★علم امام سجاد علیه السلام★
✔بدیهی بات ہے کہ ھم ہر گز امام کا حقیقی مقام و منزلت درک نہیں کر سکتے اور ان کے فضایل کو ایک تحریر میں قید نہیں کر سکتے ، لیکن امام کی سیرت میں غور و فکر کرنے کے بعد فضایل کا ایک گوشہ بیان کر سکتے ہیں ، انسان کی ہر فضیلت کا سر چشمہ علم ہوتا ہے اگر اس انسان کا علم واضح ہو جاے تو اس کی تمام خصلتیں بھی واضح ہو جاتی ہیں،
♀اسی طرح ہمارے ایمہ علیھم السلام کے بارز ترین فضیلتوں میں سے علم ہے جسے ہم علم لدنی کہتے ہیں ، علم لدنی وہ علم ہے جس کا منبع فیض خود ذات حق ہے .
♥امام باقر علیه السلام فرماتے ہیں :
«ان لله عزوجل علمین: علم لا یعلمه الا هو وعلم علمه ملائکته ورسله فما علمه ملائکته ورسله فنحن نعلمه
خداوند متعال کے پاس دو طرح کے علم ہیں ، ایک وہ کہ جو صرت اس کی ذات سے مختص ہے اور دوسرا وہ کہ جو ملایکہ اور اپنے رسولوں کو تعلیم دیا اور ہم ایمہ اھل بیت علیھم السلام اس علم کو جانتے ہیں »
پس امام سجاد علیہ السلام کی ایک ممتاز خاصیت یہ تھی کہ تمام علوم اعتقادی و اصولی و احکام اسلامی پہ مسلط تھے ، اس طرح تسلط تھا کہ جو بھی ان سے سوال کیا جاتا تھا دقیق اور مستدل اور حیرت انگیز جواب دیتے تھے ، تاریخ میں ملتا ہے کہ . امام کی اس صفت نے دوسرے مذاہب کے علماء اور دانشمندوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا ،
⚫️یہاں تک کہ زهری ،جو کہ عبدالملک مروان کے دربار کا سب سے بڑا عالم تھا اور بہت ہی شدید اهل بیت علیه السلام کا مخالف تھا ، امام سجاد علیه السلام کے بارے میں کہتا ہے: «ما رایت احدا کان افقه منه
کسی کو علی بن حسین علیھما السلام سے فقیہ تر اور دانشمند تر نہیں دیکھا»
🔹لیکن افسوس اور بہت تعجب کا مقام ہے کہ حضرت اتنے علم اور حکمت کے با وجود اپنے زمانہ میں تنہا تھے، اور لوگوں نے بے توجھی کی حتی کہ دانشمندان اور علماء زمان نے مولا کی قدر نہ کی اور یہی وجہ ہے کہ جب ہم مولا کے شاگردوں کا نام دیکھتے ہیں تو بہت کم ہی نظر آتے ہیں بلکہ گنے چنے جیسے کہ جابر بن عبدالله انصاری، ابوحمزه ثمالی، یحیی بن ام طویل و محمد بن جبیر بن مطعم، فقط......
🔴علم امام علیه السلام کے علم کا ایک پتہ کتاب شریف صحیفه سجادیه ہے
صحیفه سجادیه جو کہ امام کی دعا اور مناجات پر مشتمل ایک کتاب ہے جس میں حقایق اور اسرار الہی پوشیدہ ہیں ، اور اسی لیے اس کتاب کو «انجیل اهل بیت » و «زبور آل محمد» و «اخت القرآن » کا نام دیا گیا ہے ، اس کتاب کی فضیلت کہ لیے ایک ہی جملہ کافی ہے کہ جہاں تک علماء نے کوشش کی اس پر شرح لکھی لیکن آج بھی اس کتاب کے علوم کا ایک ذرہ ہم تک نہ پہنچ سکا صاحب کتاب «الذریعة » فرماتے ہیں کہ اس کتاب کی 47 شرح لکھی جا چکی ہیں
🔴آیت الله نجفی رحمه الله نے اپنی زندگی میں صحیفه سجادیه کا ایک نسخہ طنطاوی )جو کہ اسکندریہ کا معروف مفتی تھا( کے لیے بھیجوایا،
پس مفتی نے شکریہ ادا کرتے ہوے نجفی صاحب کے لیے خط لکھا : «یہ ہماری محرومیت اور بد قسمتی ہے کہ آج تک ہم اس جیسی کتاب جو کہ نبوت کی میراث میں سے ہے غافل اور محروم ہیں، میں اس کتاب میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ کلام مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے پایین تر ہے،
📌دانشمندان اور اس دنیا کا بڑے سے بڑا عالم دین، کسی ایک کتاب کو لکھنے کے لیے بہت زیادہ بلکہ سالوں تحقیق کرتا ہے پھر کچھ لکھتا ہے اور پھر اصلاح کرتا ہے، لیکن امام سجاد علیه السلام نے ان مضامین بلند مرتبہ کو اور اسی طرح سے اس کتاب میں اسرار الہی اور بہت ہی اعلی پیمانہ کے مطالب کو اپنی مناجات اور دعا میں بیان کر دیا اور یہ بھی بات قابل غور ہے کہ اس دع کو انشا کرتے وقت تمام توجھات معبود کی طرف تھیں، خلاصہ اس طرح بیان امام معصوم کے علم لدنی کا ایک چھوٹا سا چشمہ ہے.
🖊اس کے علاوہ امام سجاد علیہ السلام سے بہت ساری احادیث اور رسالہ بھی موجود ہیں جن میں سے ایک «رسالة الحقوق » ہے، کہ جس میں 51 حق اور وظیفه انسان کے لیے بیان کیے ہیں جن میں سے کچھ خدا کے حقوق ہیں انسان پر اور حقوق اعضاء و جوارح .......
📚اصول کافی، کلینی، ج 1، ص 198
📚سیر اعلام النبلاء، ذهبی، ج 4، ص 389 .
📚فی رحاب ائمة اهل بیت، محسن امین عاملی، ج 3، ص 213 .
📚الذریعة، آقا بزرگ تهرانی، ج 15، ص 18
📚صحیفه سجادیه، ترجمه سید صدر الدین بلاغی، مقدمه میں ص 37 .
📚الامالی، شیخ صدوق، مجلس 59، ص 301- 306; الخصال، شیخ صدوق، ص 564- 570; تحف العقول، ص 255
🔎محقق: الغروی