جس گھرانے کے تمام افراد ہی عبدیت الٰہی کی نہج کمال پر فائز ہوں , اس گھرانے میں زین العباد کہلوانا کیا مقام رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔
میرے مولا و آقا کس شان سے بارگاہِ الٰہی میں کھڑے ہوا کرتے تھے ، بطور ہدیہ دو روایات مومنین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔۔۔!
وروى محمد بن الحسين قال: حدثنا عبد الله بن محمد القرشي قال: كان علي بن الحسين عليهما السلام إذا توضأ اصفر لونه، فيقول له أهله: ما هذا الذي يغشاك؟
فيقول: " أتدرون لمن أتأهب للقيام بين يديه "
عبداللہ بن قرشی نے روایت کی ہے کہ جب امام زین العابدین ع وضو فرماتے تو آپ کا رنگ زرد پڑجاتا۔
ان کے اہلِ خانہ نے آپ ع پر طاری ہونے والی اس کیفیت کے متعلق دریافت کیا تو آپ ع نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ میں کس کے حضور کھڑے ہونے کی تیاری کررہا ہوں؟"
الإرشاد - الشيخ المفيد - ج ٢ - الصفحة ١٤۲
اردو نسخہ ص ۳۸۸
--------------------------
أخبرني أبو محمد الحسن بن محمد، عن جده، عن سلمة بن شبيب، عن عبيد الله بن محمد التيمي قال: سمعت شيخا من عبد القيس يقول: قال طاووس: دخلت الحجر في الليل، فإذا علي بن الحسين عليهما السلام قد دخل فقام يصلي، فصلى ما شاء الله ثم سجد، قال: فقلت: رجل صالح من أهل بيت الخير، لأستمعن إلى دعائه، فسمعته يقول في سجوده:
عبيدك بفنائك، مسكينك بفنائك، فقيرك بفنائك،سائلك بفنائك "
طالوس کا کہنا ہے کہ میں رات کے وقت حجر ( مقام اسماعیل) میں داخل ہوا تو علی ابن الحسین ع بھی تشریف لے آئے اور کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔آپ دیر تک نماز پڑھتے رہے۔
پھر آپ سجدہ میں گئے تو میں نے دل میں کہا آپ ع اہل بیتِ خیر کے صالح مرد ہیں۔ان کی دعا سننی چاہئیے۔پس آپ ع کو سجدہ میں یہ کہتے ہوئے سنا
عبيدك بفنائك، مسكينك بفنائك، فقيرك بفنائك، سائلك بفنائك
ترجمہ : " تیرا حقیر بندہ تیری ڈیوڑھی پر ، تیرا مسکین ، تیرا فقیر اور تجھ سے سوال کرنے والا ، تیری ڈیوڑھی پر کھڑا ہے".
الإرشاد - الشيخ المفيد - ج ٢ - الصفحة ١٤۳
اردو نسخہ ص ۳۸۸
____________________
خداوند عالم تمام مومنین کو سیرت امام زین العابدین علیہ السلام پر چلتے ہوئے بامعرفت عبادات الہی کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یارب العالمین
سید علی حیدر شیرازی
۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
الإمامُ الباقرُ عليه السلام : إنَّأبي عليَّ بنَالحسينِ عليه السلام ما ذَكَرَ نِعمَةَ اللَّهِ علَيهِ إلّاسَجَدَ ، ولا قَرَأ آيَةً مِن كتابِ اللَّهِ عزّو جلّ فيها سُجودٌ إلّا سَجَدَ ، ولا دَفَعَ اللَّهُ تعالى عَنهُ سُوءً يَخشاهُ أو كَيدَ كايِدٍ إلّا سَجَدَ ، ولا فَرَغَ مِن صَلاةٍ مَفروضَةٍ إلّا سَجَدَ ، ولا وُفِّقَ لإِصلاحٍ بَينَ اثنَينِ إلّا سَجَدَ ، وكانَ أثَرُ السُّجودِ في جَميعِ مَواضِعِ سُجودِهِ فَسُمِّيَ السَّجَّادَ لذلكَ .
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
"میرے والد علی بن الحسین علیہ السلام کبھی بھی اللہ کی نعمتوں کو یاد کیے بغیر سجدہ نہیں کرتے تھے۔ جب بھی اللہ کے کلام میں سجدہ کی آیت پڑھتے تھے تو سجدہ کرتے تھے۔ جب بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی خوف سے یا کسی سازش سے بچایا تو سجدہ کرتے تھے۔ فرض نمازوں کے بعد بھی سجدہ کرتے تھے اور جب بھی دو لوگوں کے درمیان صلح کی کوشش میں کامیاب ہوتے تھے تو سجدہ کرتے تھے۔ ان کے سجدے کے آثار ان کے جسم کے ہر جگہ نظر آتے تھے، اسی لیے انہیں سجاد کہا جاتا تھا۔"
حوالہ: **میزان الحکمہ، جلد 2، محمد الریشہری، صفحہ 398۔**
۔
امام محمد باقر ؑکا بیان ہے کہ” جب میرے والد ماجد(امام سجادؑ) جس وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک معمولی سا غلامی عزیم ترین بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے خوف خدا سے سارا بدن لرزنے لگتا اور چہرہ مبارک زرد ہو جایا کرتا تھا اس طرح سے نماز بجالاتے تھے کہ گویا یہی زندگی کی آخری نماز ہو
خصال صدوق ص ٥٠٧
۔
۔
امام زین العابدینؑ اور تلاوتِ قرآن
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ص أَحْسَنَ النَّاسِ صَوْتاً بِالْقُرْآنِ وَ كَانَ السَّقَّاءُونَ يَمُرُّونَ فَيَقِفُونَ بِبَابِهِ يَسْمَعُونَ قِرَاءَتَهُ وَ كَانَ أَبُو جَعْفَرٍ ع أَحْسَنَ النَّاسِ صَوْتاً.
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
قرآن خوانی کے وقت امام زین العابدینؑ سے بہتر کوئی خوش آواز نہ تھا۔ جب آپ قرآن خوانی کرتے ہوتے تو قراءت سننے کے لئے سقے (پانی بھرنے والے) آپ کے دروازے پر ٹھہر کر سنتے تھے۔
اور امام محمد باقر (ع) بھی بڑے خوش آواز تھے۔
حوالہ: [الکافی جلد 2 ص 616 طبع مکتبة الأسلامیة]
۔
امام زین العابدین ع سفر کے دوران ہمرایوں سے اپنا نسب پوشیدہ رکھتے تھے ۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ سفر کے دوران آپ ع اپنے سفر کے ساتھیوں سے اپنا نسب کیوں چھپاتے ہیں ؟ تو آپ ع نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ رسول اللہ ع کے نام پر ایسی چیز لوں جیسی میں دوسروں کو دے نہیں سکتا ۔
ربیع الابرار ۔ ج 3 ۔ ص 68
۔
عن جابر بن يزيد الجعفي، قال: قال أبو جعفر محمد بن علي الباقر (عليه السلام): إن أبي علي بن الحسين (عليه السلام) ما ذكر نعمة لله عليه إلا سجد، ولا قرأ آية من كتاب الله عز وجل فيها سجود إلا سجد. ولا دفع الله عز وجل عنه سوءا يخشاه، أو كيد كائد إلا سجد، ولا فرغ من صلاة مفروضة إلا سجد، ولا وفق لإصلاح بين اثنين إلا سجد، وكان أثر السجود في جميع مواضع سجوده، فسمي السجاد لذلك.
جابر بن یزید الجعفی سے روایت ہے کہ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا: میرے والد، علی بن الحسین (علیہ السلام) جب بھی اللہ کی کوئی نعمت یاد کرتے تو سجدہ کرتے، جب بھی قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سجدہ ہو تو سجدہ کرتے۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی مصیبت یا دشمن کی سازش سے انہیں محفوظ رکھتا تو سجدہ کرتے، جب بھی کسی فرض نماز سے فارغ ہوتے تو سجدہ کرتے، جب بھی دو افراد کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب ہوتے تو سجدہ کرتے۔ ان کے تمام سجدہ گاہوں پر سجدے کے نشان واضح تھے، اسی وجہ سے انہیں "سجاد" کہا گیا۔
ماخذ: وسائل الشیعہ، جلد 7؛ بحار الأنوار، جلد 46۔
.
.
.
.
امام زین العابدین (ع) دن اور رات میں ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، جیسے امیرالمؤمنین (ع) کرتے تھے۔ آپ کے پاس پانچ سو کھجور کے درخت تھے، اور ہر درخت کے پاس دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا اور وہ اس طرح کھڑے ہوتے جیسے کوئی ذلیل بندہ عظیم بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو۔ اللہ کے خوف سے آپ کے اعضاء لرزتے رہتے اور نماز کو ایسی نماز سمجھ کر پڑھتے کہ یہ ان کی آخری نماز ہے۔
ایک دن نماز میں آپ کا چادر ایک کندھے سے گر گیا، لیکن آپ نے نماز مکمل ہونے تک اسے ٹھیک نہ کیا۔ جب کسی نے اس بارے میں پوچھا تو فرمایا:
"افسوس! تم جانتے بھی ہو کہ میں کس کے سامنے کھڑا تھا؟ بندے کی نماز کا صرف وہی حصہ قبول ہوتا ہے جس میں اس کا دل حاضر ہو۔"
یہ سن کر وہ شخص بولا: "پھر تو ہم ہلاک ہوگئے!" امام (ع) نے فرمایا:
"نہیں، اللہ تعالیٰ نوافل کے ذریعے اس کمی کو پورا کر دیتا ہے۔"
آپ (ع) اندھیری راتوں میں اپنی پیٹھ پر تھیلا اٹھاتے، جس میں سونے، چاندی کے سکے، کھانے یا لکڑی کے گٹھے ہوتے۔ آپ مدینے کے غریبوں کے دروازوں پر جاتے، دستک دیتے اور خود ان کے ہاتھ میں رکھ کر آتے۔ چہرہ چھپا کر دیتے تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔ جب آپ (ع) کی وفات ہوئی، تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ امام زین العابدین (ع) تھے۔
جب غسل دیا گیا تو ان کی پیٹھ پر اونٹ کے زانوؤں جیسے نشانات دیکھے گئے، جو اس بوجھ کی وجہ سے تھے جو آپ فقیروں کے لیے اٹھاتے تھے۔
ایک دن آپ ایک قیمتی چادر پہنے ہوئے تھے، ایک فقیر نے اسے پکڑ لیا، آپ (ع) نے اسے وہیں چھوڑ دیا۔
سردیوں میں عمدہ چادریں خریدتے، گرمی آتی تو بیچ دیتے اور پیسے صدقہ کر دیتے۔
عرفہ کے دن آپ (ع) نے کچھ لوگوں کو دوسروں سے مانگتے دیکھا تو فرمایا:
"تمہیں کیا ہوگیا! اس دن اللہ کے سوا کسی سے مانگتے ہو؟ اس دن تو امید کی جاتی ہے کہ جو ماں کے پیٹ میں ہے وہ بھی خوش نصیب ہو جائے!"
آپ (ع) اپنی ماں کے ساتھ کھانے سے گریز کرتے۔ کسی نے پوچھا: "آپ تو سب سے زیادہ نیک اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، پھر ماں کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟"
فرمایا: "مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرا ہاتھ کسی ایسی چیز پر پڑے جس پر اس کی نظر پہلے پڑ چکی ہو۔"
ایک شخص نے کہا: "یا ابن رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کے لیے شدید محبت کرتا ہوں۔"
امام (ع) نے فرمایا: "اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی مجھے تیرے لیے محبت کرے اور تو مجھے ناپسند کرے!"
آپ (ع) نے بغیر کوڑے مارے بیس حج اونٹ پر کیے، جب وہ مر گیا تو اسے دفن کروایا تاکہ درندے نہ کھائیں۔
ایک لونڈی سے کسی نے امام (ع) کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا:
"تفصیل سے بتاؤں یا مختصر؟"
کہا گیا: "مختصر بتاؤ"، تو اس نے کہا:
"میں نے دن میں کبھی انہیں کھاتے نہیں دیکھا اور رات میں کبھی ان کے لیے بستر بچھایا نہیں۔"
ایک دن کچھ لوگ آپ (ع) کی غیبت کر رہے تھے، آپ ان کے پاس رکے اور فرمایا:
"اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو اللہ مجھے معاف کرے، اور اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تمہیں معاف کرے!"
اگر کوئی علم سیکھنے والا آتا تو فرماتے:
"مرحبا! یہ رسول اللہ (ص) کی وصیت ہے۔"
اور فرماتے: "جب کوئی علم کے طلب میں نکلتا ہے، تو زمین کا ہر خشک و تر حصہ اس کے لیے تسبیح کرتا ہے، یہاں تک کہ ساتویں زمین تک۔"
آپ (ع) مدینہ کے سو غریب خاندانوں کی کفالت کرتے تھے۔ آپ یتیموں، نابیناؤں، معذوروں اور بے سہارا لوگوں کو کھانے میں شریک کرتے، انہیں خود کھلاتے، اور اگر کسی کے اہل و عیال ہوتے تو ان کے لیے کھانے کا سامان بھیجتے۔
جب تک خود صدقہ نہ کر لیتے، کھانے میں ہاتھ نہ ڈالتے۔
ہر سال آپ کے سجدے کی جگہ سے سات نشانات (گھٹے) گرتے، جو دفن کر دیے گئے۔
آپ (ع) نے امام حسین (ع) پر بیس سال تک گریہ کیا۔
جب کھانے کے سامنے آتا تو رونے لگتے، یہاں تک کہ ایک خادم نے کہا:
"یا ابن رسول اللہ! کیا اب بھی آپ کا غم ختم نہیں ہوا؟"
آپ (ع) نے فرمایا:
"افسوس! حضرت یعقوب (ع) کے بارہ بیٹے تھے، اللہ نے ان سے ایک جدا کیا، تو وہ اتنا روئے کہ آنکھیں سفید ہوگئیں، سر کے بال سفید ہوگئے، اور کمر جھک گئی، حالانکہ ان کا بیٹا دنیا میں زندہ تھا۔
اور میں نے اپنے والد، بھائی، چچا اور اپنے خاندان کے سترہ افراد کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا، تو میرا غم کیسے ختم ہو؟!"
.
.
.
.
امام محمد باقر ع سے روایت ہے کہ
.
.
.
.
کیوں اتنی عبادتیں؟
طاؤوس کو امام سجاد(ع) کا جواب
جناب طاؤوس یمانی نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں خانہ کعبہ میں تھا میں نے دیکھا کہ ایک شخص میزاب رحمت کے نیچے نماز پڑھ رہا ہے اور دعا و گریہ میں مشغول ہے،میں اس کے پاس گیا تو دیکھا امام علی بن الحسین علیہ السلام ہیں عرض کیا: مولا! آپ اتنا کیوں گریہ کررہے ہیں جب کے آپ کے پاس ایسی ۳ چیزیں ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی کسی کے پاس موجود ہو وہ اس کی سعادت کے لئے کافی ہے جبکہ آپ کے پاس تو یہ سب ایک ساتھ ہیں:
۱۔ سب سے پہلی فضیلت تو یہ کہ آپ رسول خدا(ص) کے بیٹے ہیں۔
۲۔ آپ کے جد کی شفاعت آپ کے لئے مسلم ہیں۔
۳۔خدا کی رحمت بڑی وسیع ہے۔
امام سجاد علیہ السلام نے طاؤوس کو ان تینوں کا قرآن مجید کے ذریعہ اس طرح جواب دیا:
طاؤوس کیا تم نے قرآن مجید کی یہ آیت نہیں پڑھی: فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ۔(سورہ المؤمنون:۱۰۱)
ترجمہ: پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ تو ان کے درمیان رشتے ناطے رہیں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔
دوسرے جو تم نے شفاعت کی بات کی ہے تو اس کے لئے فرمایا: وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ۔(الانبیاء:۲۸) اور وہ کسی کی شفاعت نہیں کرتے سوائے اس کے جس سے خدا راضی ہو۔
اور جو تم نے رحمت خدا کا تذکرہ کیا تو اس کی بھی ایک شرط ہے جس کے لئے ارشاد ہوتا ہے:إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ۔(سورہ اعراف:۵۶)
ترجمہ: بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں سے قریب ہے۔
پس کسی کی شخصیت کا معیار اس کا حسب نسب ،شفاعت اور صرف رحمت نہیں ہے بلکہ خود سازی اور تہذیب نفس ہے جو انسان جتنا کمال پر پہونچے گا اسے اتنا ہی اللہ کے قریب مقام و مرتبہ نصیب ہوگا۔اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب امام سجاد(ع) معصوم ہونے کے بعد اللہ سے اتنا خوف رکھتے ہیں تو ہمیں کتنا رکھنا چاہیئے نیز یہ بھی یاد رہے کہ امام علیہ السلام تکلف اور تعارف کی زبان نہیں بولتے بلکہ ان حضرات کا کلام بالکل حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔
منبع: کشف الغمه، ج ۲، ص ۳۰۵ – بحار، ج ۴۶، ص ۱۰۱٫۔