بعض روایات کی روشنی میں حضرت معصومہ (س) شفاعت کرنے کے بلند مقام پر بھی فائز ہیں۔ مذکورہ بالا روایات سے کہ جن میں بی بی معصومہ کی زیارت کا ثواب جنت میں جانا ذکر ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ بی بی معصومہ کا اپنے زائرین کی شفاعت کر کے انکو جنت میں لے جانا، بھی اس معنی کی تائید کرتا ہے کہ بی بی معصومہ عملی طور پر شفاعت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ فقط اپنے زائرین کی شفاعت کرنے کی صلاحیت رکھتیں ہیں، بلکہ بی بی کا اپنے زائرین کی شفاعت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زائرین کا بی بی کی شفاعت سے استفادہ کرنے کا زیادہ حق ہے، اس لیے کہ بی بی معصومہ کے زائرین نے سختیاں، مشکلات برداشت کر کے اور اپنی جان کو خطروں میں ڈال کر انکی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے ، اس لیے انکا زیادہ حق ہے کہ وہ بی بی کی شفاعت سے جنت میں جانے کا فائدہ حاصل کریں، ورنہ بی بی کی شفاعت کرنے کا دائرہ بہت وسیع ہے کہ جو تمام کائنات کے شیعوں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہےاور بی بی معصومہ کی ذات ان تمام شیعوں کی شفاعت کرنے کی قابلیت اور صلاحیت رکھتیں ہیں۔
بی بی معصومہ کے مقام شفاعت پر فائز ہونے کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں کہ یہاں پر ہم صرف دو روایت کے ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
الف) حضرت معصومہ (س) کا معروف زیارت نامہ
علامہ مجلسی کی نقل کے مطابق بی بی کا زیارت نامہ بعض کتابوں میں علی ابن ابراہیم سے اور اس نے اپنے والد ابراہيم ابن ہاشم اور اس نے سعد سے اور اس نے امام رضا (ع) سے نقل ہو کر ذکر ہوا ہے۔ زیارت نامے کی عبارت ایسے ہے:
رَأَيتُ فِي بَعْضِ كُتُبِ الزِّيارَاتِ حَدَّثَ عَلِي بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ عَنْ عَلِي بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع قَالَ قَالَ: يا سَعْدُ عِنْدَكُمْ لَنَا قَبْرٌ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَبْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُوسَى ع قَالَ نَعَمْ مَنْ زَارَهَا عَارِفاً بِحَقِّهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ فَإِذَا أَتَيتَ الْقَبْرَ فَقُمْ عِنْدَ رَأْسِهَا مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَ كَبِّرْ أَرْبَعاً وَ ثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً وَ سَبِّحْ ثَلَاثاً وَ ثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَ احْمَدِ اللَّهَ ثَلَاثاً وَ ثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ثُمَّ قُلِ ... يا فَاطِمَةُ اشْفَعِي لِي فِي الْجَنَّةِ فَإِنَّ لَكِ عِنْدَ اللَّهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَخْتِمَ لِي بِالسَّعَادَةِ فَلَا تَسْلُبَ مِنِّي مَا أَنَا فِيهِ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لَنَا وَ تَقَبَّلْهُ بِكَرَمِكَ وَ عِزَّتِكَ وَ بِرَحْمَتِكَ وَ عَافِيتِكَ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ أَجْمَعِينَ وَ سَلَّمَ تَسْلِيماً يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
میں نے زیارت کی بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ علی ابن ابراہیم سے اور اس نے اپنے والد ابراہيم ابن ہاشم اور اس نے سعد سے اور اس نے امام رضا (ع) سے نقل کیا ہے کہ امام رضا نے فرمایا ہے کہ: اے سعد، تمہارے پاس ہم اہل بیت کی ایک قبر موجود ہے۔ سعد نے کہا کہ: میں آپ پر قربان ہو جاؤں، کیا آپکی مراد امام موسی کاظم کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے ؟ امام رضا نے فرمایا: ہاں، جو بھی اسکی زیارت کرے گا، اسکی جزا جنت ہو گی۔
پھر جب قبر کے نزدیک ہو تو قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاؤ، 34 مرتبہ الله اکبر، 33 مرتبہ سبحان الله اور 33 مرتبہ الحمد لله کہو، پھر کہو کہ: اے فاطمہ معصومہ جنت میں جانے کے لیے میری شفاعت فرمائیں، کیونکہ آپکے لیے خداوند کی بارگاہ میں عظیم مرتبہ و منزلت ہے۔ خداوندا میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا خاتمہ سعادت اور خیر پر فرمانا اور مجھ سے میرے اس عقیدے اور ایمان کو سلب نہ فرمانا۔ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ. خدايا میری دعاؤں کو قبول فرما اور اپنے درود و سلام کو محمد و آل محمد پر نازل فرما۔ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِين.
المجلسي، محمد باقر (متوفاى 1111هـ)، بحار الأنوار ، ج 99 ص 266، تحقيق : محمد مهدي السيد حسن الموسوي الخرسان ، السيد إبراهيم الميانجي ، محمد الباقر البهبودي، ناشر : دار إحياء التراث العربي - بيروت – لبنان.
ب) روايت امام صادق (ع)
قاضی نور الله شوشتری نے كتاب مجالس المؤمنين میں امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہوئے ایسے لکھا ہے کہ:
اس بارے میں امام صادق نے فرمایا ہے کہ: خداوند کا حرم، مکے میں ہے، رسول خدا (ص) کا حرم، مدینے میں ہے، امیر المؤمنین علی (ع) کا حرم، کوفے میں ہے،اور ہم اہل بیت کا حرم، قم میں ہے۔
قم ایک چھوٹا کوفہ شمار ہوتا ہے، جنت کے آٹھ دروازے ہیں کہ ان میں سے تین قم کی جانب کھلتے ہیں ، (یعنی اس بی بی کی زیارت اور اس شہر سے پھیلے ہوئے علم کی وجہ سے بہت شیعہ جنت میں داخل ہوں گے) پھر امام (ع) نے فرمایا: میری اولاد میں سے ایک خاتون کہ جسکا نام فاطمہ بنت موسی کاظم ہے