Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ

امام حسن عسکری ع کی ولادت اور حضرت فاطمہ معصومہ ع کی شھادت کی تاریخ!

بقلم: علامہ سید سبطین علی نقوی امروہوی
بسمہ تعالی!
کچھ سالوں سے مذکورہ مسئلے میں اہل ہند و پاک تشویش کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے عرض خدمت ہے کہ امام حسن عسکری ع کی تاریخ ولادت کے حوالے سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے.
▪الکافی کے ایک نسخے میں رمضان سن 232 ہجری نقل ہوئی ہے. (الکافی: ج1، ص 514) .
▪جبکہ دوسرے نسخے میں ربیع الثانی سن 232 ہجری نقل ہوئی ہے. ( کافی: ج1، ص 503.)
▪شہید اول نے 4 ربیع الثانی سن 232 نقل کی ہے. (دروس: ج2، ص12.)
▪طبری امامی نے بھی ربیع الثانی سن 232 نقل کی ہے. (دلائل الامامۃ: ص 424.)
▪شیخ طوسی نے 10 ربیع الثانی سن 232 ہجری نقل کی ہے. (مصباح المتہجد: ص 792.)
▪امین الاسلام شیخ طبرسی نے 8 ربیع الثانی نقل کی ہے۔ (تاج الموالید: ص 133)
ان تمام اقوال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ امام ماہ ربیع الاخر میں دنیا میں تشریف لائے لیکن تاریخ میں اختلاف ہے.
⭕ حوزہ علمیہ قم میں آپ کی ولادت کی تاریخ 8 ربیع الثانی مشہور ہے اور اسی دن مراجع کے دفاتر اور حرم ہائے مقدسہ میں ولادت کے حوالے سے میلاد اور جش منایا جاتا ہے
⭕ جبکہ 10 ربیع الثانی کو جناب فاطمہ معصومہ قم س کے روزِ شہادت (وفات) کے عنوان سے مراسم عزاداری برپا کیے جاتے ہیں.
🔴 *ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ!*
عام طور پر امام رضا ع کی شہادت کے ساتھ ان کی بہن جناب معصومہ قم ع کے مصائب کا بھی ذکر کیا جاتا ہے. اس مقام پر اکثر و بیشتر عوام اور بعض خواص سے بھی ایک غلطی سرزد ہوتی ہے اور وہ یہ کہ جناب امام رضا ع کی شہادت کو جناب معصومہ ع کی رحلت سے پہلے بتایا جاتا ہے.
جبکہ یہ تاریخی شواہد کے سراسر خلاف ہے.
⭕ اس حوالے سے ہم دو دلیلوں پر اکتفاء کریں گے:
▪1. امام رضا ع کی تاریخ و سال شہادت شیخ کلینی کے مطابق ماہ صفر سن 203 ھ اور شیخ مفید کے مطابق بھی آخر صفر سن 203 ھ ہے.
(الکافی: ج1، ص 486/ الارشاد: ص 304)
▪ اس کے علاوہ شیخ کلینی نے سال 202 ھ کی روایت بھی نقل کی ہے. (الکافی: ج1، ص 491، ح 11)
▪ طبری امامی بھی سال شہادت 202 ھ کو قرار دیتے ہیں. (دلائل الامامہ: ص 350)
جو کچھ بیان ہوا اس کی بنا پر امام کا سال شہادت یا 202 ھ ہے یا 203 ھ.
⭕ البتہ جناب معصومہ کی تاریخ رحلت کا ذکر یوں کیا گیا ہے.
جناب معصومہ ع کی رحلت بدھ کے روز 10 یا 12 ربیع الثانی سن 201 ھ میں واقع ہوئی.
(تاریخ قم: ص 213/ اعیان الشیعہ: ج8، ص 391/ ریاحین الشریعۃ: ج5، ص 32)
یوں یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ جناب معصومہ ع کی رحلت امام رضا ع کی حیات میں واقع ہوئی ہے.
▪ 2. علامہ مجلسی بحار میں راقم ہیں:
امام رضا ع نے سعد سے کہا: تمہارے علاقے میں ہم اہلبیت ع میں سے ایک شخصیت کی قبر ہے. سعد نے کہا: میں آپ پر فدا کیا آپ کی مراد فاطمہ بنت موسی کاظم ع ہیں؟ امام نے فرمایا: ہاں! جو بھی اس کے حق کی معرفت کے ساتھ اس کی قبر کی زیارت کرے گا اس کے لیے جنت ہے. جب بھی تم ان کی قبر پر جاؤ تو ان کے سرہانے کھڑے ہو جاؤ اور رو بہ قبلہ ہو کر 34 بار اللہ اکبر، 33 بار سبحان اللہ اور 33 بار الحمد للہ پڑھو اس کے بعد کہو: السلام علی آدم صفوۃ اللہ.... (اس کے بعد امام رضا ع نے وہی زیارت نامہ تعلیم فرمایا جو زائرین حرم جناب معصومہ ع میں تلاوت کرتے ہیں)
(بحار الانوار: ج102، ص 266)
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام رضا ع جناب معصومہ ع کی رحلت کے بعد بقید حیات تھے اور بی بی کا زیارت نامہ خود امام رضا ع نے تعلیم فرمایا ہے.
ان دو دلیلوں کی بنا پر ہم کہتے ہیں: عوام الناس اور بعض خطباء کے یہاں جو مشہور ہے کہ بی بی کی رحلت امام رضا ع کے بعد ہوئی یا ان کی شہادت کے صدمے سے ہوئی، تو یہ بات تاریخی شواہد کے خلاف ہے.
❓یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: پھر اس روایت کا کیا ہو گا جو بتاتی ہے: جب بی بی قم میں داخل ہوئیں تو سوگ و عزا کا ماحول تھا ؟؟؟
شاید اس روایت کے معنی سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے. بی بی اکیلی نہیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی بھی تھے جن کی تعداد تین تک بتائی جاتی ہے. قم سے دس فرسخ کے فاصلے پر ایک مقام بنام ساوی ہے، بی بی کے قافلے پر یہاں حملہ کیا گیا جس میں ان کے بھائی شہید ہو گئے اور بعض روایات کے مطابق بی بی کو بھی مسموم کیا گیا. ان بھائیوں کی قبور آج بھی ساوی شہر میں موجود ہیں. لہذا بی بی کے قم میں داخل ہوتے وقت جو سوگ و عزا کا ماحول تھا وہ امام رضا ع کی شہادت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان بھائیوں کی شہادت پر تھا جنہیں ساوی میں شہید کر دیا گیا تھا.
نتیجہ یہ کہ جناب معصومہ ع امام رضا ع کی زندگی میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور بنا بر روایات آپ کی وفات کا سبب زہر تھا نہ کہ امام کی شہادت کی خبر پانا.
(مزید مطالعہ کے لیے رجوع کیجیے کتاب شہیدہ غربت تالیف یوسف علی یوسفی/ در عصمت تالیف علی اشرف عبدی/ برگی از تاریخ قم تالیف دار التحقیق آستانہ مقدس قم)
🖋 سید سبطین علی نقوی امروہوی ۔