Back to ازواج و بناتِ معصومینؑ
حضرت فاطمہ زہراء (س) سے حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی شباہتیں۔
حضرت فاطمہ معصومہؑ کہ جو برّصغیر میں معصومہ قم کے نام سے مشہور ہیں، امام ہفتم حضرت موسی بن جعفر الکاظمؑکی بیٹی ہیں، آپ کی ولادت یکم ذی القعدہ سن ۱۷۳ھق کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ کمسنی کے عالم میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اس وقت سے جناب معصومہ ؑ کے بھائی امام رضا ؑ نے آپ کی پرورش کی، یہی وجہ تھی کہ آپ ؑ اپنے بھائی امام رضا ؑ سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔ امام رضا ؑ کی مدینہ سے خراسان ہجرت کے بعد آپ ؑ نے بھی فیصلہ کیا کہ مدینہ سے ہجرت کر کے اپنے بھائی کے پاس خراسان جائیں گی، اس سفر کے دوران آپ ؑ نے بہت مصیبتیں اٹھائیں لیکن اپنے بھائی سے نہ مل سکیں اور خراسان پہنچنے سے پہلے ہی زہر دیئے جانے کی بناپر شہرِقم میں ۲۸ سال کی عمر میں سن ۲۰۱ ھ میں آپ کی شھادت ہو گئی۔ قم المقدسہ میں آج بھی آپ کا روضہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ موالیان اہلبیت ؑ کی زیارتگاہ بنا ہوا ہے۔
آپ ؑ کی حضرت زہرا ؑ سے شباہتیں:
جناب سیدہ کونینؑ بھی معصوم اور حضرت معصومہؑ کو بھی لقب ’معصومہ‘ سے نوازا گیا ہے۔
امام رضا ؑ فرماتے ہیں [مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى][1] ’جسنے قم میں معصومہ کی زیارت کی گویا اسنے میری زیارت کی ‘۔ اگرچہ عصمت کے مراتب ہیں اور فقط چہاردہ معصومیں ؑ عصمت کے اعلی تریں مراتب پر فائز ہیں ، لیکن امام معصومؑکی اس حدیث سے علماء[2]یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جناب فاطمہ معصومہؑ معصومہ ہیں۔
جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جناب زہراء (علیہا السلام) کا مہر، امت رسول کے گناہگاروں کی شفاعت ہے[3] لھذا جس طرح سے بنت الرسول جناب فاطمہ (علیہا السلام) بہت وسیع شفاعت کا اختیار رکھتیں ہیں اسی طرح جناب فاطمہ معصومہ(علیہا السلام) بھی وسیع شفاعت کی مالکہ ہیں۔ امام صادق ؑ فرماتے ہیں [اَلا اِنّ لِلْجَنَّةِ ثَمانِیَةَ اَبْوابٍ ثَلاثَةٌ مِنْها اِلی قُمْ، تُقْبَضُ فیها اِمْرَأةٌ مِنْ وُلْدی اسمُها فاطِمَة بنتَ مُوْسی، و تُدْخَلُ بشفاعَتِها شیعَتی الْجَنَّةَ بِاَجْمَعِهِمْ][4] ’’جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے تیں قم کی طرف ہیں، قم میں ہماری نسل میں سے ایک خاتوں دفن کی جائیں گی جنکا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا، انکی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل کیئے جائیں گے ‘‘۔
معصوم کبھی بھی مبالغہ یا احساسات کے بہاو میں کو بات نہیں کرتا۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس طرح جناب زہرا ؑ کے لیئے فرمایا [فَداها اَبُوها][5] ’اسکا باپ اس پر فدا ہو جائے‘ یعنی میں(رسول) آپ پر قربان جاوں اسی طرح امام موسیٰ الکاظم ؑنے جناب معصومہ ؑ کے لیئے بھی فرمایا [فَداها اَبُوها][6]۔
مصلحت خداوندی یہ ہے کہ حضرت زہراؑ کی قبر مخفی رہے لیکن مومنین کو انکی قبر کی زیارت سے محروم نہیں رکھا، اس لیے بعض قرائن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ جناب معصومہ ؑ کا روضہ حضرت زہراؑ کے قبر کی تجلی گاہ ہے۔ مثلا جناب معصومہ ؑ کی زیارت کے آداب میں تسبیح حضرت زہرا ؑ کا پڑھنا یا وہ مشہور واقعہ کہ جس میں آیت اللہ سید محمود مرعشی (رہ) سے خواب میں امام صادق ؑ فرماتے ہیں [عَلَیْكَ بِكَرِیمَةِ اَهْلِ الْبَیْتِ][7] یعنی اگر تم جناب سیدہ ؑ کی قبر ڈھونڈنا چاہتے ہو تو جاکر جناب فاطمہ معصومہؑ کی قم میں زیارت کرو۔
جس طرح سے جناب سیدہ ؑ نے ولایت کے حصار میں زندگی بسر کی، جسکی بہترین مثال روز مباہلہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جناب معصومہ ؑ کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے [السلام علیک یا بنت ولی الله السلام علیک یا اخت ولی الله السلام علیک یا عمة ولی الله][8] ’سلام ہو آپ پر اے ولی اللہ کی بیٹی،اے ولی اللہ کی بہن ،اے ولی اللہ کی پھوپھی‘ ان کلمات میں بھی حصارِ ولایت نظر آتا ہے کہ جو امام رضا ؑ نے جناب معصومہ ؑ کے لیئے زیارت میں بیان کیا ہے۔
ان شباہتوں کے علاوہ بھی کئی اور شباہتیں ہیں کہ جنکا ذکر اس تحریر کی وسعت سے خارج ہے، قارئین گرامی کے لیئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہو سکتا ہے کہ وہ خود بھی مستند انداز میں دیگر شباہتیں ڈھونڈیں۔
•┈┈• ❀ 

❀ •┈┈•
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ناسخ التواريخ، ج ٣، ص ٦٨
[2] علم اصول اور بلاغۃ میں ایک معروف قاعدہ ہے’’ تعلیق الحکم علی الوصف مشعر بعلیة منشأ اشتقاقه ‘‘ ۔اس قاعدہ کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ حضتر فاطمہ بنت موسی بن جعفر (علیہما السلام) معصوم ہیں۔
[3] (جعل اللّه تعالى مهر فاطمة الزهراء ابنة محمّد المصطفى صلى اللّه عليه و آله و سلم شفاعة امّته العصاة) – بحرانی اصفہانی،عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآيات والأخباروالأقوال(مستدرك سيدة النساء إلى الإمام الجواد، ج11-قسم-1-فاطمةس، ص: 450
[4] علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 6، ص 228
[5] علامہ مجلسی، بحارالانوار،ج 43، ص 86
[6] محمد محمدی اشتهاردی، حضرت معصومه فاطمه دوم، ص 133
[7] محمد محمدی اشتهاردی، حضرت معصومه فاطمه دوم، ص 140
[8] حضرت معصومہ (س) کا زیارت نامہ
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا :
ولادت یکم ذیقعدہ 173 ق
شہادت: 10 ربیع الثانی، سنہ 201ق