🔴 *امام سجاد ع کے جسم پر خراشیں*
جب امام ع کی شہادت ہوئی تو مدینے والو کو پتہ چلا کہ آپ سو خاندانوں کو غذا پہنچایا کرتے تھے تمام فقراء مدینہ نہیں جانتے تھے کہ انکی روزی کہاں سے آتی ہے جس وقت امام ع دنیا سے تشریف لے گئے تو وہ سمجھے کہ وہ ہی رات میں اجنبی کی طرح اپنی پشت پر اٹھا کے ان کی غذا پہنچایا کرتے تھے امام ع کو غسل دیا جارہا تھا تو آپ ع کے بدن پر غذا و طعام کے بوجھ کے نشانات تھے جو راتوں کو اٹھا کر فقراء تک پہنچایا کرتے تھے۔
📚 سوگ نامہ آل محمد ع صفحہ.٨٩
۔
🔴 شہادت کے بعد امام سجاد (ع) کے بدن مبارک پر زخموں کے نشان:
ابن کثير دمشقی، ابن جوزی حنبلی اور ابو نعيم اصفہانی نے امام سجاد (ع) کے راہ خدا میں انفاق کرنے اور اس سے امام کے بدن پر ہونے والے زخموں کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:
عن عمرو بن ثابت قال لما مات علي بن الحسين فغسلوه جعلوا ينظرون إلى آثار سواد بظهره فقالوا ما هذا فقيل كان يحمل جرب الدقيق ليلا على ظهره يعطيه فقراء أهل المدينة.
عمرو ابن ثابت نے نقل کیا ہے کہ: امام سجاد جب دنیا سے چلے گئے، تو جب انکو غسل دیا جا رہا تھا، تو غسل دینے والے کی نگاہ امام کی کمر پر موجود زخم کے نشانوں پر پڑی، تو اس نے امام کے گھر والوں سے سوال کیا کہ یہ نشان کیسے ہیں ؟ تو بتایا گیا کہ: یہ ان آٹے کی بوریوں کے نشان ہیں کہ جو امام رات کی تاریکی میں کمر پر رکھ کر مدینہ کے فقراء کو دیا کرتے تھے۔
ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج 9 ص 114 ، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.
ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفى 597 هـ)، صفة الصفوة، ج 2 ص 96 ، تحقيق: محمود فاخوري - د.محمد رواس قلعه جي، ناشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1399هـ – 1979م.
الأصبهاني، ابو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفى430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 3 ص 136 ، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ..
🔴 امام سجاد (ع) کا مہربان ہونا:
يافعی نے امام سجاد (ع) کی ایک بے ادبی کرنے والے شخص سے خوش اخلاقی کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:
وروى انه تكلم رجل فيه وافترى عليه فقال له زين العابدين ان كنت كما قلت فاستغفر الله وان لم اكن كما قلت فغفر الله لك فقام اليه الرجل وقبل رأسه وقال جعلت فداك لست كما قلت فاغفر لى قال غفر الله لك فقال الرجل الله اعلم حيث يجعل رسالته.
ایک شخص نے امام کے بارے میں بات کی اور ان پر تہمت لگائی۔ امام نے فرمایا: جو کچھ تم نے ذکر کیا ہے، اگر وہ مجھ میں پایا جاتا ہے تو میں خداوند سے بخشش کو اپنے لیے طلب کرتا ہوں، اور اگر جو کچھ تم نے ذکر کیا ہے، وہ مجھ پایا نہیں جاتا تو، میں خداوند سے تمہارے لیے بخشش کو طلب کرتا ہوں۔ وہ شخص کھڑا ہوا اور امام کے سر کو بوسہ دیا اور کہا: میں آپ پر قربان ہو جاؤں، جو کچھ میں نے کہا ہے، آپ ویسے نہیں ہیں، مجھے معاف کر دیں۔ امام نے فرمایا: خداوند تم کو معاف فرمائے۔ اس شخص نے جواب دیا: خداوند بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کے لیے کس کو انتخاب کرے !
اليافعي، ابو محمد عبد الله بن أسعد بن علي بن سليمان (متوفى768هـ)، مرآة الجنان وعبرة اليقظان، ج 1 ص 191 ، ناشر: دار الكتاب الإسلامي - القاهرة - 1413هـ -
۔
🔴 امام زین العابدین علیہ السلام اور فقراء مدینہ کی کفالت
علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فقراء مدینہ کے سو گھروں کی کفالت فرماتے تھے اور سارا سامان ان کے گھر پہنچایا کرتے تھے
جنہیں آپ دیتے انہیں بھی معلوم نہ ہونے دیتے تھے کہ یہ سامان خوردونوش رات کو کون دے جاتا ہے
آپ کا اصول یہ تھا کہ بوریاں پشت پر لادکر گھروں میں روٹی اور آٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اور یہ سلسلہ تاحیات جاری رہا،
بعض معززین کاکہنا ہے کہ ہم نے اہل مدینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام زین العابدین کی زندگی تک ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔
📚 مطالب السؤل ص ۲۶۵
📚 نورالابصار ص ۱۲۶
۔
🔴 امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:
"بیشک زین العابدین (علیہ السلام) اندھیری راتوں میں نکلتے تھے، اور اپنے کندھے پر تھیلا (راشن کا) اُٹھائے ہوتے، پھر وہ دروازے دروازے پر جاتے، دستک دیتے، اور جو شخص باہر آتا، اسے وہ سامان دے دیتے۔ وہ (امام) اپنا چہرہ ڈھانپ لیا کرتے تاکہ کوئی انہیں پہچان نہ لے۔"
📚 بحار الأنوار، جلد 46، صفحہ 89
۔
🔴 ہاتھ کا حق
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا :
یہ ہے کہ اس جگہ دراز نہ کرے جو اس کے لئے حلال نہیں ہے ۔
شرح:
یہ ہاتھ کسی مظلوم پر نہ اٹھے اسی ہاتھ کچھ غلط لکھا نہ جائے کسی کے خلاف ناحق گواہی نہ لکھی جائے یہ ہاتھ کسی بزرگ قابل احترام پر نہ اٹھے اس ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ دی جائے اس ہاتھ کسی ظالم کی مدد نہ کی جائے اسی ہاتھ کو گناہ خطا اور نافرمانی خدا میں آلودہ نہ جائے کیونکہ آیات قرآنی کی روشنی میں دیکھاجائے تو بیان ہوا ہے کہ یہی انسان کے بدن کے اعضاء قیامت کے دن گواہی دیں گے بلکہ شکایت کریں گے ۔
اس ہاتھ جیسی نعمت کی قدر کریں عبرت حاصل کریں ان لوگوں سے جوہاتھوں سے معذور ہیں ہمیں ان ہاتھوں کے ذریعے عبادت ۔غریب و مسساکین فقراءکی مدد کرکے اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے تاکہ یہی ہاتھ ہمارے نیک کاموں کی گواہی دیں ۔
اللہ تعالی ہمیں نیک کرنے اور نیک کاموں میں ملکر مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اورنافرمانی خطا اور گناہ سے محفوظ فرمائے۔
📚امالی صدوق ص368
📚من لایحضرہ الفقیہ ج2 ص619
📚الخصال ج2ص 566
📚مکارم الاخلاق ص419
۔
🔴 امام زین العابدین علیہ السلام کی سخاوت۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں فقراء کی مدد کرنا"""
آپ کی شھادت کے بعد مدینہ منورہ کے فقیروں کو اناج ملنا بند ہوگیا سبحان اللہ
▪️ابو الفرج اصفہانی اور ابو نعيم اصفہانی نے اسی بارے میں لکھا ہے کہ:
📜 حدثنا الحسن بن علي قال حدثني عبد الله بن أحمد بن حنبل قال حدثني إسحاق بن موسى الأنصاري قال حدثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال كان ناس من أهل المدينة يعيشون ما يدرون من أين عيشهم فلما مات علي بن الحسين فقدوا ما كانوا يؤتون به بالليل.
📃 محمد ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ: مدینہ میں بعض لوگ زندگی گزارا کرتے تھے، لیکن انکو معلوم نہیں تھا کہ انکی ضروریات زندگی کہاں سے مہیا ہوتی ہیں۔ جب امام علی ابن حسین علیہ السلام دنیا سے چلے گئے تو جو اناج انکو رات کے اندھیرے میں ملتا تھا، وہ انکو ملنا ختم ہو گیا۔
📚 الأصبهاني، أبو الفرج (متوفي356هـ)، الأغاني، ج 15 ص 316 ، تحقيق: علي مهنا وسمير جابر، ناشر: دار الفكر للطباعة والنشر – لبنان.
📚 الأصبهاني، ابونعيم أحمد بن عبد الله (متوفى430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 3 ص 136 ، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ..
▪️ابن عساکر نے بھی ایسے ہی لکھا ہے کہ:
📜 أخبرنا أبو عبدالله الفراوي نا أبو بكر محمد بن عبدالله بن عمر العمري أنا أبو محمد بن أبي شريح أنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبدالجبار الرداني نا حميد بن زنجوية نا ابن أبي عباد نا ابن عيينة عن أبي حمزة الثمالي :
أن علي بن الحسين كان يحمل الخبز بالليل على ظهره يتبع به المساكين في ظلمة الليل ويقول إن الصدقة في سواد الليل تطفيء غضب الرب.
📃 ابو حمزه ثمالی نے نقل کیا ہے کہ:امام زین العابدین علی ابن الحسين علیہ السلام رات کی تاریکی میں روٹیاں اپنی کمر پر رکھ کر ضرورت مندوں تک پہنچایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ: رات کی تاریکی میں صدقہ دینا، خداوند کے غضب کی آگ کو خاموش کرتا ہے۔
📚 ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 41 ص 383 ، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.
▪️اسی طرح ابن عساکر نے لکھا ہے کہ:
📜 أخبرنا أبو عبدالله الحسين بن علي بن أحمد القاضي وأبو القاسم زاهر بن طاهر قالا أنا أحمد بن منصور بن خلف أنا أبو القاسم النضر بن محمد المحمي أنا الحسن بن محمد بن إسحاق الأزهري نا محمد بن زكريا الغلابي نا ابن عائشة عن أبيه عن عمه قال قال أهل المدينة ما فقدنا صدقة السر حتى مات علي بن الحسين.
📃 امام علی ابن حسین سید سجاد علیہ السلام جب دنیا سے چلے گئے تو مدینہ کے لوگوں کو رات کی تاریکی میں ملنے والا صدقہ ختم ہو گیا۔
📚 ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 41 ص 384 ، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995
۔
▪️ابن کثير دمشقی، ابن جوزی حنبلی اور ابو نعيم اصفہانی نے امام سجاد (علیہ السلام) کے راہ خدا میں انفاق کرنے اور اس سے امام کے بدن پر ہونے والے زخموں کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:
📜 عن عمرو بن ثابت قال لما مات علي بن الحسين فغسلوه جعلوا ينظرون إلى آثار سواد بظهره فقالوا ما هذا فقيل كان يحمل جرب الدقيق ليلا على ظهره يعطيه فقراء أهل المدينة.
📃 عمرو ابن ثابت نے نقل کیا ہے کہ: امام سجاد زین العابدین علیہ السلام جب دنیا سے چلے گئے، تو جب انکو غسل دیا جا رہا تھا، تو غسل دینے والے کی نگاہ امام کی کمر پر موجود زخم کے نشانوں پر پڑی، تو اس نے امام کے گھر والوں سے سوال کیا کہ یہ نشان کیسے ہیں ؟ تو بتایا گیا کہ: یہ ان آٹے کی بوریوں کے نشان ہیں کہ جو امام رات کی تاریکی میں کمر پر رکھ کر مدینہ کے فقراء کو دیا کرتے تھے۔
📚 ابن كثير الدمشقي، ابو الفداء إسماعيل بن عمر القرشي (متوفى774هـ)، البداية والنهاية، ج 9 ص 114 ، ناشر: مكتبة المعارف – بيروت.
📚 ابن الجوزي الحنبلي، جمال الدين ابو الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد (متوفى 597 هـ)، صفة الصفوة، ج 2 ص 96 ، تحقيق: محمود فاخوري - د.محمد رواس قلعه جي، ناشر: دار المعرفة - بيروت، الطبعة: الثانية، 1399هـ – 1979م.
📚 الأصبهاني، ابو نعيم أحمد بن عبد الله (متوفى430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 3 ص 136 ، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ..
۔
🔴 *[امام زین العابدین علی بن امام حسین -(ع)-]* سير أعلام النبلاء للذھبی سے انتخاب
*[1] - نسبتِ رسول (ع) کو کبھی ایک درہم بھی کھانے-کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا:*
قال جويرية بن أسماء : ما أكل علي بن الحسين بقرابته من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - درهما قط.
ثقہ محدث جویریہ بن اسماء(وفات 173ھ) فرماتے ہیں:
امام زین العابدین علی بن الحسین (ع) نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اپنی قرابت کی بنیاد پر کبھی ایک درہم بھی نہیں کھایا!!
*[2] - اپنے خرچ میں کمی کر کے بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کرتے تھے:*
عن محمد بن إسحاق : كان ناس من أهل المدينة يعيشون ، لا يدرون من أين كان معاشهم ، فلما مات علي بن الحسين فقدوا ذلك الذي كانوا يؤتون بالليل.
امام محمد بن اسحاق(وفات 151ھ) بتاتے ہیں:
مدینے کے کچھ لوگ زندگی بسر کرتے تھے مگر ان کا ذریعۂ معاش نامعلوم تھا۔ پھر جب امام زین العابدین کا وصال ہو گیا تو ان لوگوں کو راتوں میں ملنے والا سامانِ زندگی موقوف ہو گیا!!!
(یعنی امام زین العابدین خفیہ طور پر ان کی کفالت فرماتے اور ان کے رزق کا انتظام فرماتے تھے)
*[3] - راتوں میں ضرورت مندوں کے گھر بوریاں پہنچانے کی وجہ سے پیٹھ پر نشانات پڑ گئے تھے:*
عن عمرو بن ثابت : لما مات علي بن الحسين ، وجدوا بظهره أثرا مما كان ينقل الجرب بالليل إلى منازل الأرامل.
عَمرو بن ثابت نے بتایا کہ:
جب امام زین العابدین علی کا وصال ہوا تو لوگوں نے ان کی مبارک پیٹھ پر اُن بوریوں کے نشانات پائے جو وہ راتوں میں بیواؤں کے دروازوں تک پہنچایا کرتے تھے!!!
(اس سے اندازہ لگائیں کہ امام حسین کی نسلِ پاک کے امین اور ساجدین و عابدین کے یہ سردار یعنی سیدنا امام زین العابدین علی بیواؤں اور یتیموں کی نگہبانی کے لیے خود کس قدر مشقت اٹھاتے تھے)
*[4] - امام زین العابدین 100 گھروں کی کفالت فرماتے تھے:*
وقال شيبة بن نعامة : لما مات علي وجدوه يعول مائة أهل بيت۔
شیبہ بن نعامہ سے مروی ہے کہ :
جب امام زین العابدین علی کا وصال ہو گیا تب لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ 100 گھروں کی کفالت فرماتے تھے!!!!
ذہبی لکھتے ہیں:
قلت : لهذا كان يبخل ، فإنه ينفق سرا ويظن أهله أنه يجمع الدراهم.
یعنی : اسی وجہ سے وہ اپنے خرچ میں کمی فرماتے تھے۔ وہ پوشیدہ صدقہ فرماتے اور گھر والے (ظاہری خرچ نہیں دیکھتے تو) سمجھتے کہ وہ دراہم جمع فرماتے ہیں۔!!!
*[5] - سواری سے چلتے تو کوئی خصوصی پروٹوکول نہیں ہوتا:*
"كان علي بن الحسين إذا سار في المدينة على بغلته ، لم يقل لأحد : الطريق . . ويقول : هو مشترك ليس لي أن أنحي عنه أحدا"
یعنی امام زین العابدین جب اپنے خچر پر سوار ہو کر مدینہ منورہ میں نکلتے تو کسی سے یہ نہیں کہتے کہ راستہ دو۔ وہ فرماتے ہیں کہ راستہ سب کا ہے، مجھے یہ حق نہیں کہ کسی کو راستے سے ہٹاؤں۔!!
(آج کے ہٹو-بچو والے ماحول میں مشائخ کے لیے امام زین العابدین کے اس طرز عمل میں بہت بڑا درس ہے۔)
*[6] - اپنی وفات تک روزانہ 1000 رکعت نماز پڑھتے رہے:*
كان يصلي في كل يوم وليلة ألف ركعة إلى أن مات۔
یعنی اپنے وصال تک ہر دن وہ ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔