*ولادت:*
سب ان کے منتظر تھے بالخصوص ان کی والدہ جناب نجمہ خاتون ع کیونکہ سالھا قبل امام صادق ع نے بی بی کی ولادت کی خوشخبری ان الفاظ میں سنائی تھی.
ہمارے لیے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے؛ عنقریب میری نسل میں سے ایک بیٹی جس کا نام فاطمہ ہو گا قم میں دفن ہو گی؛ جو بھی اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہو گی. (بحار الانوار: ج ٤٨ ص ٣١٧)
*شرافت:*
آپ فاطمہ معصومہ ہیں؛ امام موسی کاظم ع کی بیٹی، امام علی رضا ع کی بہن، اور امام محد تقی ع کی پھوپی؛ شمائل میں زہرا؛ خصائل میں زینب؛ جیسا کہ امام تقی ع نے ان کی شان میں فرمایا:
جس کسی نے بھی قم میں میری پھوپی کی زیارت کی اس کے لیے جنت ہے.( وسائل الشیعۃ: ص ١٤ ص ٥٧٦).
*معرفت بی بی:*
آپ کا نام فاطمہ س،لقب معصومہ،والد کا نام امام موسی بن جعفر الکاظم ع،والدہ کا نام نجمہ خاتون س،اور بھائی کا نام امام علی رضا ع ہے جنہوں نے آپ کے بارے میں فرمایا:
جس نے جناب معصومہ کے حق کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کی اس کے لیے جنت ہے. (بحار الانوار: ج ١٠٢ ص ٢٦٦)
*دفاع و تبلیغ ولایت:*
جناب معصومہ س اپنی جدہ جناب سیدہ س کی طرح حدیث نقل کر کے حقانیت ولایت جناب امیر ع کا پرچار کرتی رہیں.
آپ چند واسطوں سے اپنی جدہ جناب زہرا س سے اس طرح حدیث نقل کرتی ہیں : رسول اللہ ص شب معراج بہشت گئے تو انہوں نے دیکھا جنت کے ایک قصر کے پردے پر یہ عبارت درج ہے:
کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے،
محمد اللہ کے رسول ہیں،
علی لوگوں کے رہبر ہیں،
اور علی کے شیعہ ہی کامیاب ہونے والے ہیں.(بحار ج ٦٥ ص ٧٧)
*حدیث فواطم:*
جناب معصومہ ایک حدیث نقل فرماتی ہیں جس میں تمام راویان حدیث کا نام فاطمہ ہے اور اس لیے اس حدیث کو حدیث فواطم کہتے ہیں:
فاطمہ بنت موسی کاظم نے روایت کی،
اپنی پھپی فاطمہ بنت جعفر صادق ع سے،
انہوں نے اپنی پھپی فاطمہ بنت محمد باقر ع سے،
انہوں نے اپنی پھپی فاطمہ بنت سجاد ع سے،
انہوں نے اپنی پھپی فاطمہ بنت الحسین سے،
انہوں نے اپنی پھوپی زینب بنت علی ع سے،
انہوں نے اپنی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ص سے،
کہ رسول اللہ ص نے فرمایا:
جان لو جو بھی آل محمد کی محبت پر مرا، شہید مرا.(عوالم العلوم: ج ١١ ص ٨٩٥)
*غربت جناب معصومہ س:*
٢٠١ ہجری مین جناب معصومہ اپنے کچھ بھائیوں کے ساتھ اپنے زمانے کے امام کے دیدار اور ان سے تجدید عہد کے لیے راہی دیار غربت ہوئیں. راستے میں شہر ساوہ پہنچیں تو وہاں پر کچھ مخالفین نے حکومت کی ساز باز سے آپ کے ساتھ آئے افراد سے جنگ کی. جناب معصومہ ع جو غم و حزن کی وجہ سے مریض ہو گئیں تھیں نے فرمایا: مجھے قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے والد سے سنا تھا کہ قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے. آپ نے قم میں قدم رنجا فرمایا اور اب تک جو فقط قم تھا وہ آپ کے وجود سے قم المقدس ہو گیا. قم آنے کے بعد آپ نے موسی بن خزرج نامی شخص کے یہاں نزول اجلال فرمایا.
*شہادت بی بی دو عالم:*
آخر کار قم کے مکینوں کی وہ خوشی جو جناب فاطمہ معصومہ قم س کے قدم رنجا فرمانے کی وجہ سے عوج ثریا تک پہنچ گئی تھی وہ ١٠ ربیع الثانی سن ٢٠١ ہجری میں اسمان کرامت کے اس ستارے کے ڈوبنے سے دنیائے حزن و غم میں تبدیل ہو گئی. بعض روایات کے مطابق آپ کو زہر سے مسموم کیا گیا جس کی وجہ اے آپ ١٧ دن علیل رہ کر دار فانی کو الوداع کہہ گئیں. غسل و کفن کے بعد دھانہ قبر پر جسد مبارک کو لا کر رکھ دیا گیا اچانک صحرا کی جانب سے دو سوار نمودار ہوئے انہوں نے پیکر اطہر پر نماز جنازہ پڑھی اور جسد مبارک کو دفن کر کے واپس لوٹ گئے. اس صورت اس بانوئے دو عالم کی قبر مطہر ارادتمندون کے لیے قبلہ دو عالم اور محبان و عاشقان ولایت و امامت ع کے لیے دار الشفاء قرار پائی...
*جو چاہتا ہے فاطمۃ الزہراء س کی زیارت کرے..😘
آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی اپنی نجف سے قم ہجرت کے بارے میں بتاتے ہیں: میرے والد آقای سید محمود مرعشی نجفی جو اپنے زمانے کے مشہور زاہدوں میں سے تھے، نے ٤٠ شب حرم امیرالمومنین ع میں چلا کشی کی. ایک شب حالت مکاشفے میں جناب امیر ع کو دیکھا جو فرما رہے تھے: سید محمود کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جاننا چاہتا ہوں کہ قبر جناب فاطمہ س کہاں ہے میں اس کی زیارت کرنا چاہتا ہوں. جناب امیر ع نے فرمایا: میں فاطمہ کی وصیت کے خلاف عمل کر کے قبر کا پتہ نہیں بتا سکتا. لیکن خدا نے فاطمہ س کا جلال و جبروت فاطمہ معصومہ س کو عطا کیا ہے. جو کوئی بھی چاہتا ہے کہ فاطمہ زہراء س کی زیارت کا ثواب حاصل کرے اسے چاہیے کہ فاطمہ معصومہ س کی زیارت کو جائے. آیت اللہ مرعشی کہتے ہیں: اس کے بعد سے وہ دن اور آج کا دن ساٹھ سال سے ہر روز صبح کو حرم کا دروازہ کھلنے کے بعد میں بی بی معصومہ کا وہ پہلا زائر ہوتا ہوں جو حرم میں زیارت کے لیے داخل ہوتا ہے....
*شفاعت معصومہ س*
جناب معصومہ س ان شخصیات میں سے ہیں جن کے شفیع ہونے کی روایات میں تصریح وارد ہوئی ہے.
امام صادق ع فرماتے ہیں: معصومہ س کی شفاعت سے تمام شیعہ داخل بہشت ہونگے. (سفینۃ البحار : ج ٧ ص ١٢٥)
ایک سال ایام فاطمیہ میں شیخ عباس قمی نے قم میں ایک مقام پر مجالس سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا؛ ایک شب عالم خواب میں، آیت اللہ ابوالقاسم المعروف مرزا قمی کو دیکھا، میں نے سوال کیا: کیا اہل قم کی شفاعت جناب معصومہ قم سلام اللہ علیھا کے ہاتھ میں ہے؟ آپ نے مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا اور گویا ہوئے: اہل قم کی شفاعت تو میرے ہاتھ میں ہے جناب معصومہؑ تو تمام شیعوں کے لیے حق شفاعت اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں۔
*ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ!*
ابھی کچھ دن پہلے امام رضا ع کی شہادت کی تاریخ گزری ہے. عام طور پر امام رضا ع کی شہادت کے ساتھ ان کی بہن جناب معصومہ قم ع کے مصائب کا بھی ذکر کیا جاتا ہے. اس مقام پر اکثر و بیشتر عوام اور بعض خواص سے بھی ایک غلطی سرزد ہوتی ہے اور وہ یہ کہ جناب امام رضا ع کی شہادت کو جناب معصومہ ع کی رحلت سے پہلے بتایا جاتا ہے. جبکہ یہ تاریخی شواہد کے سراسر خلاف ہے.
اس حوالے سے ہم دو دلیلوں پر اکتفاء کریں گے:
1. امام رضا ع کی تاریخ و سال شہادت شیخ کلینی کے مطابق ماہ صفر سن 203 ھ اور شیخ مفید کے مطابق بھی آخر صفر سن 203 ھ ہے.
(الکافی: ج1، ص 486/ الارشاد: ص 304)
اس کے علاوہ شیخ کلینی نے سال 202 ھ کی روایت بھی نقل کی ہے. (الکافی: ج1، ص 491، ح 11)
طبری امامی بھی سال شہادت 202 ھ کو قرار دیتے ہیں. (دلائل الامامہ: ص 350)
جو کچھ بیان ہوا اس کی بنا پر امام کا سال شہادت یا 202 ھ ہے یا 203 ھ.
البتہ جناب معصومہ کی تاریخ رحلت کا ذکر یوں کیا گیا ہے.
جناب معصومہ ع کی رحلت بدھ کے روز 10 یا 12 ربیع الثانی سن 201 ھ میں واقع ہوئی.
(تاریخ قم: ص 213/ اعیان الشیعہ: ج8، ص 391/ ریاحین الشریعۃ: ج5، ص 32)
یوں یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ جناب معصومہ ع کی رحلت امام رضا ع کی حیات میں واقع ہوئی ہے.
2. علامہ مجلسی بحار میں راقم ہیں:
امام رضا ع نے سعد سے کہا: تمہارے علاقے میں ہم اہلبیت ع میں سے ایک شخصیت کی قبر ہے. سعد نے کہا: میں آپ پر فدا کیا آپ کی مراد فاطمہ بنت موسی کاظم ع ہیں؟ امام نے فرمایا: ہاں! جو بھی اس کے حق کی معرفت کے ساتھ اس کی قبر کی زیارت کرے گا اس کے لیے جنت ہے. جب بھی تم ان کی قبر پر جاؤ تو ان کے سرہانے کھڑے ہو جاؤ اور رو بہ قبلہ ہو کر 34 بار اللہ اکبر، 33 بار سبحان اللہ اور 33 بار الحمد للہ پڑھو اس کے بعد کہو: السلام علی آدم صفوۃ اللہ.... (اس کے بعد امام رضا ع نے وہی زیارت نامہ تعلیم فرمایا جو زائرین حرم جناب معصومہ ع میں تلاوت کرتے ہیں)
(بحار الانوار: ج102، ص 266)
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام رضا ع جناب معصومہ ع کی رحلت کے بعد بقید حیات تھے اور بی بی کا زیارت نامہ خود امام رضا ع نے تعلیم فرمایا ہے.
ان دو دلیلوں کی بنا پر ہم کہتے ہیں: عوام الناس اور بعض خطباء کے یہاں یہ جو مشہور ہے کہ بی بی کی رحلت امام رضا ع کے بعد ہوئی یا ان کی شہادت کے صدمے سے ہوئی، تو یہ بات تاریخی شواہد کے خلاف ہے. یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: پھر اس روایت کا کیا ہو گا جو بتاتی ہے کہ جب بی بی قم میں داخل ہوئیں تو سوگ و عزا کا ماحول تھا ؟؟؟ جی یہ روایت اپنی جگہ لیکن اس سے جو معنی سمجھے گئے ہیں وہ غلط ہیں. بی بی اکیلی نہیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی بھی تھے جن کی تعداد تین تک بتائی جاتی ہے. قم سے دس فرسخ کے فاصلے پر ایک مقام بنام ساوی ہے، بی بی کے قافلے پر یہاں حملہ کیا گیا جس میں ان کے بھائی شہید ہو گئے اور بعض روایات کے مطابق بی بی کو بھی مسموم کیا گیا. ان بھائیوں کی قبور آج بھی ساوی شہر میں موجود ہیں. لہذا بی بی کے قم میں داخل ہوتے وقت جو سوگ و عزا کا ماحول تھا وہ امام رضا ع کی شہادت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان بھائیوں کی شہادت پر تھا جنہیں ساوی میں شہید کر دیا گیا تھا.
نتیجہ یہ کہ جناب معصومہ ع امام رضا ع کی زندگی میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور بنا بر روایات آپ کی وفات کا سبب زہر تھا نہ کہ امام کی شہادت کی خبر پانا.
(مزید مطالعہ کے لیے رجوع کیجیے کتاب شہیدہ غربت تالیف یوسف علی یوسفی/ در عصمت تالیف علی اشرف عبدی/ برگی از تاریخ قم تالیف دار التحقیق آستانہ مقدس قم)
*کرامات جناب فاطمہ معصومہ س:*
(١) شیخ عباس قمی فرماتے ہیں: میں نے اپنے بعض اساتید سے سنا ہے: ملا صدرا نے بعض مشکلات کی وجہ سے شیراز سے قم ہجرت کی اور قریہ کہک میں سکونت پزیر ہو گئے. اس لا ثانی فلسفی پر جب بھی کوئی علمی مشکل آتی تو وہ حرم جناب معصومہ کا رخ کرتا اور ان سے توسل کی وجہ سے اس کے علمی مسائل حل ہو جاتے اور وہ اس منبع فیض سے عنایات کسب فرماتے تھے. (فوائد الرضویہ: ٣٧٩)
(٢) شیخ عبد اللہ موسیانی، آیت اللہ مرعشی نجفی سے نقل کرتے ہیں: سردیوں کی ایک شب میری آنکھ کھل گئی، سوچا حرم چلا جاؤں لیکن میں نے دیکھا اس وقت جانا قبل از وقت ہو گا. لہذا میں نے اپنا ہاتھ سر کے نیچے رکھا اور پھر سو گیا تاکہ اگر نیند آ بھی جائے تو کہیں سوتا ہی نہ رہ جاؤں. میں نے عالم خواب میں دیکھا کہ ایک خاتون میرے کمرے میں داخل ہوئیں اور مجھ سے فرمایا: سید شہاب اٹھو اور حرم جاؤ، حرم کے سامنے میرے کچھ زائر آئے کھڑے ہیں جو سردی سے مرے جا رہے ہیں. آیت اللہ مرعشی کہتے ہیں: مین اسی وقت اٹھا اور حرم کی طرف گیا تو میدان آستانہ کی جانب سے دروازے کے سامنے دیکھا کہ کچھ پاکستانی زائرین اپنی مخصوص لباس پہنے کھڑے ہیں اور سردی کی شدت کے مارے کپکپا رہے ہیں.
(٣) آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں: پہلی حکومت و شوری کا تختہ الٹنے کے بعد نخجوان کے لوگوں نے چاہا کہ ان کے یہاں سے کچھ جوان حوزہ علمیہ قم میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جائیں. تاکہ اپنے علاقے میں تبلیغ دین کر سکیں. وسائل فراہم ہو گئے اور جانے والوں میں سے جن ٥٠ افراد کے نمبر سب سے زیادہ تھے ان کا انتخاب کیا گیا. انہی لڑکوں میں اک جوان ایسا بھی تھا جس کے نمبر تو بہت اچھے تھے لیکن کیونکہ اس کی ایک آنکھ میں کچھ خرابی تھی لہذا اسے منتخب نہیں کیا گیا. لیکن اس کے والد کے اصرار پر اصرار کی وجہ سے اس قبول کر لیا گیا. البتہ جس جلسے میں سب موجود تھے وہاں پر کمیرہ مین نے اس کی خراب آنکھ کا فوکس کر کے تصویریں لیں اور اس کی آنکھ کی خرابی کو تمام افراد کے سامنے طشت از بام کر دیا. یہ جوان یہ صورتحال دیکھ کر بہت دلشکستہ ہوا. وہ قم حرم معصومہ س پہنچا اور جناب معصومہ س سے متوسل ہوا. اس پر اسی وقت غنودگی طاری ہو گئی. خواب میں عوالم کا مشاھد کیا اور جب اٹھا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی آنکھ ٹھیک ہو گئی.
*اللھم ارزقنا زیارت المعصومۃ و شفاعۃ المعصومۃ و معرفۃ المعصومۃ بحق جدۃ المعصومۃ...*
خادم حضرت معصومہ س: سید سبطین علی نقوی امروہوی