❓‼️ جب امام سجاد علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آپ اتنا زیادہ کیوں روتے ہیں اور خود کو کیوں کمزور کر رہے ہیں؟ تو حضرت نے فرمایا:
یہ رویت ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ھے جو غم حسین علیہ السلام میں رونے پر فتویٰ لگاتے ہیں۔۔۔۔
📜 لا تلوموني، فإن يعقوب فقد سبطا من ولده، فبكى حتى ابيضت عيناه و لم يعلم أنه مات و نظرت أنا إلى أربعة عشر رجلا من أهل بيتي ذبحوا في غداة واحدة، فترون حزنهم يذهب من قلبي أبدا؟
📃 "مجھ پر ملامت نہ کرو۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے صرف اپنے ایک بیٹے (یوسف علیہ السلام) کو گم پایا اور اس قدر گریہ کیا کہ ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں (بینائی چلی گئی)، حالانکہ انہیں یقین بھی نہ تھا کہ وہ بیٹا زندہ ہے یا فوت ہو چکا۔
جبکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے چودہ (14) افراد کو، جو میرے اہل بیت میں سے تھے، ایک ہی صبح کے وقت ذبح ہوتے دیکھا ہے۔ تو کیا تم سمجھتے ہو کہ ان کا غم کبھی میرے دل سے نکل سکتا ہے؟"
📚 تهذيب الكمال للمزي، ج20، ص399
📚 البداية و النهاية لإبن كثير، ج9، ص 284
📜 جب امام زین العابدین سید سجاد علیہ السلام سے انکے کثرت گریہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: میری اس کام پر ملامت نہ کرو، حضرت یعقوب علیہ السلام کا فقط ایک بیٹا ان سے دور ہوا تھا، تو انھوں نے اس پر اتنا گریہ کیا کہ انکی آنکھیں سفید ہو گئیں، یعنی بینائ چلی گئ حالانکہ انکو یقین نہیں تھا کہ انکا بیٹا فوت ھو گیا ہے، لیکن میری آنکھوں کے سامنے اہل بیت اطہار کے 14 مردوں کو ایک دن میں بے جرم و خطا ذبح کر دیا گیا، کیا اس صورت میں انکا غم کبھی میرے دل سے نکل سکتا ہے ؟
📚 ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 41 ص 386 ، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995
Online link 👇🏻
http://ar.lib.eshia.ir/22014/41/386
🔴 امام سجاد علیہ السلام کے ایک غلام روایت کرتے ہیں:
ایک دن حضرت صحرا کی طرف نکلے۔
میں پیچھے ہو لیا، دیکھا کہ آپ کھردرے پتھروں پر سجدے میں ہیں۔
میں رُک گیا اور آپ کی سسکیوں اور گریے کی آواز سن رہا تھا۔
میں نے شمار کیا کہ آپ نے سجدے میں ہزار مرتبہ فرمایا:
"لا إله إلا الله حقّاً حقّاً، لا إله إلا الله تعبّداً ورقّاً، لا إله إلا الله إيماناً وتصديقاً وصدقاً"
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، سچ میں سچ، عبادت اور بندگی کے ساتھ، ایمان و تصدیق اور صداقت کے ساتھ۔)
پھر آپ نے سجدے سے سر اُٹھایا
تو آپ کی داڑھی اور چہرہ آنکھوں کے آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے۔
میں نے عرض کیا:
"اے میرے آقا! کیا اب آپ کے غم کا وقت ختم نہیں ہوا؟ اور گریہ کچھ کم نہیں ہونا چاہیے؟"
آپ نے فرمایا:
"افسوس تم پر! یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم نبی تھے، نبی کے بیٹے اور نبی کے پوتے، ان کے بارہ بیٹے تھے۔ اللہ نے ان میں سے ایک کو ان سے چھپا لیا، تو ان کے سر کے بال غم سے سفید ہو گئے، کمر غم سے جھک گئی، اور گریہ کی کثرت سے آنکھیں جاتی رہیں — حالانکہ ان کا بیٹا زندہ تھا اور دنیا میں موجود تھا۔
اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے اپنے والد، بھائی، اور اپنے خاندان کے سترہ افراد کو شہید ہوتے دیکھا — تو میرا غم کیسے ختم ہو؟ اور میرا گریہ کیسے کم ہو؟"
📚 اللہوف علی قتلٰی الطفوف، ج ۱، ص ۲۰۹
اس پر مزید حوالہ جات اور تفصیلی پوسٹ کے لیے لنک دیکھیں 👇
#بدر_علی #تبدیلی_ممنوع #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam
Gallery
Tap any image to view full screen