امام (ع) نے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا :
" ابھی تم لوگوں نے اسکی باتیں سنیں -
اب ذرا میرے ساتھ چلو - اور میرا رد عمل بھی دیکھو -،،
(تربیت کرنے کا یہ بہترین انداز ھے)
اصحاب : ہم سب آپکے ساتھ ہیں - لیکن اگر آپ اسی وقت جبکہ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہا تھا - اسکا جواب دے دیتے تو کیا بہتر تھا ۔۔؟
امام (ع) اصحاب کیساتھ اس شخص کے گھر کیطرف روانہ ھوئے - اور راستہ میں اس آیہ شریفہ کی تلاوت فرماتے تھے - والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنینط (1)
مومنین کی صفت بیان کرتے ھوئے کہا جا رہا ھے :
" مومنین وہ ہیں - جوغصہ کو پی لیتے ہیں - اور لوگوں کو معاف کر دیا کرتے ہیں - اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔،،
اصحاب نے لب ہائے مبارک سے یہ آیہ کریمہ سنی تو سمجھ گئے - کہ امام (ع) بدلہ لینے کی غرض سے نہیں جا رھے ہیں - بلکہ ابر کرم برسانے جا رھے ہیں ۔ امام (ع) اس شخص کے گھر پہنچتے ہیں ۔
امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ :
اس شخص سے کہہ دو - کہ علی ابن الحسین (ع) آئے ہیں -- وہ شخص امام (ع) کی آواز سنتے ہی سمجھا کہ امام (ع) بدلہ لینے کی غرض سے آئے ہیں ۔۔ اسی بنا پر وہ جنگ کے لیئے آمادہ ہوکر گھر سے باہر نکلا - تو آپ ' خلق عظیم ، کے وارث (ع) اس شخص سے یوں مخاطب ھوئے -
" بھائی ! ابھی تھوڑی دیر پہلے تم میرے پاس آئے تھے - اور کچھ کہہ رہے تھے - تو جو کچھ تم نے کہا ھے - اگر وہ چیزیں مجھ میں پائی جاتی ہیں - تو خدا مجھے معاف فرمائے - اور اگر وہ چیزیں مجھ میں نہیں پائی جاتیں ہیں - تو میں تیرے لیئے بارگاہ خدا وندی میں دست بہ دعا ھوں - کہ خداوند تجھے معاف فرمائے -،،
امام (ع) کا جواب سن کر وہ شخص شرم سے پانی پانی ہو گیا - پھرقدم بڑھا کر امام (ع) کی پیشانئ مبارک کا بوسہ لیا اور کہنے لگا - جو کچھ میں نے کہا اس کاشائبہ بھی آپ (ع) کی ذات والا صفات میں نہیں پایا جاتا - بلکہ صحیح معنوں میں اس کا حقدار میں خود ھوں - (2)
حوالہ کتب :
۔
اخلاق
💢 ہم کو اھلبیت علیہم السلام کے نقش قدم پر چلنا چاہئے :
✅ ایک مرد حضرت امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا :
میں ابھی ابھی فلاں آدمی کی محفل سے اٹھ کر آرہا ہوں اور وہ دوبارہ آپ کو کہہ رہا ہے : علی بن الحسین (ع) گمراہ شخص اور بدعت گزار ہیں (نعوذ باللہ)
امام سجاد علیہ السلام نے جواب میں فرمایا :
وہ باتیں جو خصوصی محفل میں کہی گئی ہیں ، امانت ہیں
اور تم نے اس شخص کی محفل کے حقوق کی رعایت نہیں کی ! اور ہمارے حق کی بھی رعایت نہیں کی کیونکہ (میرے بھائی) کی ایسی بات بتائی ہے کہ جس کی مجھے خبر نہیں تھی ۔
📚 الاحتجاج طبرسی ج۲ ، ص۱۳۸