سب سے زیادہ رونے والی 5 ہستیاں

وہ پانچ لوگ جنہوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ گریہ و زاری کی 

 

کتاب امالی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے جس میں امام زین العابدینؑ کے گریہ کا تقابل یوسفؑ کے یعقوبؑ پر اور یعقوبؑ کے یوسفؑ پر گریہ سے کیا گیا ہے۔ یہ روایت سید الشہداءؑ پر گریہ و عزاداری کے جواز کے طور پر بھی پیش کی جاتی ہے۔

 

📜 221 / 5 - حدثنا الحسين بن أحمد بن إدريس (رحمه الله)، قال: حدثنا أبي، قال: حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، قال: حدثنا العباس بن معروف، عن محمد بن سهل البحراني [2]، رفعه إلى أبي عبد الله الصادق جعفر بن محمد (عليه السلام)، قال: البكاءون خمسة: آدم، ويعقوب، ويوسف، وفاطمة بنت محمد (صلى الله عليه وآله)، وعلي ابن الحسين (عليهما السلام). فأما آدم فبكى على الجنة حتى صار في خديه أمثال الاودية، وأما يعقوب فبكى على يوسف حتى ذهب بصره، وحتى قيل له (تالله تفتؤا تذكر يوسف حتى تكون حرضا أو تكون من الهالكين) [3]. وأما يوسف فبكى على يعقوب حتى تأذى به أهل السجن، فقالوا: إما أن تبكي بالنهار وتسكت بالليل، وإما أنا تبكي بالليل وتسكت بالنهار، فصالحهم على واحد منهما. وأما فاطمة بنت محمد (صلى الله عليه وآله)، فبكت على رسول الله (صلى الله عليه وآله) حتى تأذى بها أهل المدينة، وقالوا لها: قد آذيتنا بكثرة بكائك، فكانت تخرج إلى المقابر مقابر الشهداء فتبكي حتى تقضي حاجتها ثم تنصرف، وأما علي بن الحسين فبكى على الحسين (عليهما السلام) عشرين سنة أو أربعين سنة، وما وضع بين يديه طعام إلا بكى، حتى قال له مولى له: جعلت فداك يا بن رسول الله، إني أخاف عليك أن تكون من الهالكين. قال: إنما أشكو بثي وحزني إلى الله، وأعلم من الله مالا تعلمون، إني لم أذكر مصرع بني فاطمة إلا خنقتني لذلك عبرة [4].

 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"بہت زیادہ رونے والے پانچ افراد تھے:

 

1. حضرت آدم،

 

2. حضرت یعقوب،

 

3. حضرت یوسف،

 

4. حضرت فاطمہ بنتِ محمد ﷺ،

 

5. اور علی بن الحسین (علیہم السلام)۔

 

● حضرت آدمؑ نے جنت کی جدائی میں اس قدر گریہ کیا کہ ان کے رخساروں پر آنسوؤں کے بہاؤ سے وادیاں بن گئیں۔

 

● حضرت یعقوبؑ نے یوسفؑ کے فراق میں اتنا گریہ کیا کہ ان کی بینائی چلی گئی، یہاں تک کہ لوگوں نے کہا:

"تالله تفتؤا تذکر یوسف حتی تکون حرضا أو تکون من الهالکین"

یعنی: "خدا کی قسم! تُو یوسف کا تذکرہ کرتے کرتے یا تو بالکل گھل جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا۔"

 

● حضرت یوسفؑ نے اپنے والد یعقوبؑ کے فراق میں اتنا گریہ کیا کہ قیدیوں نے تنگ آ کر کہا:

"یا دن کو رو اور رات خاموش رہ، یا رات کو رو اور دن خاموش رہ۔"

یوسفؑ نے ان سے ایک وقت پر سمجھوتہ کر لیا۔

 

● حضرت فاطمہؑ، رسول اللہ ﷺ کی بیٹی، نے آپؐ کی وفات پر اس قدر گریہ کیا کہ اہل مدینہ کو اذیت ہونے لگی، انہوں نے کہا: "آپ کے گریہ کی کثرت سے ہمیں اذیت ہو رہی ہے۔"

تو وہ شہداء کے قبرستان جاتیں، وہاں جا کر دل کا غم ہلکا کرتیں اور پھر واپس آ جاتیں۔

 

● امام علی بن الحسینؑ نے اپنے والد امام حسینؑ پر بیس یا چالیس سال تک گریہ کیا۔

جب بھی ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا، گریہ کرنے لگتے۔

ایک خادم نے کہا: "میرے ماں باپ آپ پر قربان، مجھے ڈر ہے کہ آپ ہلاک نہ ہو جائیں۔"

تو امامؑ نے جواب دیا:

"میں اپنا دکھ اور غم صرف اللہ سے بیان کرتا ہوں، اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

میں نے جب بھی فاطمہؑ کے بیٹوں کے مقتل کو یاد کیا، میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور میں ضبط نہ کر سکا۔"

 

📚 کتاب: الأمالي

✍ مصنف: شیخ صدوق

📄 جلد 1، صفحہ 109

 

یہ روایت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خدا کے ولیوں پر گریہ کرنا شرعی طور پر جائز ہے، چاہے وہ گریہ اتنا زیادہ ہو کہ جان تک چلی جائے۔

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #تبدیلی_ممنوع #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1