
یعقوبی نقل کرتا ہے، کہ امام موسی بن جعفر نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی بیٹی شادی نے کرے لیکن کچھ اور افراد نے اس نظریے کو رد کر دیا کہ ایسا نہیں کہا تھا.
لیکن حضرت معصومہ(ع) کی شادی نہ کرنے کی اصلی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہارون الرشید اور مامون کے زمانے میں تمام اہل تشیع اور علوی بالخصوص امام کاظم(ع) سخت اذیت اور آزار کی حالت میں تھے اور آپکا کا اجتماع کے ساتھ رابطہ بہت محدود تھا، کوئی اہل بیت کے نزدیک ہونے کی جرات نہ رکھتا تھا، آپ کے ساتھ پیوند برقرار کرنا تو دور کی بات تھی.
*ہجرت اور قم*
تاریخ قم کے مؤلف نے یوں لکھا ہے: سنہ200 میں مامون جو کہ عباسی خلیفہ تھا، اس نے اپنے وزیر کے طور پر امام علی بن موسی الرضا(ع) کو بلایا اور سنہ 201 میں آپ کی بہن نے اپنے بھائی کے دیدار کے لئے مرو کا سفر کیا. کہا گیا ہے کہ فاطمہ معصومہ(س) نے اپںے بھائی کا خط دریافت کرنے کے بعد خود کو سفر کے لئے تیار کیا. اور معصومہ نے اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے قافلے کے ہمراہ ایران کی جانب سفر شروع کیا. جب ساوہ کے مقام پر پہنچیں تو اہل بیت کے دشمنوں کے ساتھ بہت سخت جنگ سے روبرو ہوئیں اور آپ کے سب بھائی اور بھتیجے شہید ہو گئے. فاطمہ معصومہ نے جب اپنے سب عزیزوں کے جنازوں کو خون میں غلطان دیکھا تو سخت بیمار ہو گئیں. اور آپ نے اس حادثے کے بعد اپنے خادم سے فرمایا کہ انہیں قم کی طرف لے جائے.
دوسرے قول کے مطابق جب آپ کی بیماری کی خبر آل سعد تک پہنچی تو اس نے ارادہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے درخواست کریں کے آپ قم میں تشریف لائیں. اور موسی بن خزرج جو کہ امام رضا(ع) کے اصحاب میں سے تھے انہوں نے اس کام میں پہل کی اور فاطمہ معصومہ کی خدمت میں گئے. اور آپ کے اونٹ کی مہار پکڑی اور آپ کو قم کی طرف لائے اور آپکو اپنے گھر میں ٹھرایا. آخرین منابع کے مطابق آپ 23 ربیع الاول کو قم میں وارد ہوئیں. فاطمہ معصومہ 17 دن اس گھر میں عبادت اور راز و نیاز میں مشغول رئیں. آپکی عبادت گاہ موسی بن خزرج کا گھر تھا جو کہ اب ستیہ یا بیت النور کے نام سے مشہور ہے.
*وفات*
گذشتہ منابع میں آپکی وفات کے کا کوئی تاریخ ذکر نہیں ہوئیں لیکن آخری مآخذوں کے مطابق آپ کی وفات 10 ربیع الثانی سنہ 201 ھ ق، 28 سال کی عمر میں ہوئی.[5] کچھ نے 12 ربیع الثانی کو نقل کیا.[6] اہل تشیع نے آپ کا تشیع جنازہ کیا اور آپکو بابلان کے مقام پر جو کہ موسی بن خزرج کے نام تھا دفن کیا.[7] نقل ہوا ہے کہ جب قبر تیار کی گئی اور مشورہ ہو رہا تھا کہ کون قبر میں اترے اور سب نے ایک بوڑھے شخص جس کا نام قادر تھا اس کو انتخاب کیا. اور کسی کو اس کی طرف بھیجا ایسے میں اچانک دو نقاب پوش آئے جنہوں نے آ کر آپکو دفن کیا اور دفن کرنے کے بعد کسی سے بات کئے بغیر گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے.[8] اس وقت موسی بن خزرج نے آپکی قبر مبارک پر نشان بنایا اور سنہ 256 میں امام جواد(ع) کی بیٹی اپنی پھوپھی کی زیارت کرنے کے لئے قم آئی تو انہوں نے آپ کی قبر پر مزار بنوایا.[9]
*زیارت کی فضیلت*
حضرت معصومہ کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں ائمہ معصومین سے مختلف روایات نقل ہوئی ہیں.امام صادق(ع) نے فرمایا: خدا کا حرم ہے جو کہ مکہ میں ہے، رسول خدا کا حرم ہے جو کہ مدینہ میں ہے، امیر المومنین کا حرم ہے جو کہ کوفہ میں ہے، اور ہم اہل بیت کا حرم ہے جو کہ قم میں ہے. امام صادق(ع) نے ایک اور روایت میں فرمایا: میری اولاد میں سے موسی بن جعفر کی بیٹی قم میں وفات پائے گی ۔ اس کی شفاعت کے صدقے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں داخل ہوں گے. اور کچھ اور بیان کے مطابق آپکی زیارت کا اجر بہشت ہے.[10][11] امام رضا(ع) کی حدیث میں یوں آیا ہے کہ جو کوئی اس کی زیارت کرے گویا کہ اس نے میری زیارت کی.[12] اور دوسری روایات کے مطابق: بہشت اس کا ہے.[13] امام جواد(ع) نے فرمایا: جو کوئی قم میں پوری شوق اور شناخت سے میری پھوپھی کی زیارت کرے گا وہ اہل بہشت ہو گا.[14]
*حوالہ جات*
1 تواریخ النبی و الآل، ص۶۵.
2 منتہی الآمال، ج۲، ص۳۷۸.
3 کریمہ اہل بیت، ص ۶۳ و ۶۴ نقل از کشف اللئالی.
4 بحارالانوار، ج۶۵، ص۷۶.
5 انجم فروزان، ص۵۸؛ گنجینہ آثار قم، ج۱، ص۳۸۶.
6 مستدرک سفینہ البحار، ص۲۵۷.
7 تاریخ قم، ص۱۶۶؛ بحارالانوار، ج۴۸، ص۲۹۰
8 بحارالانوار، ج۴۸، ص۲۹۰
9 منتہی الآمال، ج۲، ص۳۷۹.
10 مستدرک سفینہ البحار، ص۵۹۶؛ النقض، ص۱۹۶.
11 بحارالانوار، ج۵۷، ص۲۱۹.
12 ریاحین الشریعۃ، ج۵، ص۳۵.
13 عیون اخبارالرضا (ع)، ج۲، ص۲۷۱؛ مجالس المؤمنین، ج۱، ص۸۳
14 کامل الزیارات، ص۵۳۶، ح۸۲۷؛ بحارالانوار، ج۱۰۲، ص۲۶۶