Back to امام علی بن الحسین ع

کربلا میں موجود مردوں میں کیا امام سجاد علیہ السلام کے علاوہ بھی کوئی مرد زندہ بچا تھا یا نہیں ؟

سوال: 

 

کربلا میں موجود مردوں میں کیا امام سجاد علیہ السلام کے علاوہ بھی کوئی مرد زندہ بچا تھا یا نہیں ؟

 

جواب: 

 

تاریخی کتب کی طر ف رجوع کر نے سے پتہ چلتا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں میں چند افرا د تھے ، اسے بھی دو حصوں میں ( بنی ہاشم و غیر ھاشم) ذکر کریں گے۔

 

1)بنی ہا شم کے افراد

 

اما م زین العا بدینؑ

 

2) حسن بن حسن المعر وف حسن مثنیٰ ،

 

 آپ عاشورہ کے دن زخمی حالت میں اسیر ہوگئے تھے ، اسماء بن خارجہ لعین نے آپ کے قتل کاقصد کیا تو عمر بن سعد نے اسے رو ک دیا، آپ کی شادی اما م حسین علیہ السلام کی دختر جنا ب فاطمہ کبریٰ سے ہوئی اور آپ نے ۳۵ سال کی عمرمیں وفات پائی ۔ آپ کچھ عرصہ حضرت علیؑ کے اوقاف وصدقات کے متولی بھی رہے۔(۱)عبد اللہ محض آپ کے ہی بیٹے تھے اورا نہی عبداللہ محض کے دو بیٹے تھے ان میں سے ایک محمد تھے جو نفس زکیہ کے نام سے معروف تھے اور اس لقب کی وجہ یہ تھی کہ آپ پہلے علوی تھے جن کے ماں باپ دونوں علو ی تھے ۔

 

3)زید بن حسن :

 

آپ بھی اما م حسنؑ کے بیٹے تھے اور بعض کتب میں آپ کی کربلا میں موجودگی ملتی ہے۔(۲) آپ نوے سال کی عمر تک زندہ رہے اور آپ بنی ہاشم کے بزرگوں میں سے شمار ہوتے تھے اورآپ لمبی مد ت تک رسول ؐ خدا کے صدقات کے متولی رہے ۔ (۳)

 

4) عمروبن حسن :

 

آپ کا بھی کربلا میں موجود ہونا، بعض کتابوں میں ملتا ہے ۔(۴)

 

5) محمد بن عقیل ۶) قاسم بن عبد اللّٰہ جعفر (۵)

 

دوسرا اصحا ب میں جو افراد زندہ رہے

 

1) عقبہ بن سمعان : یہ اما م حسین علیہ السلام کی زوجہ جناب رباب کے غلام تھے ۔ یہ عاشورہ کے دن گرفتار ہوئے ، جب انہیں عمر بن سعد کے سامنے لیجا یا گیا اور اسے پتہ چلا کہ یہ غلام ہیں تو اس نے ان کی آزادی کاحکم دیا۔ (۶)

 

2) ضحاک بن عبداللّٰہ مشرقی

 

اس نے امامؑ سے یہ شرط کی تھی کہ جب تک میری مدد آپ کے لئے فائدہ مند ہوگی میں مدد کروں گا جب میری مدد کا فائدہ نہ رہے گا تو مجھے چلے جانے کی اجازت ہوگی۔ لہٰذا اسی وجہ سے وہ روز عاشو ر ہ آخر ی وقت میں اما م کے پاس حاضر ہو ا اور آپ کو اپنی شرط یا د دلائی اور امام نے اس کی تائید کر تے ہوئے پوچھا اپنے آپ کو کیسے بچا ؤ گے؟ پھر فرمایا اگر نکل کر جا سکتے ہو تو میر ی طرف اجازت ہے۔ وہ اما م کی اجازت لے کر گھوڑے پر سوار ہوا اور دشمن کی صفیں چیر تا ہوا دو آدمیوں کو قتل کر کے معرکے سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا (۷)اور بعد میں مورخین نے عاشو رہ کے مختلف حوادث کو اس سے روایت کیا ہے ۔(۸)

 

3) غلام عبدالرحمٰن بن عبداللّٰہ انصاری :

 

یہ بھی میدان کربلا میں حاضر تھے اور بعض روایات کے راوی بھی ہیں جنگ میں کسی طرح بچ گئے (۹)

 

4)مرقع بن ثمامہ اسدی

 

 5) مسلم بن رباح غلام حضر ت علی علیہ السلام (۱۰)

 

جیسا کہ بیان ہو چکا تاریخ کی کتابوں میں واقعہ کربلا سے مر بوط بہت سی روایات انہی افراد سے بلاواسطہ یا بالوا سطہ نقل ہو ئی ہیں ۔

 

(۱) بحا ر،ج۴۴ ،ص ۱۶۶ ، ۱۴۷

(۲) مقا تل الطالبیین، ص ۱۱۹، منقو ل از شہید جا وید، ص ۱۰۹

(۳) بحار، ج۴۴ ، ص ۱۶۳ ، ۱۶۵

(۴) تاریخ طبری ،ج۴ ، ص ۳۵۹ ،منقو ل از شہید جاوید، ص ۱۰۹

(۵) سیر اعلام النبلا ء ،ج۳ ، ص ۲۰۳ ، منقو ل از شہید جا وید، ص ۱۰۹

(۶) وقعۃ الطف مقدمہ ،ص ۳۲ ، منقول از تا ریخ طبر ی، ج۵ ، ص ۴۵۴

(۷) الکا مل فی التا ریخ، ج۲ ، ص ۵۶۹

(۸) و قعۃ الطف، ص ۳۴ ، ۳۵ ، مقدمہ

(۹) وقعۃ الطف ،ص ۳۵، مقدمہ منقول از تاریخ طبری ،ج۵ ،ص ۴۲۱، ۴۲۲

(۱۰) شہیدجاوید،ص ۱۰۹ ، منقول از تاریخ طبری،ج۴ ، ص ۳۴۷،تہذیب ابن عساکر ، ج۴، ص۳۳۸