سیرت مولا امام علی ابن الحسین ع
❓ کیوں گریہ؟ کیوں آنسو؟ کیوں مجلس؟ کیوں عزاداری؟ اور کیوں ہر سال سالانہ یاد مناتے ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیشہ اہلسنت کے مخالف اور ناصبی گروہ ہم سے کرتے ہیں، لیکن اس کا جواب بہت سادہ ہے — وہ جواب سیرتِ معصومین علیہم السلام میں موجود ہے، بالخصوص کربلا کے بعد امام سجادؑ کی زندگی میں۔
📣 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
📜 "زین العابدینؑ اپنے والد (امام حسینؑ) کے لیے چالیس سال گریہ کرتے رہے۔ وہ دن کو روزہ رکھتے، رات کو قیام کرتے۔ جب افطار کا وقت ہوتا، ان کا غلام کھانا اور پانی لا کر ان کے سامنے رکھتا اور عرض کرتا: اے میرے آقا! تناول فرمائیں۔ تو امامؑ فرماتے: رسولِ خداؐ کے فرزند بھوکے شہید کیے گئے، پیاسے شہید کیے گئے۔"
یہ جملہ وہ بار بار دہراتے اور روتے رہتے، یہاں تک کہ ان کے آنسو کھانے میں گر جاتے اور پانی میں مل جاتے۔ امامؑ یہی سلسلہ جاری رکھتے رہے یہاں تک کہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔
📚 وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، جلد ۳، صفحہ ۲۸۲
✅ نتیجہ: جب امامِ معصومؑ نے خود چالیس سال عزاداری کی، تو ہم اہلِ بیتؑ کے پیروکار کیوں نہ کریں؟
🔊 اور جب کوئی ناسبی یا وہابی یہ کہے کہ "کیوں ہر سال عزاداری کرتے ہو؟" تو یہ حدیث اور سیرت ان کے منہ پر تماچہ ہے۔
🔴 تذکرہ امام رابع ابو الحسن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب( علیھم السلام )
🖋 عبدالزھراء الغروی
یعنی وہ مظلوم امام جس نے اپنا خاندان اپنی آنکھوں سے سامنے اجڑتے دیکھا جس کی زندگی بعدِ کربلاء کچھ اس طرح گزری کہ چھٹے امام فرماتے ہیں:
ان جدّي زين العابدين ( عليه السلام ) بكى على أبيه أربعين سنة ، صائما نهاره ، وقائما ليله ، فاذا حضر الإفطار وجاء غلامه بطعامه وشرابه ، فيضعه بين يديه ويقول : كـل يـا مـولاي .
فـيقول ( عليه السلام ) : ( قتل ابن رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) عطشاناً ) ، فلا يزال يكرر ذلك ويبكي حتى يبتل طعامه من دموعه ، ثُمَّ يُمْزَجُ شَرَابُهُ بِدُمُوعِهِ فلم يزل كذلك حتى لحق بالله عز وجل .
بے شک میرے جدّ زین العابدین ( علیہ السلام) نے اپنے بابا پر چالیس سال گریہ کیا اس حال میں کہ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو قیام (عبادت) کرتے اور جب غلام افطار کے لیے کھانا اور مشروب لا کر سامنے رکھتا تھا اور کہتا تھا "اے میرے آقا کھانا کھائیے"
تو امام ( علیہ السلام ) فرماتے :
( قتل ابن رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) عطشاناً )
فرزندِ رسول پیاسے شہید کیے گئے۔
اور اس جملہ کو دہراتے رہتے یہاں تک کہ آپ کا کھانا آپ ( علیہ السلام ) کے آنسوؤں سے تر ہو جاتا پھر آپ کا مشروب آپ کے آنسوؤں سے ملا دیا جاتا۔
اور آپ کا یہی معمول رہا یہاں تک کہ اللہ سے جا ملے۔
📚 اللهوف علی قتلی الطفوف ج ۱، ص ۲۰۹
.
🔴 امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
بے شک امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے والد امام حسین علیہ السلام پر بیس سال تک مسلسل گریہ کیا۔
جب بھی ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا، وہ رونے لگتے۔
ایک خادم نے عرض کیا:
"اے فرزندِ رسولؐ! کیا آپ کا غم ابھی تک ختم نہیں ہوا؟"
تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
"تجھے افسوس ہو! یعقوب نبی (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے،
اللہ نے ان میں سے صرف ایک بیٹے کو ان سے جدا کیا تو وہ (یعقوب) اس قدر روئے کہ ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں،
غم کے مارے ان کے بال سفید ہو گئے، اور کمر جھک گئی —
جبکہ ان کا بیٹا زندہ تھا۔
اور میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
کہ میرے والد، میرے بھائی، میرے چچا، اور میرے اہل بیت میں سے سترہ افراد میرے ارد گرد شہید کر دیے گئے —
تو پھر میرا غم کیسے ختم ہو؟!"
---
حوالہ جات:
📘 کتاب الخصال، شیخ صدوق، جلد ۲، صفحہ ۵۱۸
📘 کامل الزیارات، صفحہ ۱۰۷
📘 مناقب آل ابی طالب، ابن شہرآشوب، جلد ۴
📘 حلیة الأولیاء، ابونعیم، جلد ۳
#بدر_علی
Gallery
Tap any image to view full screen