🔴 امام زین العابدین علیہ السلام کے معجزات قید کے دوران ❗️
📜 واقعۂ کربلا ایک ایسا مشہور واقعہ ہے جو تاریخ میں سب پر عیاں ہے، اور اگر کوئی اس میں تدبر کرے تو وہ حقیقتاً اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پاک خاندان کی کرامات و معجزات کو دیکھ اور سمجھ سکتا ہے۔ یہاں ہم اہلسنت کی کتابوں سے امام سجاد علیہ السلام کی اسارت کے دوران ایک کرامت نقل کرتے ہیں:
ابن عساکر دمشقی جو اہلسنت کے مشہور علما میں سے ہیں، امام سجاد علیہ السلام کی ایک کرامت یوں بیان کرتے ہیں:
أنا أبو علي الحسن بن أحمد نا أبو نعيم أحمد بن عبد الله قال حدثت عن أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين أنا عبد الله بن محمد بن عمر البلوي نا يحيى بن زيد بن الحسن حدثني سالم بن فروخ مولى الجعفريين عن ابن شهاب الزهري قال شهدت علي بن الحسين يوم حمله عبد الملك بن مروان من المدينة إلى الشام فأثقله حديدا ووكل به حفاظا في عدة وجمع فاستأذنتهم في التسليم عليه والتوديع له فأذنوا لي ودخلت عليه وهو في قبة والأقياد في رجليه والغل في يديه فبكيت وقلت وددت أني مكانك وأنت سالم فقال يا زهري أو تظن هذا مما ترى علي وفي عنقي يكرثني أما لو شئت ما كان فإنه وإن بلغ فيك وفي أمثالك ليذكرني عذاب الله ثم أخرج يديه من الغل ورجليه في القيد ثم قال يا زهري لا جزت معهم على ذا منزلتين من المدينة قال فما لبثنا إلا أربع ليال حتى قدم الموكلون به يظنونه بالمدينة فما وجدوه فكنت فيمن سألهم عنه فقال لي بعضهم إنا نراه متبوعا إنه لنازل ونحن حوله لا ننام نرصده إذا أصبحنا فما وجدنا بين محمليه إلا حديدة قال الزهري فقدمت بعد ذلك على عبد الملك بن مروان فسألني عن علي بن الحسين فأخبرته فقال لي إنه قد جاءني في قوم فقدوه الأعوان فدخل علي فقال ما أنا وأنت فقلت أقم عندي فقال لا أحب ثم خرج فوالله لقد امتلأ ثوبي منه خيفة قال الزهري فقلت يا أمير المؤمنين ليس علي بن الحسين حيث تظن إنه مشغول بنفسه فقال حبذا شغل مثله فنعم ما شغل به قال وكان الزهري إذا ذكر علي بن الحسين يبكي ويقول زين العابدين
📃 ابن شہاب زہری کہتا ہے:
جب عبد الملک بن مروان نے امام علی بن الحسین (علیہ السلام) کو مدینہ سے شام لے جانے کا حکم دیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ انہوں نے آپؑ کے ہاتھوں اور پیروں کو بھاری زنجیروں سے جکڑ دیا تھا اور کچھ محافظ بھی ساتھ لگا دیے تھے۔ میں نے ان محافظوں سے اجازت مانگی کہ میں امامؑ سے مل کر وداع کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے اجازت دی۔
جب میں خیمے میں گیا تو دیکھا کہ امامؑ کے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں تھیں۔ میں رونے لگا اور کہا:
"کاش میں آپ کی جگہ ہوتا اور آپ اس مصیبت سے محفوظ ہوتے۔"
امامؑ نے فرمایا:
"اے زہری! کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ زنجیریں جو میرے جسم پر ہیں مجھے تکلیف دے رہی ہیں؟ اگر میں چاہوں تو انہیں ابھی کھول سکتا ہوں۔ لیکن میں ان زنجیروں کو دیکھ کر خدا کے یوم عذاب کو یاد کرتا ہوں۔"
پھر امامؑ نے خود اپنے ہاتھوں اور پیروں سے بیڑیاں کھول دیں، اور فرمایا:
"اے زہری! میں ان لوگوں کے ساتھ مدینہ کی صرف دو منزلیں اور جاؤں گا۔"
زہری کہتا ہے:
ہمیں صرف چار دن گزرے تھے کہ محافظ واپس مدینہ لوٹ آئے، اور حضرت زین العابدینؑ کو تلاش کرنے لگے۔ مگر وہ نہ ملے۔ میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے کہا:
"ہمیں لگتا ہے وہ کسی غیبی مخلوق کے زیر اثر ہیں۔ ہم ان کے آس پاس پہرہ دیتے تھے اور پوری رات جاگتے تھے، مگر ایک دن صبح دیکھا تو سوائے کچھ زنجیروں کے وہاں کچھ نہ تھا۔"
زہری کہتا ہے:
بعد میں میں عبد الملک کے پاس گیا، اس نے علی بن الحسینؑ کے بارے میں پوچھا۔ میں نے اسے سارا واقعہ سنایا، تو اس نے کہا:
"وہ میرے پاس آیا اور کہا: 'میرا اور تمہارا کیا تعلق؟' میں نے کہا: 'میرے پاس رہو۔' اس نے کہا: 'مجھے یہ پسند نہیں۔' پھر وہ چلا گیا۔
خدا کی قسم! مجھے اس سے ایسا خوف محسوس ہوا کہ میرے کپڑے لرز اٹھے۔"
زہری کہتا ہے:
میں نے عبد الملک سے کہا:
"علی بن الحسینؑ وہ نہیں ہیں جیسا آپ سوچتے ہیں۔ وہ خلافت کے درپے نہیں ہیں، وہ اپنے عبادت و ذکر میں مشغول ہیں۔"
عبد الملک نے کہا:
"کیا ہی اچھی مصروفیت ہے، جو اس میں وہ مشغول ہیں!"
راوی کہتا ہے:
جب بھی علی بن الحسینؑ کا ذکر ہوتا تو زہری رونے لگتے اور کہتے: "وہ عبادت گزاروں کی زینت تھے!"
📚 تاریخ مدینۃ دمشق، ابن عساکر دمشقی، جلد ۴۱، صفحہ ۳۷۲-۳۷۳
📜 حُدِّثْتُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْبَلَوِيُّ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ فَرُّوخَ، مَوْلَى الْجَعْفَرِيِّينَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ حَمَلَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَأَثْقَلَهُ حَدِيدًا، وَوَكَّلَ بِهِ حُفَّاظًا فِي عُدَّةٍ وَجَمْعٍ، فَاسْتَأْذَنْتُهُمْ فِي التَّسْلِيمِ عَلَيْهِ وَالتَّوْدِيعِ لَهُ، فَأَذِنُوا لِي، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ، وَالْأَقْيَادُ فِي رِجْلَيْهِ، وَالْغُلُّ فِي يَدَيْهِ، فَبَكَيْتُ وَقُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي مَكَانَكَ وَأَنْتَ سَالِمٌ، فَقَالَ: يَا زُهَرِيُّ، أَتَظُنُّ أَنَّ هَذَا مِمَّا تَرَى عَلَيَّ وَفِي عُنُقِي يُكْرِبُنِي، أَمَا لَوْ شِئْتُ مَا كَانَ، فَإِنَّهُ وَإِنْ بَلَغَ مِنْكَ وَبِأَمْثَالِكَ لَيَذُكِّرُنِي عَذَابَ اللهِ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الْغُلِّ وَرِجْلَيْهِ مِنَ الْقَيْدِ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُهَرِيُّ، لَا جُزْتَ مَعَهُمْ عَلَى ذَا مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَمَا لَبِثَا إِلَّا أَرْبَعَ لَيَالٍ حَتَّى قَدِمَ الْمُوَكَّلُونَ يَطْلُبُونَهُ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا وَجَدُوهُ، فَكُنْتُ فِيمَنْ سَأَلَهُمْ عَنْهُ، فَقَالَ لِي بَعْضُهُمْ: إِنَّا لَنَرَاهُ مَتْبُوعًا؛ إِنَّهُ لَنَازِلٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ لَا نَنَامُ، نَرْصُدُهُ إِذْ أَصْبَحْنَا، فَمَا وَجَدْنَا بَيْنَ مَحْمَلِهِ إِلَّا حَدِيدَهُ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقَدِمْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فَسَأَلَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي: إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي فِي يَوْمِ فَقَدَهُ الْأَعْوَانُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: مَا أَنَا وَأَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَقِمْ عِنْدِي، فَقَالَ: لَا أُحِبُّ، ثُمَّ خَرَجَ، فَوَاللهِ لَقَدِ امْتَلَأَ ثَوْبِي مِنْهُ خِيفَةً. قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَيْسَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ حَيْثُ تَظُنُّ، إِنَّهُ مَشْغُولٌ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: حَبَّذَا شُغْلُ مِثْلِهِ، فَنِعْمَ مَا شُغِلَ بِهِ.
📃 مجھے احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد اللہ بن محمد بن عمرو بلوی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن زید بن حسن نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن فروخ نے، جو جعفریوں کا آزاد کردہ غلام تھا، ابن شہاب زہری سے روایت کی:
ابن شہاب زہری کہتے ہیں:
میں اس دن علی بن حسین (علیہ السلام) کے ساتھ تھا جب عبد الملک بن مروان نے انہیں مدینہ سے شام لے جانے کا حکم دیا۔ ان کے جسم پر بہت زیادہ لوہے (زنجیروں) کا بوجھ تھا، اور ان پر محافظ مقرر کیے گئے تھے جن کی تعداد زیادہ تھی۔ میں نے ان محافظوں سے اجازت مانگی کہ ان (علی بن حسین) کو سلام اور رخصت کہہ سکوں، تو انہوں نے اجازت دی۔ میں ان کے پاس داخل ہوا تو وہ ایک خیمے میں تھے، ان کے پاؤں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ میں رونے لگا اور کہا: کاش میں تمہاری جگہ ہوتا اور تم سلامت ہوتے۔
تو انہوں نے فرمایا: اے زہری، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ لوہے کی زنجیریں اور یہ حالت مجھے تکلیف دے رہی ہے؟ اگر میں چاہتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ یقین جانو، اگرچہ تم اور تم جیسے لوگ اسے بہت سمجھتے ہو، لیکن یہ چیزیں مجھے اللہ کے عذاب کی یاد دلاتی ہیں۔
پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو ہتھکڑیوں سے اور پاؤں کو بیڑیوں سے نکال لیا، اور فرمایا: اے زہری! تم ان (محافظوں) کے ساتھ مدینہ سے دو منزل سے زیادہ کا فاصلہ طے نہ کرنا۔
زہری کہتے ہیں: اس کے بعد صرف چار دن ہی گزرے تھے کہ محافظ مدینہ واپس آ گئے اور انہیں (امام سجادؑ) کو تلاش کرنے لگے، لیکن وہ انہیں نہ ملے۔ میں بھی ان سے پوچھنے والوں میں تھا۔ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا: "ہمیں لگتا ہے کہ وہ کسی غیبی قوت کے تابع ہیں۔ وہ ہمارے درمیان ہی اترتے ہیں، اور ہم ان کے اردگرد جاگتے رہتے ہیں، نگرانی کرتے ہیں، لیکن جب صبح ہوتی ہے تو ہم ان کے پالکی میں صرف زنجیریں ہی پاتے ہیں۔"
زہری کہتے ہیں: میں اس کے بعد عبد الملک بن مروان کے پاس گیا۔ اس نے مجھ سے علی بن حسین کے بارے میں پوچھا، تو میں نے اسے خبر دی۔ اس نے کہا: وہ میرے پاس اسی دن آئے جس دن ان کے نگہبانوں نے انہیں کھو دیا تھا۔ وہ میرے پاس داخل ہوئے اور کہا: "میرا اور تمہارا کیا تعلق؟" میں نے کہا: "میرے پاس قیام کریں۔" تو انہوں نے کہا: "نہیں، مجھے پسند نہیں۔" پھر وہ چلے گئے۔ خدا کی قسم! میرے کپڑے ان کی ہیبت سے لرز اٹھے۔
زہری کہتے ہیں: میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! علی بن حسین وہ نہیں جنہیں آپ سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے نفس میں مشغول ہیں۔
عبد الملک نے کہا: "کاش سب کا مشغلہ ایسا ہو، بہت خوب ہے جو وہ کر رہے ہیں۔"
📗📔 نام کتاب : حلية الأولياء وطبقات الأصفياء نویسنده : الأصبهاني، أبو نعيم جلد : 3 صفحه : 135
یہ واقعہ اہل بیت علیہم السلام کی بڑی کرامات میں سے ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب کچھ — حتیٰ کہ زنجیریں اور قید بھی — امامؑ کے اختیار میں ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اہلسنت علما کیوں ایسی کرامات کو چھپاتے ہیں؟ شاید اس کی وجہ ان کے نا/صبی رجحانات ہوں، کیونکہ وہ اہل بیتؑ سے محبت نہیں رکھتے اور ہر کسی کی روایت لیتے ہیں، مگر اہل بیتؑ کے اقوال سے گریز کرتے ہیں۔
۔
۔
🔴 امام سجاد ع کا زائرہ کو زندہ کرنا
اک مرد مومن بلخی ہمیشہ حج و زیارات رسول ع خدا کو آتا تھا اسکے بعد مولا علی ابن حسین ع کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور اپنے شہر کے کچھ تحفہ جات نذر کرتا تھا
ایک بار اسکی زوجہ نے کہا کہ ہمیشہ میں دیکھتی ہوں کہ تو تحفہ و سوغات کسی کے واسطے لے کر جاتا ہے مگر وہ شخص تجھ سے اس کے عوض کچھ نہیں کرتا وہ بولا اپنی زبان بند کر انکی خدمت گزاری کس سے ممکن ہے وہ دین و دنیا کے بادشاہ ہیں نبی ع کے نواسے امام حسین ع کے بیٹے جناب زین العابدین ع ہیں یہ سنتے ہی وہ نادم ہو کر چپ ہو گئ جب دوسرے سال امام ع کی خدمت میں وہ حاضر ہوا اس وقت آپ ع کھانا نوش فرما رہے تھے اسکو بھی شریک کیا بعد فراغ طعام خادم طشت و آفتابہ لایا یہ شخص اٹھا اور آفنابہ لے کر دست مبارک دھلانے پر مستعد ہوا
حضرت ع نے فرمایا اے شیخ تو ہمارا مہمان ہے چاہیے کہ ہم مہمان داری کا حق ادا کریں نہ کہ تو ہمارے ہاتھ دھلوائے
اس نے عرض کی میرا بھی جی چاہتا ہے کہ حضرت کے ہاتھ دھلواؤں
آپ ع نے فرمایا اگر محبت سے خدمت کرتا ہے تو خدا کی قسم میں بھی تجھے ایسی چیز دکھاتا ہوں جسے تو دیکھ کر راضی ہو اور تیری آنکھیں ٹھنڈی اور روشن ہوں
یہ فرما کر ہاتھ دھونے لگئے یہاں تک کہ اک طشت تہائی پانی سے بھر گیا پھر فرمایا
اے شیخ طشت میں کیا ہے ؟
اس نے عرض کیا پانی ہے
ارشاد کیا پانی نہیں بلکہ یاقوت سرخ ہے
اس کے بعد اس نے جو دیکھا تو ثلث طشت میں یاقوت سرخ بھرا ہوا ہے پھر ہاتھ دھونے لگا یہاں تک کہ ایک ثلث اور بھرا فرمایا اب کیا ہے عرض کی پانی ہے
حضرت ع نے فرمایا نہیں یہ پانی نہیں بلکہ زمرد سبز ہے اس نے جو نظر کی تو وہ پانی زمرد سبز تھا پھر پانی ڈالنے لگا جب تمام طشت پانی سے بھر گیا تو فرمایا اب کیا ہے عرض کیا پانی ہے ارشاد فرمایا دیکھو پانی نہیں سفید موتی ہیں جب اس نے نگاہ کی تو پانی کے وہ قطرے سفید گوہر تھے وہ حیران ہو کر پاؤں پر گر پڑا اور بوسے دینے لگا حضرت ع نے فرمایا اے شیخ ہمارے پاس مال دنیا سے کچھ نہ تھا کہ ہم تجھے دیتے یہ جوہرات تیرے ان ہدیوں کا کا عوض ہے جو تو ہمارے لیے لایا کرتا تھا اور اے شیخ اپنی زوجہ سے عذر کرنا کہ اس نے ہم پر بارعتاب کیا تھا
اس مرد مومن نے شرم سے اپنا سر جھکا لیا اور عرض کی کس نے آپکو میری زوجہ کے کلام سے آگاہ کیا بیشک آپ اہل بیت نبوت ع ہیں
غرض وہ جوہرات لے کر حضرت سے رخصت ہوا اور اپنی زوجہ سے تمام واقعہ بیان کیا اس نے اپنے شوہر کو قسم دی اس دفعہ جب حج پر جانا تو مجھے ساتھ لے کر جانا دوسرے سال جب اس نے حج کا سفر اختیار کیا تو اپنی زوجہ کو بھی ساتھ لیا راستے میں وہ عورت بیمار ہوئی اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر مر گئ وہ شخص روتا ہوا امام ع کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی زوجہ کی کفیت بیان کی حضرت اٹھے دو رکعت نماز ادا کی دعا کی اور فرمایا اے شخص جا خدا نے تیری زوجہ کو زندہ کیا ہے اس نے خیمے میں جاکر دیکھا تو وہ صیح سالم بیٹھی ہے اس نے پوچھا تو کیونکر زندہ ہوئی ؟ اس نے کہا جب ملک الموت نے میری روح قبض کی اور چاہا کہ پرواز کرے ناگاہ ایک بزرگوار اس شکل و شمائل تشریف لائے اس نے حضرت کے اوصاف بیان کیے اس کے شوہر نے کہا سچ کہتی ہے واللہ میرے مولا علی ابن حسین ع کی یہی صورت ہے پھر اس عورت نے کہا جب ملک الموت نے حضرت ع کو تشریف لاتے دیکھا تو انکے پاوں پر گر کے بوسے دینے لگا اور عرض کی
السلام علیک یا حجت اللہ فی ارضہ اسلام علیک یا زین العابدین ع
حضرت نے جواب دیا اور فرمایا اے ملک الموت ہماری خاطر اسکی روح کو اسکے بدن کی طرف پھیر دے اس واسطے کہ اس نے میری زیارت کا قصد کیا تھا اور زائر کا حق مجھ پر واجب ہے میں نے خدا سے سوال کیا اسے تیس برس زندہ رکھے تاکہ وہ جان جائے جسکی زیارت کو گئ تھی اسکا پیش خدا یہ رتبہ ہے
کتاب.بحورالغمہ
جلد.١ صفحہ.٦٠٥
مظاہر عباس
🔴 پتھر کو سرخ یاقوت میں تبدیل کرنا اور امام زین العابدین علیہ السلام کے عجائبات میں سے ایک معجزہ
✍️امّ سلیم بیان کرتی ہیں: ایک دن میں امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپؑ نے مجھ سے فرمایا: اے امّ سلیم! مجھے کچھ کنکریاں دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپؑ نے ان کنکریوں کو آٹے کی طرح پیس دیا، پھر اس سے ایک خمیر بنایا، اور پھر اسے سرخ یاقوت میں تبدیل کر دیا۔
پھر آپؑ نے فرمایا: اے امّ سلیم! اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؑ نے فرمایا: اے امّ سلیم! اب میری طرف دیکھو۔ اچانک میں نے دیکھا کہ آپؑ ایک نہایت شاندار محل میں ہیں اور جواہرات سے سجے تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
پھر آپؑ نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا تو یکایک وہ سارا محل غائب ہو گیا! اور میں نے دیکھا کہ آپؑ کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا ہے۔ آپؑ نے فرمایا: اے امّ سلیم! آؤ اور یہ تھیلا لے لو۔ میں نے تھیلا کھولا تو دیکھا کہ اس میں سونے اور چاندی کے سکے، اور سونے کی بالیاں اور کنگن موجود ہیں۔
پھر امامؑ نے فرمایا: اے امّ سلیم! یہ تمہارا حق ہے، اسے لے لو اور چلی جاؤ۔
📘مناقب آل ابی طالب، جلد ۴، صفحہ ۱۴۶
#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ
Gallery
Tap any image to view full screen