*امام سجاد ع کا اونٹ*
عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلام) يَقُولُ كَانَ لِعَلِيِّ بن الحسين (عَلَيْهما السَّلام) نَاقَةٌ حَجَّ عَلَيْهَا اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَا قَرَعَهَا قَرْعَةً قَطُّ قَالَ فَجَاءَتْ بَعْدَ مَوْتِهِ وَمَا شَعَرْنَا بِهَا إِلا وَقَدْ جَاءَنِي بَعْضُ خَدَمِنَا أَوْ بَعْضُ الْمَوَالِي فَقَالَ إِنَّ النَّاقَةَ قَدْ خَرَجَتْ فَأَتَتْ قَبْرَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَانْبَرَكَتْ عَلَيْهِ فَدَلَكَتْ بِجِرَانِهَا الْقَبْرَ وَهِيَ تَرْغُو فَقُلْتُ أَدْرِكُوهَا أَدْرِكُوهَا وَجِيئُونِي بِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِهَا أَوْ يَرَوْهَا قَالَ وَمَا كَانَتْ رَأَتِ الْقَبْرَ قَطُّ.
ہمارے بہت سے اصحاب نے احمد بن محمد سے جنہوں نے ابن فضال سے جنہوں نے ابن بکیر سے جنہوں نے زرارہ سے روایت کی، کہا: میں نے امام باقر ع کو فرماتے سنا: علی بن حسین (امام زین العابدین) ع کی ایک اونٹنی تھی جس پر انہوں نے بائیس (22) مرتبہ حج کیا تھا۔ انہوں نے اسکو ایک بھی بار ہرگز نہیں مارا تھا۔ کہا: تو وہ انکی وفات کے بعد آئی، مگر ہمیں اسکا شعور نہیں ہوا حتی کہ ہمارے پاس کوئی خادم یا موالی آیا اور اس کہنے لگا: یہ اونٹنی نکلی تھی اور علی بن حسین ع کی قبر پر گئی، اور کراہ کر اپنی گردن قبر سے مَل رہی تھی۔ تو میں (امام باقر ع) نے کہا: اسکے پاس جاؤ، اسکے پاس جاؤ، اور اسکو لیکر میرے پاس آو اس سے قبل کہ وہ اسکو جان جائیں یا اسکو دیکھ سکیں۔ فرمایا: اور اس نے قبر کو ہرگز کبھی نہیں دیکھا تھا۔
📚 بحار الانوار
.
امام سجاد علیہ السلام کا ایک اونٹ تھا جو بائیس مرتبہ آپ کے ہمراہ سفر حج پر گیا تھا اور حتی کہ امام نے ایک بار بھی اس کو تازیانہ نہیں مارا تھا۔
امام نے اپنی شہادت کی شب سفارش کی کہ اونٹ کا خیال رکھا جائے۔
جب امام علیہ السلام نے شہادت پائی تو اونٹ اٹھ کر سیدھا امام قبر مطہر پر پہنچا اور قبر پر گرگیا جبکہ اپنی گردن زمین پر ماررہا تھا اور اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔
امام محمد باقر علیہ السلام اطلاع پا کر اپنے والد کی قبر پر پہنچے اور اونٹ سے کہا آرام سے ہوجاؤ یا پرسکوں ہوجاؤ، اٹھو خدا تجھ کو مبارک قرار دے۔
اونٹ پرسکوں ہوگیا اور اٹھا کر چلا گیا
لیکن تھوڑی دیر بعد واپس لوٹا اور اپنی پہلے والی حرکتیں دہرا دیں۔
اور امام باقر علیہ السلام نے آکر اس کو لوٹا دیا
لیکن
تیسری مرتبہ وہ پھر بھی قبر پر پہنچا تو امام باقر علیہ السلام نے فرمایا اونٹ کو اپنے حال پر چھوڑو *کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عنقریب مر جائے گا۔*
روایت میں ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کے تین دن مکمل نہيں ہوئے تھے کہ اونٹ بھی دنیا سے رخصت ہوگیا۔
📚 بحارالانوار ج 46 صفحات 147 تا 154
۔
امام سجاد ع اپنے اونٹ پر بیس مرتبہ حج پر گئے اور ایک دفعہ بھی اس اونٹ کو تازیانہ نا مارا جب وہ اونٹ مرا تو حکم دیا
"کہ اسے دفن کر دیا جائے تا کہ اسے درندے نا کھائیں"
📚 بحار الانوار ج ٤٦ ص ۲۰۰
📚 سوال عوام کے جواب امام ع کے جلد ٦ ص ١٥۸
📚 ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، ص۵۰؛
📚 المحاسن، ج۲، ص۶۳۵، باب۱۵، حدیث ۱۳۳؛
📚 وسائل الشیعة، ج۱۱، ص۵۴۱، باب۵۱، حدیث ۱۵۴۸۶؛
📚 بحار الانوار، ج۴۶، ص۷۰، باب۵، حدیث۴۶.