شہر بانو کو شادی کا اختیار
شہر بانو کو شادی کا اختیار

جب فارس کے قیدی مدینہ لائے گئے تو عمر نے ارادہ کیا کہ عورتوں کو فروخت کر دیا جائے اور مردوں کو عربوں کا غلام بنا دیا جائے۔ نیز اس نے یہ بھی عزم کیا کہ بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگوں کو طوافِ کعبہ کے دوران اپنے کندھوں پر اٹھایا جائے۔

 

اس موقع پر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:

"نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: معزز قوم کے لوگوں کی عزت کرو اگرچہ وہ تمہارے مخالف ہوں۔ یہ فارسی لوگ حکیم اور معزز ہیں، انہوں نے ہماری طرف صلح کا ہاتھ بڑھایا ہے اور اسلام کی طرف رغبت ظاہر کی ہے۔ لہٰذا میں نے اللہ کی رضا کے لیے اپنا اور بنی ہاشم کا حق ان کے بارے میں معاف کر دیا۔"

 

اس پر مہاجرین اور انصار نے کہا: اے رسول اللہ کے بھائی! ہم نے بھی اپنا حق آپ کو بخش دیا۔

تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "اے اللہ! گواہ رہ، انہوں نے اپنا حق بخش دیا اور میں نے قبول کر لیا اور انہیں آزاد کر دیا۔"

 

عمر نے کہا: علی بن ابی طالب مجھ سے سبقت لے گئے اور انہوں نے عجمیوں کے بارے میں میرے ارادے کو ختم کر دیا۔

 

اس کے بعد بادشاہوں کی بعض بیٹیوں کے بارے میں لوگوں نے رغبت ظاہر کی کہ ان سے نکاح کریں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "ہم انہیں اختیار دیں گے، ہم ان پر جبر نہیں کریں گے۔"

 

چنانچہ یزدجرد کی بیٹی شہر بانو کو اختیار دیا گیا۔ وہ پردے میں رہی اور ابتدا میں خاموش رہی۔ اس سے کہا گیا: اے اپنی قوم کی معزز بیٹی! اپنے خواستگاروں میں سے کس کو انتخاب کرتی ہو؟ کیا تم نکاح پر راضی ہو؟

وہ خاموش رہی۔

 

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "اس کی خاموشی اس کی رضامندی ہے اور اس کے لیے اختیار باقی ہے۔"

 

جب دوبارہ اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: "میں روشن نور اور چمکتے ہوئے ستارے (یعنی حسین علیہ السلام) کو چھوڑ کر کسی اور کو اختیار نہیں کروں گی، اگر مجھے اختیار دیا گیا ہے۔"

 

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "تم کس کو اپنا ولی منتخب کرتی ہو؟"

اس نے کہا: "آپ کو۔"

 

پھر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حذیفہ بن یمان کو حکم دیا کہ نکاح کا خطبہ پڑھیں، چنانچہ انہوں نے خطبہ پڑھا اور اس کا نکاح امام حسین علیہ السلام سے کر دیا گیا۔

 

۔

 

روایاتِ مناقب کی اعتباریت

 

ابن شہرآشوب مازندرانی رضوان اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 

"میں نے اس کتاب میں یہ قصد کیا ہے کہ احادیث کے متون کو اختصار کے ساتھ نقل کروں، اور طوالت و کثرت سے اجتناب کروں۔ اسی طرح میں نے ظاہری دلائل پیش کرنے اور ان کے مفہوم و معنی پر استدلال کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔ نیز میں نے احادیث کی اسناد کو ان کی شہرت کی وجہ سے حذف کر دیا ہے، اور اس لیے بھی کہ میں نے ان کے راویوں، طرق اور ان کتابوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے جن سے یہ احادیث اخذ کی گئی ہیں، تاکہ اس طرح یہ روایات مرسل (بلا سند) کی حد سے نکل کر مسند (سند والی) روایات کے درجے میں شمار ہوں۔"

 

📚 ماخذ: مناقب آل ابی طالب، ابن شہرآشوب مازندرانی، جلد 1، صفحات 34-35

.

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2