Back to امام علی بن الحسین ع

کیا امام زین العابدین ع نے یزید کی بیعت کی تھی؟

کیا امام زین العابدین ع نے یزید کی بیعت کی تھی؟

❌ کیا امام زین العابدین ع نے یزید کی بیعت کی تھی؟ ❌

 

نواسب الکافی کی ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ جس میں امام سجاد علیہ السلام نے معاذ اللہ یزید پلید کی بیعت کرلی تھی۔  

 

📜 313- ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ فَبَعَثَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ أَتُقِرُّ لِي أَنَّكَ عَبْدٌ لِي إِنْ شِئْتُ بِعْتُكَ وَإِنْ شِئْتُ اسْتَرْقَيْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ وَاللهِ يَا يَزِيدُ مَا أَنْتَ بِأَكْرَمَ مِنِّي فِي قُرَيْشٍ حَسَباً وَلا كَانَ أَبُوكَ أَفْضَلَ مِنْ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإسْلامِ وَمَا أَنْتَ بِأَفْضَلَ مِنِّي فِي الدِّينِ وَلا بِخَيْرٍ مِنِّي فَكَيْفَ أُقِرُّ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ إِنْ لَمْ تُقِرَّ لِي وَاللهِ قَتَلْتُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَيْسَ قَتْلُكَ إِيَّايَ بِأَعْظَمَ مِنْ قَتْلِكَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ (عَلَيْهِما السَّلام) ابْنَ رَسُولِ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) مَعَ يَزِيدَ لَعَنَهُ اللهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ لِلْقُرَشِيِّ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أُقِرَّ لَكَ أَلَيْسَ تَقْتُلُنِي كَمَا قَتَلْتَ الرَّجُلَ بِالأمْسِ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ بَلَى فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ (عَلَيْهِما السَّلام) قَدْ أَقْرَرْتُ لَكَ بِمَا سَأَلْتَ أَنَا عَبْدٌ مُكْرَهٌ فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ شِئْتَ فَبِعْ فَقَالَ لَهُ يَزِيدُ لَعَنَهُ اللهُ أَوْلَى لَكَ حَقَنْتَ دَمَكَ وَلَمْ يَنْقُصْكَ ذَلِكَ مِنْ شَرَفِكَ.

 

📃 برید بن معاویہ کہتے ہیں میں نے امام باقر علیہ السلام کو فرماتے سنا: یزید بن معاویہ مدینہ داخل ہوا اور حج کرنا چاہتا تھا تو اس نے قریش کے ایک شخص کو بلایا اور وہ اس کے پاس آیا۔ یزید نے اس سے کہا: کیا تو میرے لیئے إقرار کرتا ہے کہ تو میرا غلام ہے اور اگر میں چاہوں تو تجھے بیچ دوں اور اگر چاہوں تو تجھے غلامی میں رکھوں؟ تو اس شخص نے یزید سے کہا: خدا کی قسم، اے یزید! تو قریش میں نہ مجھ سے زیادہ عزت والا ہے حسب میں اور نہ ہی تیرا باپ میرے باپ سے افضل تھا جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، اور نہ ہی تو مجھ سے دین میں افضل ہے نہ مجھ سے بہتر ہے۔ تو میں کیسے اس کا إقرار تیرے لیئے کروں جو تو نے طلب کیا ہے؟ پس یزید نے اس سے کہا: اگر تو نے إقرار نہ کیا تو خدا کی قسم میں تجھے قتل کردوں گا۔ اس شخص نے کہا: تیرا مجھے قتل کرنا اس سے بڑھ کر تو نہیں ہے جو تو نے حسین بن علیہما السلام، فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو قتل کیا ہے۔ تو یزید نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل ہوگیا۔ پھر علی بن حسین علیہما السلام کا واقعہ یزید لعنہ اللہ کے ساتھ یہ ہوا کہ اس نے علی بن حسین علیہما السلام کو پیغام بھیجا اور وہی کہا جو اس قرشی سے کہا تھا۔ پس امام علی بن حسین علیہما السلام نے اس سے کہا: میں نے جو تو نے کہا ہے اس کا تیرے لیئے إقرار کیا ہے۔ میں ایک مجبور غلام ہوں۔ اگر تو چاہتا ہے تو مجھے روک لے اور اگر چاہتا ہے تو بیچ دے۔ پس یزید لعنہ اللہ نے ان سے کہا: یہ آپ کے حق میں بہتر ہے، آپ نے اپنا خون بہنے سے بچا لیا اور اس بات نے آپ کے شرف میں کوئی کمی نہیں کی۔ 

 

📚 الكافي، ج 8، ص 234 – 235، الرقم: 313

 

✅ جواب ✅

 

🔴 علامہ مجلسی لکھتے ہیں

 

📜 قوله عليه‌السلام: «دخل المدينة وهو يريد الحج» هذا غريب إذا لمعروف بين أهل السير إن هذا الملعون بعد الخلافة لم يأت المدينة بل لم يخرج من الشام، حتى مات ودخل النار، ولعل هذا كان من مسلم بن عقبة، وإلى هذا الملعون حيث بعثه لقتل أهل المدينة فجرى منه في قتل الحرة ما جرى، وقد نقل أنه أجرى بينه وبين علي بن الحسين عليهما‌السلام قريب من ذلك، فاشتبه على بعض الرواة.

 

 📃 حضرت علیہ السلام کا یہ فرمان کہ "وہ مدینہ میں داخل ہوا جبکہ وہ حج کا ارادہ رکھتا تھا"، یہ بات عجیب ہے، کیونکہ سیر و تاریخ کے ماہرین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ یزید ملعون نے خلافت کے بعد مدینہ کا رخ ہی نہیں کیا، بلکہ شام سے باہر ہی نہیں نکلا یہاں تک کہ وہ مر گیا اور جہنم میں داخل ہوا۔

ممکن ہے کہ یہ واقعہ مسلم بن عقبہ کا ہو، جسے یزید نے مدینہ والوں کے قتل کے لیے بھیجا تھا، اور واقعۂ حرّہ کے موقع پر اس نے جو کچھ کیا، وہ معروف ہے۔ نیز منقول ہے کہ اس نے امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ کیا، اور شاید راوی کو اشتباہ ہو گیا ہو۔

 

📚 مرآة العقول – علامہ مجلسی (جلد 26، صفحہ 179):

 

⭕ دوسری جگہ لکھا کہ

 

📜 ثم اعلم أن في هذا الخبر إشكالا وهو أن المعروف في السير أن هذا الملعون لم يأت المدينة بعد الخلافة، بل لم يخرج من الشام حتى مات ودخل النار، فنقول : مع عدم الاعتماد على السير لاسيما مع معارضة الخبر، يمكن أن يكن اشتبه على بعض الرواة، وكان في الخبر أنه جرى ذلك بينه وبين من أرسله الملعون لاخذ البيعة وهو مسلم بن عقبة كما مر.

 

📃 جان لو کہ اس روایت میں اشکال ہے، کیونکہ معروف سیر کے مطابق یہ بات ثابت ہے کہ یزید ملعون خلافت کے بعد مدینہ نہیں آیا، بلکہ وہ شام سے باہر ہی نہیں نکلا یہاں تک کہ وہ مر گیا اور جہنم واصل ہوا۔

پس ہم کہتے ہیں کہ تاریخ کی روایات پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب کہ یہ روایت اس کے برخلاف ہو، تو ممکن ہے کہ راوی کو غلطی ہوئی ہو اور دراصل واقعہ یزید کے بھیجے ہوئے شخص مسلم بن عقبہ کے ساتھ پیش آیا ہو، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

 

📚بحارالانوار – علامہ مجلسی (جلد 46، صفحہ 138)

 

⭕ پھر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

 

اردو ترجمہ (خلاصہ): یزید کا حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مدینہ آنا مشہور تاریخی بیانات کے خلاف ہے،

 

📚 جلاء العیون – علامہ مجلسی (صفحہ 840):

 

🔴 سید عبداللہ بحرانی نے لکھا 

 

📜 ثم اعلم أنّ في هذا الخبر إشكالا وهو أنّ المعروف في السير أنّ هذا الملعون لم يأت المدينة بعد الخلافة، بل لم يخرج من الشام حتى مات و دخل النار.

 

📃 یاد رکھو! اس روایت میں اشکال ہے، کیونکہ سیر و تاریخ کے مطابق یہ بات مشہور ہے کہ یزید لعین خلافت کے بعد نہ تو مدینہ آیا اور نہ ہی شام سے باہر نکلا، یہاں تک کہ مر کر جہنم میں داخل ہوا۔

 

📚 مستدرک عوالم العلوم – سید عبداللہ بحرانی (جلد 18، صفحہ 166):

 

🔴 مترجم روضہ کافی (سید ہاشم رسولی محلاتی) کا نقد اور رد روایت:

 

📜 مترجم گوید: میان مورخین مسلم است کہ یزید خلافت کے بعد کبھی مکہ و مدینہ نہیں گیا، لہٰذا اس روایت میں جو امام زین العابدین علیہ السلام اور یزید کے درمیان کسی ملاقات یا مکالمے کا ذکر ہے، یہ واقعہ تاریخی حقائق سے متصادم ہے۔

 

📃 علامہ مجلسیؒ نے اس تعارض کی توجیہ یہ کی ہے کہ شاید راوی نے یزید کو مسلم بن عقبہ سے خلط کر دیا ہو — وہ شخص جسے یزید نے مدینہ پر حملے کے لیے بھیجا اور جس کے امام زین العابدینؑ کے ساتھ مکالمات ہوئے۔

 

❌ لیکن مترجم اس احتمال کو بھی مسترد کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ:

 

مسلم بن عقبہ قریشی نہیں تھا، جبکہ روایت میں دونوں افراد کو قریشی کہا گیا ہے۔

 

اس کے علاوہ، مسلم بن عقبہ اور امام سجادؑ کے درمیان ایسا مکالمہ کبھی اس انداز میں واقع ہی نہیں ہوا جس طرح روایت میں بیان ہے۔

 

📚 ترجمہ روضہ کافی، ج2، ص42

 

🔴 مسعودی کی روایت (مروج الذهب):

 

📜 مسعودی بیان کرتا ہے کہ مسلم بن عقبہ امام زین العابدینؑ سے شدید نفرت کرتا تھا، لیکن جب آپ کو اس کے سامنے لایا گیا اور اس نے آپ پر نظر ڈالی، اس پر لرزہ طاری ہو گیا، ادب سے کھڑا ہو گیا، عزت کے ساتھ آپ کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا، اور کہا:

"جو چاہو مانگو، میں پورا کروں گا۔"

 

امامؑ نے چند افراد کی جان بخشی کی درخواست کی جسے اس نے قبول کر لیا، اور پھر آپؑ کو عزت و احترام سے واپس بھیجا۔

 

📚 المسعودی، مروج الذهب

 

🔴 شیخ مفید 

 

شیخ مفید بھی تقریباً اسی طرح کا واقعہ بیان کرتے ہیں، کہ امام سجادؑ اور مسلم بن عقبہ کے درمیان باقاعدہ مکالمہ ہوا، اور آپؑ نے بعض قیدیوں کی جان بخشی کی درخواست کی جو قبول ہوئی۔

 

نتیجہ: یہ سب یزید سے منسوب روایت کے خلاف ہے، اور یزید سے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

 

📚 ارشاد، ج2، ص152

 

🔴 آیت اللہ علی اکبر غفاری کا رد 

 

📜 هذا غريب اذ المعروف بين أهل السير أن هذا الملعون بعد الخلافة لم يأت المدينة بل لم يخرج من الشام حتّى مات و دخل النار...

 

📃 یہ بات عجیب ہے کیونکہ اہلِ سیر کے درمیان معروف ہے کہ یزید ملعون نے خلافت کے بعد نہ مدینہ آیا، نہ شام سے نکلا، بلکہ وہ وہیں مرا اور جہنم واصل ہوا۔

شاید بعض راویوں کو اشتباہ ہوا ہو اور اصل واقعہ مسلم بن عقبہ کے ساتھ پیش آیا ہو۔

 

لیکن اس کے بعد آیت اللہ غفاری اس امکان کو خارج از قیاس قرار دیتے ہیں، کیونکہ:

 

مسلم بن عقبہ قریشی نہیں تھا، جبکہ روایت میں مذکور شخص قریشی مخاطب ہے۔

 

مزید برآں، مسعودی کے مطابق مسلم بن عقبہ نے علی بن الحسینؑ کے ساتھ نہایت احترام کا سلوک کیا، برخلاف اس کے جو روایت میں مذکور ہے۔

 

📚 شرح الکافی، ج8، ص234 (طبع الإسلامیة)

 

🔴 شیخ عباس قمیؒ 

 

📜 و لما فرغ مسرف من القتل و الفتك و النهب و هتك الأعراض دعا الناس لبيعة يزيد لعنه اللّه و هدّدهم بقتل من يرفض البيعة، فبايع جميع أهل المدينة خوفا و كرها الّا عليّ بن الحسين زين العابدين عليه السّلام و عليّ بن عبد اللّه بن عباس،

 

📃 جب مسلم بن عقبہ (ملعون) نے مدینہ میں قتل و غارت، لوٹ مار اور عصمت دری سے فارغ ہوا، تو اس نے لوگوں کو یزید کی بیعت پر مجبور کیا۔

جو بھی بیعت سے انکار کرتا، اسے قتل کی دھمکی دی گئی۔ چنانچہ تمام اہل مدینہ نے بیعت کی — سوائے دو افراد کے: امام زین العابدینؑ اور علی بن عبداللہ بن عباس کے۔

 

📚 تعریب منتهى الآمال، ج2، ص53

 

📌 خلاصہ تحقیق:

 

نکتہ تفصیل

 

✅ تاریخی حقیقت یزید خلافت کے بعد مدینہ نہیں گیا، بلکہ شام میں ہی رہا اور وہیں مر گیا۔

 

❌ جعلی روایت جس روایت میں امام زین العابدینؑ اور یزید کے درمیان مکالمہ بیان ہوا ہے، وہ یا تو موضوع (من گھڑت) ہے یا راوی کا اشتباہ ہے۔

 

🔁 اصل واقعہ مسلم بن عقبہ کے مدینہ پر حملے کے وقت امام سجادؑ سے مکالمہ ہوا تھا، نہ کہ یزید سے۔

 

❗ قابلِ رد نکتہ مسلم بن عقبہ قریشی نہ تھا، اس لیے روایت میں "قریشی مخاطب" ہونے کا ذکر بھی اس کی تردید کرتا ہے۔

 

۔

 

🔴 علی آلِ محسن 

 

علی آل محسن فرماتے ہیں: یہ روایت ضعیف السند ہے، کیونکہ اس کے راویوں میں ابراہیم بن زیاد (ابو ایوب خزاز) شامل ہے جو کہ مجہول الحال ہے۔ یعنی علمِ رجال کی کسی کتاب میں اس کی توثیق (ثقہ ہونا) نہیں آئی، لہٰذا اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

 

📜 روایت کا عربی متن: فقال له علی بن الحسین عليهما السلام: أرأيت إن لم أقر لک ألیس تقتلنی کما قتلتَ الرجل بالأمس؟ فقال له یزید لعنه الله: بلی. فقال له علی بن الحسین عليهما السلام: قد أقررتُ لک بما سألت، أنا عبد مُکْرَه، فإن شئتَ فأمسک، وإن شئتَ فَبِعْ. فقال له یزید لعنه الله: أولی لک، حقنتَ دمک، ولم ینقصک ذلک من شرفک.

 

📃 امام زین العابدینؑ نے یزید سے کہا:

"کیا تم مجھے قتل نہیں کرو گے اگر میں تمہاری بیعت نہ کروں، جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا؟"

یزید لعنتی نے کہا: "کیوں نہیں!"

امامؑ نے کہا: "تو میں بیعت کرتا ہوں، میں ایک مجبور غلام ہوں، اگر چاہو تو رکھ لو، یا چاہو تو بیچ دو۔"

یزید نے کہا: "تم نے اپنا خون بچا لیا، اور یہ تمہاری عزت میں کمی نہ بنے گا۔"

 

🟥 ردّ روایت:

 

یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی "ابو ایوب" (ابراہیم بن زیاد) کی کوئی توثیق نہیں، اور روایت کی سند غیر قابلِ اعتماد ہے۔

 

📚 کتاب لله و للحقیقة (جلد 1، ص169)

 

🔴 مزید رد – یزید کا مدینہ آنا تاریخی طور پر جھوٹ:

 

روایت میں ہے کہ یزید مدینہ آیا حج کے ارادے سے ، جبکہ یہ تاریخی اعتبار سے بالکل غلط ہے۔

 

علامہ مجلسی (بحارالانوار) فرماتے ہیں:

 

📜 "یہ روایت اشکال رکھتی ہے، کیونکہ معروف یہ ہے کہ یزید نے خلافت کے بعد مدینہ کا رخ ہی نہیں کیا، بلکہ وہ شام سے باہر نہیں نکلا یہاں تک کہ مر کر جہنم میں چلا گیا۔"

 

🔴 ردّ بر اہلِ سنت:

 

اگر اس طرح کی ضعیف روایت کی بنا پر شیعہ کو طعن کیا جائے تو اہلِ سنت زیادہ لائقِ طعن ہیں، کیونکہ:

 

اہلِ سنت کی کتب میں یہ روایت موجود ہے کہ تمام مہاجرین و انصار نے یزید کے ہاتھ پر غلام بن کر بیعت کی۔

 

امام زین العابدینؑ اور علی بن عبداللہ بن عباس تنہا دو افراد تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی۔

 

📚 مروج الذہب، مسعودی، ج3، ص70

 

🔴 طبری کی روایت – امام سجادؑ کا عدمِ شرکت اور یزید کا حکم:

 

طبری کے مطابق یزید نے مسلم بن عقبہ سے کہا:

 

📜 "اگر اہلِ مدینہ نے بیعت نہ کی تو تین دن شہر لوٹنے کی اجازت ہے۔

لیکن علی بن الحسینؑ کا خاص خیال رکھنا، اسے اذیت نہ دینا، کیونکہ وہ اس بغاوت میں شامل نہیں ہوا اور اس کا خط مجھے آ چکا ہے۔"

 

لیکن امام سجادؑ اس سفارش سے بے خبر تھے۔

 

واقعہ حرّہ کے وقت امامؑ نے کسی قسم کی بغاوت میں حصہ نہیں لیا۔

 

📚 تاریخ طبری، ج5، ص484

 

🔴 شیعہ مؤرخین اور محدثین کا اجماع:

 

قریباً 30 سے زائد محققین و علما اس روایت کو باطل قرار دے چکے ہیں، اور اس کے متون و اسناد میں درج ذیل اشکالات کی نشاندہی کی ہے:

 

سند ضعیف ہے (ابراہیم بن زیاد مجہول الحال)

 

متن باطل ہے (یزید کا مدینہ آنا، امام کا بیعت کرنا — دونوں جھوٹ)

 

🔴 یزید کا اصل مکروہ کردار ، خط امام حسینؑ کا قتل کا حکم:

 

یزید نے شعبان کے آغاز میں ولید بن عتبہ کو خط لکھا:

 

📜 "اگر حسینؑ بیعت سے انکار کرے، تو اس کی گردن اڑا کر اس کا سر بھیج دو!"

 

امام حسینؑ کا جواب:

 

📜 "اے ابنِ زرقة! تو میرے قتل کا حکم دے رہا ہے؟ تُو جھوٹا اور کمین ہے!

ہم اہلِ بیتِ نبوت ہیں، یزید فاسق، شرابی اور قاتل ہے —

میری مانند یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتی۔

کل صبح ہم اور تم دیکھیں گے کہ خلافت کا اصل حقدار کون ہے۔"

 

📚 مثیر الأحزان، ج1، ص23

📚 بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج44، ص324

 

🔥 نتیجہ و پیغام:

 

> ❌ روایت جھوٹی، سند مردود، متن باطل

❌ امام زین العابدینؑ نے کبھی یزید کی بیعت نہیں کی

❌ یزید مدینہ آیا ہی نہیں

❌ یزید نے امام حسینؑ کو قتل کرنے کا حکم خود دیا

✅ امام حسینؑ اور امام سجادؑ نے یزید کو نہ تسلیم کیا نہ جھکنے کا تصور کیا

 

🔥 والسلام علیٰ من اتّبع الهدى

 

📑 بدر علی 

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #تبدیلی_ممنوع 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1