امام سجاد ع کی تعلیم کردہ دعا

دعاء جو امام حسینؑ نے عاشور کے دن اپنے بیٹے امام زین العابدینؑ کو سکھایا — حاجت، پریشانی، غم اور سخت مصیبت کے وقت کے لیے

 

📜 عن سيدنا زين العابدين عليه السلام: 

ضمني والدي (عليه السَّلام) إلى صدره يوم قتل والدماء تغلي، وهو يقول: يا بني، احفظ عني دعاء علمتنيه فاطمة (عليها السّلام)، 

وعلمها رسول الله (صلّى الله عليه وآله)، 

وعلمه جبرئيل (عليه السَّلام) في الحاجة والمهم والغم، والنازلة إذا نزلت، والأمر العظيم الفادح.

 

قال: ادع بحق يس والقرآن الحكيم، وبحق طه والقرآن العظيم، يا من يقدر على حوائج السائلين، يا من يعلم ما في الضمير، 

يا منفس عن المكروبين، يا مفرج عن المغمومين، يا راحم الشيخ الكبير، يا رازق الطفل الصغير، 

يا من لا يحتاج إلى التفسير، صل على محمد وآل محمد، وافعل بي كذا وكذا.

 

سیدنا امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

 

میرے والد (امام حسینؑ) نے مجھے اپنے سینے سے لگایا جس دن وہ شہید کیے گئے، جبکہ ان کا خون جوش مار رہا تھا، اور وہ فرما رہے تھے:

 

"اے بیٹے! مجھ سے ایک دعا یاد رکھ، جو مجھے فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے سکھائی، اور اُنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے سکھائی، اور انہیں جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائی — یہ دعا حاجت، اہم ضرورت، غم، مصیبت یا کوئی بڑی افتاد نازل ہونے پر پڑھنی چاہیے۔"

 

یہ دعا یوں ہے:

 

> "اے میرے رب! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بحق "یس" اور قرآنِ حکیم کے، اور بحق "طٰہٰ" اور قرآنِ عظیم کے، اے وہ ذات جو سوال کرنے والوں کی حاجات پر قدرت رکھتی ہے، اے وہ جو دلوں کے راز جانتا ہے، اے غم زدوں کی گھٹن دور کرنے والے، اے پریشان حالوں کے غم دور کرنے والے، اے بوڑھوں پر رحم کرنے والے، اے چھوٹے بچوں کو رزق دینے والے، اے وہ ذات جسے وضاحت کی ضرورت نہیں، محمد وآلِ محمد پر درود بھیج، اور میرے ساتھ ایسا ایسا کر (یعنی اپنی حاجت کا ذکر کرے)۔"

 

📚 الدعوات للراوندي، ص 54

📚 بحار الأنوار، ج 92، ص 196

 

#بدر_علی #التماس_دعا #تعلیمات_اہلبیتؑ #تبدیلی_ممنوع #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ #اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد #invisibleislam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1