Back to امام علی بن الحسین ع

اہل سنت محدث کا امام سجاد ع کا جنازہ نہ پڑھنا

سعید بن مسیب کا امام زین العابدین کی نماز جنازہ نہ پڑھنا

 

رَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ قَالَ:

 

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِ‌، 

 

قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ جَنَازَةُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع لِيُصَلَّى عَلَيْهِ اتَّسَعَ النَّاسُ إِلَى جَنَازَةٍ دَاخِلَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ خَشْرَمٌ مَوْلَى النَّخَعِ‌، لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَ لَا تَشْهَدُ هَذَا الرَّجُلَ الصَّالِحَ فِي الْبَيْتِ الصَّالِحِ، وَ سَعِيدٌ لَمْ يَخْرُجْ، قَالَ سَعِيدٌ: رَكْعَتَيْنِ أُصَلِّيهِمَا فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَشْهَدَ هَذَا الرَّجُلَ الصَّالِحَ فِي الْبَيْتِ الصَّالِحِ‌

 

واقدی نے روایت کیا، کہا:

 

ہم سے ابومعشر نے، انہوں نے سعید بن ابی سعید المقبری سے روایت کی:

 

انہوں نے کہا: جب علی بن الحسین (علیہ السلام) کی جنازہ نماز کے لیے رکھی گئی تو لوگ اتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے کہ مسجد کے اندر جنازے تک جگہ تنگ ہو گئی۔

 

تو خشرم، جو نخع قبیلے کا آزاد کردہ غلام تھا، نے سعید بن المسیب سے کہا:

"کیا تم اس نیک مرد اور نیک گھرانے کے شخص کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرو گے؟"

 

سعید باہر نہیں نکلے، بلکہ انہوں نے کہا:

"میں اپنے گھر میں دو رکعت نماز پڑھنا اس نیک مرد اور نیک گھرانے والے کی جنازہ میں شرکت سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔"

 

📚 الطبقات الكبرى، جلد ۵، صفحہ ۲۲۱

 

واقدی کا بیان ھے کہ سعید بن مسیب نے امام سید سجاد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جب اس سے کہا گیا کہ تم نے مرد صالح کی نماز نہیں پڑھی تو اس نے کہا مجھے دو رکعت نماز مسجد میں پڑھنا زیادہ پسند ھے بہ نسبت اسکے کہ میں اس مرد صالح کی نماز پڑھوں۔

 

ابن حزن نے المحلیٰ میں اس کے دینی حالات پر کافی روشنی ڈالی ھے

 

قتادہ نے سعید بن مسیب سے پوچھا کیا میں حجاج کے پیچھے نماز پڑھو؟ سعید نے جواب دیا میں تو اس سے بدتر شخص کے پیچھے بھی نماز پڑھتا ھوں

 

📚 المحلیٰ جلد 4 ص 214

 

يقول ابن حزم : 

 

ما نعلم أحداً من الصحابة رضي الله عنهم امتنع من الصلاة خلف المختار وعبيد الله بن زياد والحجاج ، ولا فاسق أفسق من هؤلاء ، 

 

ابن حزم کہتے ہیں:

 

"ہمیں صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کا بھی علم نہیں کہ اس نے مختار، عبیداللہ بن زیاد، یا حجاج کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا ہو — حالانکہ ان سے زیادہ فاسق کوئی فاسق نہ تھا۔"

 

📚 المحلّی، جلد 4، صفحہ 302

 

👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻

 

یہ وہ شخص ھے جس نے حضرت ابوطالب کے متعلق لکھا کہ انہوں نے کلمہ نہیں پڑھا یہ دشمنی ان لوگوں کی اھلبیت کے ساتھ تھی

 

۔

 

عن علي بن زيد قال: قلت لسعيد بن المسيب: إنك أخبرتني أن علي بن الحسين صلوات الله عليهما النفس الزكية، وإنك لا تعرف له نظيرا ". قال: كذلك، وما هو مجهول ما أقول فيه، والله ما رؤي مثله. قال علي بن زيد: فقلت له: والله إن هذه الحجة لوكيدة يا سعيد، فلم لم تصل على جنازته. قال: سمعته يقول: أخبرني أبي أبو عبد الله الحسين، عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وآله، عن جبرئيل، عن الله تعالى أنه قال: " ما من عبد من عبادي آمن بي، وصدق بك، وصلى في مسجدك ركعتين على خلاء من الناس، إلا غفرت له ما تقدم من ذنبه وما تأخر. فلم أر شاهدا " أفضل من علي بن الحسين، حيث حدثني بهذا الحديث، فلما أن مات شهد جنازته البر والفاجر، وأثنى عليه الصالح والطالح وانهال الناس يتبعونه، حتى وضعت الجنازة، فقلت: إن أدركت الركعتين يوما " من الدهر فاليوم، فلم يبق رجل ولا امرأة، ثم خرجنا إلى الجنازة، فوثبت لأصلي، فجاء تكبير من السماء، فأجابه تكبير من الأرض، ففزعت وسقطت على وجهي، فكبر من في السماء سبعا، وكبر من في الأرض سبعا، وصلوا على علي بن الحسين صلوات الله عليهما، ودخل الناس المسجد فلم أدرك الركعتين ولا الصلاة عليه، إن هذا لهو الخسران المبين. قال: فبكى سعيد، وقال: ما أردت إلا خيرا "، ليتني كنت صليت عليه، فإنه ما رؤي مثله.

 

ترجمہ:

 

علی بن زید روایت کرتے ہیں:

 

میں نے سعید بن المسیب سے کہا:

“آپ نے مجھے بتایا تھا کہ علی بن الحسینؑ (علیہما السلام) نفسِ زکیہ ہیں، اور آپ ان جیسا کوئی نہیں جانتے۔”

سعید نے کہا: “ہاں، میں جو ان کے بارے میں کہتا ہوں وہ چھپا ہوا نہیں۔ خدا کی قسم، ان جیسا کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔”

 

علی بن زید کہتے ہیں:

میں نے کہا: “اللہ کی قسم! یہ تو ایک قاطع حجت ہے، اے سعید! پھر آپ نے ان کی نمازِ جنازہ کیوں نہیں پڑھی؟”

سعید نے جواب دیا:

“میں نے خود ان سے ایک حدیث سنی تھی، جو ان کے والد ابو عبداللہ الحسینؑ نے اپنے والد (یعنی امیرالمؤمنینؑ) سے، انہوں نے رسول خدا ﷺ سے، اور رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل سے، اور جبرئیل نے اللہ تعالیٰ سے نقل کی، کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

‘میرے بندوں میں سے جو کوئی مجھ پر ایمان لائے، تجھ پر یقین کرے، اور تیرے مسجد میں، تنہائی میں، دو رکعت نماز ادا کرے، میں اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دوں گا۔’

میں نے علی بن الحسینؑ سے بہتر کوئی گواہ نہیں دیکھا جو مجھے یہ حدیث سنائے۔

 

جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے، تو نیک و بد، ہر طرح کے لوگ ان کی جنازے میں شریک ہوئے، سب نے ان کی تعریف کی، اور ان کے جنازے کے پیچھے چلے، یہاں تک کہ جنازہ رکھ دیا گیا۔

 

میں نے کہا:

‘اگر کبھی زندگی میں یہ دو رکعت نماز پڑھنے کا موقع ملا تو بس آج ہی کا دن ہے۔’

اور کوئی مرد یا عورت باقی نہ بچی، سب جنازے کی نماز کے لیے نکلے۔

 

جب ہم جنازے کی طرف روانہ ہوئے، میں نماز کے لیے کھڑا ہوا، تو اچانک آسمان سے تکبیر کی آواز آئی، جس کا زمین سے جواب دیا گیا۔

میں گھبرا گیا اور منہ کے بل گر پڑا۔

پھر آسمان سے سات تکبیریں آئیں، اور زمین سے بھی سات تکبیریں دی گئیں،

اور سب نے علی بن الحسینؑ پر درود بھیجا۔

 

لوگ مسجد میں داخل ہو گئے، مگر میں نہ تو دو رکعت پڑھ سکا، اور نہ ہی ان پر درود و نماز بھیج سکا۔

بے شک یہی تو کھلا ہوا خسارہ ہے۔

 

سعید (بن المسیب) رو پڑے اور کہا:

“میرا ارادہ صرف خیر کا تھا،

کاش میں نے ان پر نمازِ جنازہ پڑھی ہوتی،

کیونکہ ان جیسا منظر دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔”

 

📚 الثاقب فی المناقب ص 356

📚 رجال الکشی ص 116

📚 مدينة المعاجز ج 4 ص 350

📚 بحار الأنوار ج 46 ص 150

 

#بدر_علی