کوئی بھی تھوڑی سی حرکت اموی حکومت کے جاسوسوں سے چھپی ھوئی نہیں تھی ۔
[ فروع کافی جلد ۵ ، صــ ۳۴۴ اور طبقات کبریٰ ، بحار الأنوار ، الامامۃ و السیاست اور عیون الأخبار ] میں ھے کہ :
مدینہ میں عبدالملک بن مروان کے جاسوس نے ایک دن اسے یہ رپورٹ بھیجی کہ ....!
"علیؑ بن الحسینؑ کی جو کنیز تھی انہوں نے اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ نکاح کر لیا ھے" ۔
چنانچہ اس کے پیش نظر عبدالملک نے امام علیہ السلام کو ایک خط لکھا جس میں عبدالملک نے امامؑ کے اس قدام کو ان کے لئے عیب اور نقص قرار دیا ۔
اور آپؑ پر سخت نکتہ چینی کی کہ آپؑ نے اپنے خاندان ( قریش ) کی کسی عورت سے شادی کیوں نہیں کی جو آپؑ کے شایان شان تھی ....؟
امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں لکھا :
”اس دنیا میں پیغمبرِ اسلام صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نہیں ھے انہوں نے بھی اپنی کنیز اور اپنے غلام کی مطلقہ عورت سے شادی کی تھی ،
خدا وندِ عالم نے اسلام کے ذریعہ ھر پست کو بلند کر دیا ھے ھر ناقص کو اس کے ذریعے کامل کر دیا ھے اور لئیم کو کریم بنایا ھے ۔
لہٰذا کوئی بھی مسلمان شخص پست نہیں ھے اور جاہلیت کی پستی سے کوئی زیادہ پست نہیں ھے"......
{ خانگی اور ذاتی معاملات } بھی اس سے مخفی نہیں ھیں .....
تو اب آپ ھی بتائیے کہ ان حالات میں کسی قسم کی إنقلابی سرگرمی کا امکان کیونکر ھو سکتا ھے ...؟
انہی تلخ اور ناگوار حالات کو امام سجادؑ نے درک کر لیا تھا جنکی وجہ سے آپؑ اللّہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ھیں ۔
اور جو ( صحیفہ کاملہ کی ۴۹ ویں ) دعا دشمن کے مکر و فریب سے بچنے کیلئے ھے ۔
آپؑ اللّہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ھیں :
کتنے ھی ایسے دشمن ھیں جنہوں نے شمشیرِ عداوت کو میرے لئے بے نیام کیا ھوا ھے ۔
اور میرے لئے چھری کی دھار کو باریک اور اپنی تندی و سختی کی باڑ کو تیز کیا ھوا ھے
اور پانی میں میرے لیے مہلک زہروں کی آمیزش کی ھوئی ھے اور کمانوں میں تیروں کو جوڑ کر مجھے نشانہ کی زد پر رکھا ھوا ھے اور انکی تعاقب کرنے والی نگاہیں مجھ سے ذرا بھی غافل نہیں ھیں ۔
اور دل میں میری ایذارسانی کے منصوبے باندھتے اور تلخ جرعوں کی تلخی سے مجھے پیہم تلخ کام بناتے رھے ۔
تو اے معبود !
ان رنج و آلام کی برداشت سے میری کمزوری اور مجھ سے آمادہ پیکار رھنے والوں کے مقابلہ میں انتقام سے میری عاجزی اور کثیر تعداد والے دشمنوں اور ایذارسانی کیلئے گھات لگانے والوں کے مقابلہ میں میری تنہائی تیری نظر میں تھی جس کی طرف سے میں بے فکر تھا ۔
تو نے میری مدد میں پہل اور اپنی قوت اور طاقت سے میری کمر مضبوط کی ۔۔۔
عاشوراء محرم کے درد ناک سانحہ کے بعد حضرت امام زین العابدینؑ کو نہایت ھی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا ...
اور آپؑ کے سامنے ایک مشکل دوراہہ تھا اور وہ یہکہ یا تو آپؑ اپنے عقیدت مندوں اور پیروکاروں کے جذبات سے فائدہ اُٹھاتے ھوئے انکے اندر جذباتی اور احساساتی کیفیت پیدا کرتے اور اسطرح سے ایک تیز و تند تحریک شروع کر دیتے اور ایک تہور آمیز عمل کا آغاز کر دیتے ۔
حکومتِ وقت کے خلاف علم مخالفت بلند کر دیتے اور ایک حادثے کو برپا کرنے کا سبب بن جاتے تو اسکا کیا نتیجہ نکلتا ھے ...؟
یہی کہ یہ حادثہ ایک بھڑکتے ھوئے شعلے کی مانند فوراً بجھا دیا جاتا اور بنی امیہ کیلئے تاخت و تاراج کا ایک سنہری موقع ہاتھ آجاتا اور افکار و سیاسیات کا میدان انکے لئے خالی ھو جاتا ۔
کیونکہ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ آپؑ ایسا اقدام کریں ....
اور پھر دوسری صورت یہ تھی کہ :
سطحی احساسات اور جذبات سے فائدہ اٹھاتے ھوئے ایک پختہ اور سنجیدہ تدبیر اختیار کرتے اور ایک عظیم کام کے لئے سب سے پہلے مقدمات فراہم کرتے ایک راہنما فکر اور باصلاحیت افراد کی ضرورت کو پورا کرتے ۔
تاکہ اسطرح سے اصل اور بنیادی کام کو شروع کیا جاسکے اور وہ بنیادی کام تجدیدِ اسلام اور اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام کا قیام عمل میں لایا جاسکے ۔
اس سے ایک تو خود آپؑ کی اپنی جان بچ سکتی تھی اور اسکے ساتھ ھی ان معدودے چند قابلِ اطمینان افراد کو بھی بچایا جا سکتا تھا اور فریقِ مخالف کیلئے میدان بھی کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا ۔
اور جب تک آپؑ زندہ ھیں اور حکومتِ وقت کے جاسوسوں اور جلادوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ھیں اس محاظ سے ھی حکومت کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھے رھیں ۔
یعنی باصلاحیت افراد کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھیں اور یہ راستہ جو یقیناً منزلِ مقصود تک پہنچنے کیلئے زیادہ نزدیک تھا آپؑ کے بعد آنے والے امامؑ کے سپرد ھونا چاہیئے تھا ۔
اسمیں شک نہیں کہ پہلا راستہ فداکاری اور قربانی کا راستہ ضرور ھے ...
لیکن کسی مذہب و مسلک کے رہبر و پیشوا کے عمل کی تاثیر صرف اسکے اپنے زمانہ کے دائرہ میں محدود نہیں ھوتی بلکہ پوری تاریخ پر محیط ھوتی ھے ۔
اس کے لیے یہ بات کافی نہیں ھوتی کہ وہ ایک فداکاری اور جانثار ھو ۔
بلکہ اس سے بڑھ کر وہ دور اندیش ، وسیع النظر ، باحوصلہ اور زبردست مدبر بھی ھو ....
اور یہی وہ راستہ تھا کہ جسے امامِ سجاد علیہ السلام نے اختیار کیا ........!!!
صــ : 594 تا 596
تالیف : علامہ محمد علی فاضل