Back to امام علی بن الحسین ع

امام زین العابدینؑ کی مختصر سوانح حیات

ولادت باسعادت حضرت امام زین العابدین(ع) مبارک ہو ❤️
نام و نسب اسم گرامی : علی ابن الحسین (ع)
نام، کنیت، القاب
آپ کا اسم گرامی ”علی“
کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی۔
آپ کے القاب بےشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، سجاد اور عابد زیادہ مشہور ہیں
مطالب السؤال ص ۲۶۱ / شواہدالنبوت ص ۱۷۶،
لقب زین العابدین کی توجیہ
علامہ شبلنجی کا بیان ہے کہ امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے
نورالابصار ، ص ۱۲۶
تاریخ ولادت : ۵ / شعبان دوسری روایت کے مطابق ۷/ شعبان ۳۸ھء
جائے ولادت : مدینہ منورہ
مدت امامت : ۳۵/ سال
عمر : ۵۷/ سال
تاریخ شھادت : ۲۵/ محرم ۹۵ھء
شھادت کا سبب : ھشام ابن عبد الملک نے زھر دیکر شھید کیا
مزار مقدس : مدینہ منورہ ،جنت البقیع
اولاد کی تعداد : ۱۱/ بیٹے اور ۴/ بیٹیاں
بیٹوں کے نام : (۱) محمد باقر(ع) (۲) عبد اللہ (۳) حسن (۴) حسین (۵) زید (۶) عمرو(۷) حسین اصغر (۸) عبد الرحمن (۹) سلیمان (۱۰) علی (۱۱) محمد اصغر
بیٹیوں کے نام : (۱) خدیجہ (۲) فاطمہ (۳) علیا (۴) ام کلثوم
بیویاں : ۲ ھمسر اور چند کنیزیں
انگوٹھی کے نگینے کا نقش : ”حسبی اللہ لکلّ ھمٍ“
-----------------------
آپ ع کی ولادت باسعادت :
علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانو ایران سے مدینہ کے لیے روانہ ہو رہی تھیں توجناب رسالت مآب نے عالم خواب میں ان کا عقدحضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ پڑھ دیا تھا
جلاء العیون ص ۲۵۶
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل ""کسری"" کی بیٹی تھیں
ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب
علامہ طریحی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے شہربانو سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے تو انہوں نے کہا ""شاہ جہاں""
حضرت نے فرمایا نہیں اب ""شہربانو""ہے۔
مجمع البحرین ص ۵۷۰
اورجب آپ وارد مدینہ ہوئیں تو حضرت علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے سپرد کرکے فرمایا کہ یہ وہ عصمت پرور بی بی ہے کہ جس کے بطن سے تمہارے بعد افضل اوصیاء اور افضل کائنات ہونے والا بچہ پیدا ہو گا چنانچہ حضرت امام زین العابدین متولد ہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کا لطف نہ اٹھا سکے، آپ کے پیدا ہوتے ہی جناب شہربانو کی وفات ہو گئی۔
دمعة ساکبة جلد ۱ ص ۴۲۶
تربیت :
حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کا ابھی دو برس کا سن تھا جب آپ ع کے دادا حضرت امیر علیہ السّلام کا سایہ سر سے اٹھ گیا. امام زین العابدین علیہ السّلام اپنے چچا حضرت امام حسن علیہ السّلام اور والد امام حسین علیہ السّلام کی تربیت کے سایہ میں پروان چڑھے . بارہ برس کی عمر تھی جب امام حسن علیہ السّلام کی وفات ھوئی .اب امامت کی ذمہ داریاں آپ کے والد حضرت امام حسین علیہ السّلام سے متعلق تھیں .شام کی حکومت پر بنی امیہ کا قبضہ تھا اور واقعات کربلا کے اسباب حسینی جھاد کی منزل کو قریب سے قریب تر لارہے تھے . یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت زین العابدین علیہ السّلام بلوغ کی منزلوں پر پھنچ کر جوانی کی حدوں میں قدم رکھ رہے تھے ۔
شادی :
اسی زمانہ میں جب کہ امام حسین علیہ السّلام مدینہ میں خاموشی کی زندگی بسر کررھے تھے حضرت نے اپنے فرزند سید سجاد علیہ السّلام کی شادی اپنی بھتیجی یعنی حضرت امام حسن علیہ السّلام کی صاحبزادی کے ساتھ کردی جن کے بطن سے امام محمدباقر علیہ السّلام کی ولادت ھوئی اور اس طرح امام حسین علیہ السّلام نے اپنے بعد کے لئے سلسلۂ امامت کے باقی رھنے کا سامان خود اپنی زندگی میں فراھم کردیا .
اگرچہ ہمارا عقیدہ ہے کہ امام بطن مادر سے امامت کی تمام صلاحیتیوں سے بھرپور آتا ہے تاہم فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری اسی وقت ہوتی ہے جب وہ امام زمانہ کی حیثیت سے کام شروع کرے یعنی ایسا وقت آجائے جب کائنات ارضی پر کوئی بھی اس سے افضل واعلم برتر و اکمل نہ ہو۔ امام زین العابدین اگرچہ وقت ولادت ہی سے امام تھے لیکن فرائض کی ادائیگی کی ذمہ داری آپ پراس وقت عائد ہوئی جب آپ کے والد ماجد حضرت امام حسین علیہ السلام درجہ شہادت پرفائز ہو کرحیات ظاہری سے محروم ہوگئے۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت ۳۸ ھ میں ہوئی جبکہ حضرت علی علیہ السلام امام زمانہ تھے دوسال ان کی ظاہری زندگی میں آپ نے حالت طفولیت میں ایام حیات گزارے پھر ۵۰ ھ تک امام حسین علیہ السلام کا زمانہ رہا پھرعاشورا، ۶ ۱ ھ تک امام حسین علیہ السلام فرائض امامت کی انجام دہی فرماتے رہے عاشورکی دوپہر کے بعد سے ساری ذمہ داری آپ پرعائد ہوگئی۔ اس عظیم ذمہ داری سے قبل کے واقعات کا پتہ صراحت کے ساتھ نہیں ملتا،البتہ آپ کی عبادت گزاری اور آپ کے اخلاقی کارنامے بعض کتابوں میں ملتے ہیں ۔ بہرصورت حضرت علی علیہ السلام کے آخری ایام حیات کے واقعات اورامام حسن علیہ السلام کے حالات سے متاثرہونا ایک لازمی امر ہے ۔ پھرامام حسین علیہ السلام کے ساتھ تو ۲۳ ۔ ۲۲ سال گزارے تھے یقینا امام حسین علیہ السلام کے جملہ معاملات میں آپ نے بڑے بیٹے کی حیثیت سے ساتھ دیا ہی ہوگا لیکن مقصد حسین کے فروغ دینے میں آپ نے اپنے عہد امامت کے آغاز ہونے پر انتہائی کمال کردیا۔
واقعہ کربلا کے سلسلہ میں امام زین العابدین کا شاندارکردار
۲۸/ رجب ۶۰ ھ کو آپ حضرت امام حسین کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہوکرمکہ معظمہ پہنچے ۔ چارماہ قیام کے بعد وہاں سے روانہ ہوکر ۲/ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوئے۔ وہاں پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے آپ علیل ہوگئے اورآپ کی علالت نے اتنی شدت اختیارکی کہ آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت تک اس قابل نہ ہوسکے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت حاصل کرتے۔
تاہم فراہم موقع پرآپ نے جذبات نصرت کو بروئے کارلانے کی سعی کی جب کوئی آوازاستغاثہ کان میں آئی آپ اٹھ بیٹھے اورمیدان کار زار میں شدت مرض کے باوجود جا پہنچنے کی سعی بلیغ کی۔ امام کے استغاثہ پرتوآپ خیمہ سے بھی نکل آئے اورایک چوب خیمہ لے کر میدان کا عزم کر دیا۔ ناگاہ امام حسین کی نظرآپ پرپڑگئی اورانہوں نے جنگاہ سے بقولے حضرت زینب کوآواز دی ”بہن سید سجاد کو روکو ورنہ نسل رسول کا خاتمہ ہوجائے گا“ حکم امام سے زینب نے سید سجاد کو میدان میں جانے سے روک لیا یہی وجہ ہے کہ سیدوں کا وجود نظر آ رہا ہے اگرامام زین العابدین علیل ہوکر شہید ہونے سے نہ بچ جاتے تونسل رسول صرف امام محمد باقرمیں محدود رہ جاتی،امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ مرض اورعلالت کی وجہ سے آب درجہ شہادت پرفائزنہ ہوسکے
نورالابصار ص ۱۲۶
🔴 القاب امام سید الساجدین
هو آدم الثاني، هو نوح الثاني، هو إبراهيم الثاني، هو
سيد العباد، وهو العابد السجاد، هو زين العبادين
وسيد المجتهدين، وامام المؤمنين وأبو الأئمة المعصومين
وبقية الصالحين، واحد البكائين. وهو المنعوت بذى
الثفنات، والناطق له الحجر بالبينات وهو ذو الاعلام
الباهرات، وصاحب المعجزات والكرامات، سمى جده
على وشبيهه في العبادات ويقال له قايم الليل صايم
النهار الراغب في الآخرة الزاهد في الدنيا، المصفر اللون
من السهر، المنخرم الانف والجبهة من السجود هو حسن
الصحبة وزوار الكعبة، حليف القرآن، حبيب الرحمن
صالح أهل بيت الخير رفيق الملائكة والخضر المغضى من
الحياء المتشوق إلى الدعا يكنى بابا محمد وأبا الحسر وأبا بكر
بقي مع جده أمير المؤمنين سنتين ومع عمه الحسن عشر
سنين ومع أبيه بعده عشر سنين وبقى بعد مضى أبيه
خمسا وثلثين سنة فصل امتلأ بسيط الأرض
🔴 امام زین العابدینؑ کی مختصر سوانح حیات 🔴
حضرت امام علی بن الحسین (علیہما السلام) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین اور سیرہ نگاروں میں اتفاق نہیں ہے ـ بعض نے پانچ شعبان اور بعض نے ساتویں شعبان اور بعض نے نو شعبان اور بعض نے پندرہ جمادی الاول کو ولادتکی تاریخ بیان کی ہے اور دن کے ساتھ ساتھ سال کے بارے میں بھی اختلاف نظر ہے ـ بعض نے سن۳۸ ھ ، بعض نے سن ۳۶ ھ ، اور بعض نے ۳۷ھ ، بیان کیا ہے ـ (1)
چوتھے امام زین العابدین (علیہ السلام) کا نام علی ہے۔ آپ حسین بن علی بن ابیطالب (علیہم السلام) کے فرزند ارجمند ہیں، آپ کے القاب میں ’’سجاد‘‘ اور ’’زین العابدین‘‘ بہت مشہور ہیں۔
امام سجاد (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت ۳۸ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آنحضرت کربلا کے واقعہ کے دوران بیمار تھے، اس لیے ان کے والد ماجد (ع) نے انہیں جہاد کی اجازت نہیں دی۔
در اصل خدا کی مصلحت تھی کہ امامت کے سلسلے کی کڑی محفوظ رہے اور امام سجاد (علیہ السلام) عظیم رسالت کے وارث یعنی امام اور ولی قرار پائیں۔ یہ عارضی بیماری چند روز سے زیادہ باقی نہیں رہی اور اس کے بعد امام (علیہ السلام) ۳۵ برس با حیات رہے۔ امام (ع) نے عمر بھر جد و جہد کی عوام الناس کی خدمت کی اور خدا کی عبادت اور اس سے راز و نیاز کیا۔
امام سجاد (علیہ السلام) جب خدا کے امر اور پیغمبر اسلام (ص) کی وصیت کے مطابق، سنہ ۶۱ ہجری میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ کی عمر تقریبا ۲۴ برس تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ جناب شہربانو یزد گرد ساسانی کی بیٹی تھیں۔
واقعہ کربلا کے بعد جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ امام حسین (علیہ السلام) کی عظیم قربانی اور اس کے پیغام کو نشر کرنا تھا۔ اس اہم ذمہ داری کو امام زین العابدینؑ اور ان کی پھوپھی جناب زینب (سلام اللہ علیہا)نے اسیر ہونے کے باوجود بہت ہی شجاعت اور شہامت سے انجام دیا۔
***
واقعۂ کربلا کے بعد جب اہل بیت اطہار(علیہم السلام) کو اسیر بناکر شام لے جایا گیا، اور اسیروں کو دمشق میں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا، تو امام زین العابدین(علیہ السلام) نے یزید کو خطاب کرکے فرمایا، یزید، خدا کی قسم تو کیا سوچتا ہے اگر پیغمبر خدا (ص) ہمیں اس حال میں دیکھیں تو کیا سوچے گیں؟ یہ جملہ سن کر یزید نے حکم دیا کہ اسیروں کے پیروں سے بھاری بھاری زنجیریں اور بیڑیاں اتار دی جائیں۔ دربار میں موجود لوگ یہ منظر دیکھ کر رونے لگے۔
ایک روز خطیب دربار منبر پر گیا اور حضرت علی (علیہ السلام) اور اہل بیت اطہار کے سلسلے میں (نعوذ باللہ) بد کلامی کرنے لگا اور معاویہ اور یزید کی تعریف میں قصیدے پڑھنے لگا۔
امام زین العابدین(علیہ السلام) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا مجھے بھی منبر پر جاکر کچھ کہنے کا موقع دے، جس سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو اور یہاں موجود افراد کو ثواب حاصل ہو۔ یزید خاندان عصمت و طہارت کے علم و معرفت اور فصاحت و بلاغت سے واقف تھا اس لیے خوفزدہ تھا اور امام کو اجازت دینے سے ہچکچا رہا تھا، لیکن لوگوں کے اصرار پر مجبور ہوا اور امام کو منبر پر جانے کی اجازت دی۔
امام زین العابدین(علیہ السلام) رونق افروز منبر ہوئے اور ایسی تقریر کی کہ لوگوں کے دل ان کے حلقوم میں اٹکنے لگے اور آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب جاری ہونے لگے، مرد و خواتین رونے اور چلانے لگے، دربار میں ایک کہرام مچ گیا، امام(علیہ السلام) نے فرمایا اے لوگوں! خدا نے ہمیں چھ چیزیں عطا کی ہیں، اور دوسروں پر ہماری فضیلت سات چیزوں کی وجہ سے ہے۔ خدا نے ہمیں علم، حلم، سخاوت، کرم، فصاحت اور شجاعت عطا کی ہے اور مومنین کے قلوب میں ہماری محبت ڈال دی ہے۔ خدا کی یہی مرضی ہے کہ مومنین ہم سے محبت کریں۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ ہمارے دشمن اسے چھین نہیں سکتے۔ اس کے بعد فرمایا، پیغمبر خدا محمد ( ص ) ہم میں سے ہیں، ان کے وصی و ولی علی بن ابی طالب(علیہم السلام)ہم میں سے ہیں، سید الشهداء حمزه ہم میں سے ہیں، جعفر طیار ہم میں سے ہیں، نواسۂ رسول حسن و حسین (علیہما السلام) ہم میں سے ہیں، اس امت کے مهدی اور امام آخر الزمان ہم میں سے ہیں۔
اس کے بعد امام (ع) نے اپنا تعارف کرایا، وہاں ایسا کہرام مچا کہ یزید نے امام کے کلام کو قطع کرنے کے لیے اذان کا حکم دیا۔ مؤذن نے اذان دینا شروع کی تو امام نے خاموشی اختیار کر لی، جب موذن نے کہا ’’اشهد ان محمدا رسول الله‘‘ امام نے سر سے عمامہ اتارا اور فرمایا، تجھے اسی محمد(ص) کا واسطہ،ذرا ٹہر جا، اس کے بعد یزید کی جانب رخ کیا اور فرمایا، کیا یہ عظیم پیغمبر(ص) تیرے جد ہیں یا ہمارے؟ اگر تو یہ کہے کہ تیرے تو یہ سب جانتے ہیں کہ تو جھوٹ بولے گا، اور یہ کہے کہ ہمارے، تو کیوں تونے ان کے لاڈلے حسین (ع) کو قتل کیا؟ کیوں ان کی اولاد کو مار ڈالا؟ کیوں انہیں لوٹا؟ کیوں ان کی خواتین اور بچوں کو اسیر بنایا؟
ایک کہرام بپا ہو گیا، لوگ غش کھا کھا کر گرنے لگے۔ یہ پیغام کربلا تھا جو سب کے کانوں تک پہنچا۔ یہ حق کی وہ آواز تھی جسے تاریخ نے اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ یزید سے جب کوئی بات نہیں بن پڑی تو اس نے ابن زیاد کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اور لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کربلا کے لٹے ہوئے قافلے کے ساتھ آنے والے سپاہیوں کو سزا کا حکم دیا۔
امام کی تقریر نے یزید کے کریہہ چہرے سے نقاب نوچ پھینکی اور وہ اتنا کمزور ہوگیا کہ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اپنے مظالم کا دفاع کیسے کرے۔ اس نے امام (ع) سے پوچھا، آپ شام میں رہنا چاہتے ہیں یا مدینہ جانا چاہتے ہیں؟ امام زین العابدینؑ اور جناب زینب کبریؑ نے فرمایا، ہم اپنے جد امجد کی قبر مطہر پر واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔
امام سجاد (علیہ السلام) کے عظیم علمی اور عرفانی کارناموں میں سے ایک صحیفہ سجادیہ ہے۔ اس کتاب میں ۵۷ دعائیں اور مناجات ہیں۔ ان دعاؤں میں توحید کے علاوہ سماجی اور اخلاقی موضوعات کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے کہ اسے "زبور آل محمد ( ص )" کہا جاتا ہے۔
بنی امیہ کے حاکم ہشام کے حکم پر ولید ابن عبد الملک ملعون نے امام زین العابدین (علیہ السلام) کو زہر دیا،۹۵ہجری میں امام کی شہادت واقع ہوئی اور آپ (ع) کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
منبع:
مناقب آل ابی طالب (ابن شہر آشوب)، ج3، ص 310؛ وصول الأخبار (بہایی عاملی)، ص 42؛ بحارالأنوار (علامہ مجلسی)، ج 64، ص 12؛ منتہی الآمال (شیخ عباس قمی)، ج2، ص 1