Back to امام علی بن الحسین ع

امام سجاد ع اور علمائے اہل سنت post-2

امام سجاد زین العابدین علیہ السلام کی عظیم شخصیت علماء اہل سنت کی نظر میں""""

 

🔴 احوالِ امام زین العابدین السجاد ع 

 

عامہ کے ہاں آپ کا مقام و مرتبہ

 

محدث ابن حبان لکھتے ہیں 

 

« علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ع الھاشمی المدنی کنیته ابو الحسن ، و کان من افاضل بنی ہاشم من فقھاء اھل مدینہ و عبادھم »

 

امام زین العابدین ع کی کنیت ابو الحسن تھی اور آپ کا شمار بنی ہاشم کے فاضل لوگوں اور اہل مدینہ کے فقہا اور عبادت گزاروں میں ہوتا ہے ۔

 

📚 [الثقات , ص : 159-160]

 

ابو نعیم اصفہانی لکھتے ہیں 

 

« زین العابدین علی بن حسین ع ، و منار القانتین ، کان عابداً و فیا ، وجواداً حفیا »

 

امام زین العابدین ع عبادت گزاروں کی زینت، قانتین کی علامت، عبادت کا حق ادا کرنے والے اور انتہائی سخی و مشفق تھے۔

 

📚 [ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم 3/133 ]

 

ابن عساکر لکھتے ہیں 

 

« وكان يسمى بالمدينة زين العابدين لعبادته » 

 

امام زین العابدین ع مدینہ میں اپنی عبادات کی وجہ سے زین العابدین کہلاتے تھے ۔

 

📚 [ تاريخ مدينة دمشق 41/379 ]

 

ابن خلکان شافعی لکھتے ہیں

 

« زين العابدين أبو الحسن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم أجمعين المعروف بزين العابدين...هذا وهو أحد الأئمة الأثني عشر ومن سادات التابعين قال الزهري ما رأيت قرشيا أفضل منه »

 

زين العابدين، ابو الحسن علی ابن الحسين ابن علی ابن ابی طالب معروف بہ زين العابدين... وہ بارہ آئمہ میں سے ایک امام اور بزرگ تابعی تھے۔ زہری نے کہا ہے کہ: میں نے کسی ہاشمی کو بھی ان ( علی ابن الحسین) سے افضل نہیں دیکھا۔

 

📚 [ وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان 3/267 ]

 

ابن حجر ہیثمی لکھتے ہیں 

 

« وزين العابدين هذا هو الذي خلف أباه علما وزهدا وعبادة وكان إذا توضأ للصلاة اصفر لونه فقيل له في ذلك فقال ألا تدرون بين يدي من أقف »

 

زين العابدين علم، زہد اور عبادت میں اپنے والد کے جانشین تھے اور جب وہ نماز کے لیے وضو کرتے تھے تو انکے چہرے کا رنگ زرد ہو جاتا تھا اور جب اس بارے میں ان سے سوال ہوا تو، انھوں نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس ذات کے سامنے کھڑا ہونے جا رہا ہوں ؟

 

📚 [ الصواعق المحرقة ص: 267 ]

 

ابن تیمیہ لکھتا ہے 

 

« واما على بن الحسين فمن كبار التابعين وساداتهم علما ودينا... وكان من خيار أهل العلم والدين من التابعين »

 

علی ابن الحسين ع بزرگ تابعین اور علم و دین کے لحاظ سے انکے بزرگوں میں سے تھے اور وہ تابعین میں سے اہل علم و دین کے لحاظ سے برگزیدہ تھے۔

 

📚 [ منهاج السنة النبوية 2/175 ]

 

ابن عماد حنبلی لکھتے ہیں

 

« قال الزهري ما رأيت أحدا أفقه من زين العابدين لكنه قليل الحديث وقال أبو حازم الأعرج ما رأيت هاشميا أفضل منه وعن سعيد بن المسيب قال ما رأيت أورع منه وقال مالك بلغني أن علي بن الحسين كان يصلي في اليوم والليلة ألف ركعة إلى أن مات وكان يسمى زين العابدين لعبادته »

 

زہری نے کہا ہے کہ: میں نے کسی کو بھی زین العابدین سے زیادہ فقیہ و عالم نہیں دیکھا، لیکن ان سے بہت کم روایات نقل کی گئیں ہیں۔ ابو حازم نے کہا ہے کہ: میں نے کسی ہاشمی کو بھی امام سجاد سے بالا تر نہیں دیکھا۔ سعید ابن مسیب سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: میں نے کسی کو بھی امام سجاد سے با تقوی تر نہیں دیکھا۔مالک نے بھی کہا ہے کہ: مجھے خبر ملی تھی کہ علی ابن حسین (ع) مرتے دم تک دن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، اور انکو کثرت عبادت کیوجہ سے زین العابدین کہا جاتا تھا۔

 

📚 [ شذرات الذهب في أخبار من ذهب 1/194 ]

 

🔴 زبردست حوالہ جات سے مزین مضمون 5 شعبان ولادت باسعادت کے موقع پر خوبصورت ترین تحریر محبان اھل بیت کی نظر

 

امام زہری ، ابو حازم ، سعيد ابن مسيب اور مالک علیھم الرحمہ

 

ابن عماد حنبلی نے ان چاروں کے قول کو امام سجاد (علیہ السلام) کے بارے میں ایسے نقل کیا ہے کہ:

 

قال الزهري ما رأيت أحدا أفقه من زين العابدين لكنه قليل الحديث وقال أبو حازم الأعرج ما رأيت هاشميا أفضل منه وعن سعيد بن المسيب قال ما رأيت أورع منه وقال مالك بلغني أن علي بن الحسين كان يصلي في اليوم والليلة ألف ركعة إلى أن مات وكان يسمى زين العابدين لعبادته.

 

زہری نے کہا ہے کہ: میں نے کسی کو بھی زین العابدین سے زیادہ فقیہ و عالم نہیں دیکھا، لیکن ان سے بہت کم روایات نقل کی گئیں ہیں۔

 

ابو حازم نے کہا ہے کہ: میں نے کسی ہاشمی کو بھی امام سجاد سے بالا تر نہیں دیکھا۔

 

سعید ابن مسیب سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: میں نے کسی کو بھی امام سجاد سے با تقوی تر نہیں دیکھا۔

 

مالک نے بھی کہا ہے کہ: مجھے خبر ملی تھی کہ علی ابن حسین علیہ السلام مرتے دم تک دن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، اور انکو کثرت عبادت کیوجہ سے زین العابدین کہا جاتا تھا۔

 

العكري الحنبلي، عبد الحي بن أحمد بن محمد (متوفى1089هـ)، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ج 1 ص 105 ، تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط، محمود الأرناؤوط، ناشر: دار بن كثير - دمشق، الطبعة: الأولي، 1406هـ. .

 

يعقوبی:

 

يعقوبی نے بھی اپنی تاريخ میں ایسے لکھا ہے کہ:

 

وكان أفضل الناس وأشدهم عبادة وكان يسمى زين العابدين وكان يسمى أيضا ذا الثفنات لما كان في وجهه من أثر السجود وكان يصلي في اليوم والليلة ألف ركعة ولما غسل وجد على كتفيه جلب كجلب البعير فقيل لأهله ما هذه الآثار قالوا من حمله للطعام في الليل يدور به على منازل الفقراء. قال سعيد بن المسيب ما رأيت قط أفضل من علي بن الحسين.

 

وہ اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے بالا و برتر تھے اور ان میں سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے، اسی وجہ سے انکو زین العابدین کہا جاتا تھا اور اسی طرح سے انکو ذا الثفنات بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ انکی پیشانی پر سجدوں کے بہت آثار تھے اور وہ دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے اور انکی شہادت کے بعد جب انکو غسل دیا جا رہا تھا، تو انکے کندھوں پر زخم کے نشانات تھے۔ جب انکے گھر والوں سے پوچھا گیا کہ یہ کندھوں پر نشانات کیسے ہیں ؟ تو جواب دیا گیا کہ راتوں کو فقراء و ضرورت مندوں کے لیے روز مرہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء اٹھانے کی وجہ سے یہ نشانات پڑے ہیں۔

 

سعيد ابن مسيب نے کہا ہے کہ: میں نے کسی کو بھی علی ابن حسین علیہ السلام سے برتر نہیں دیکھا۔

 

اليعقوبي، ج 2 ص 303 ، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر بن وهب بن واضح (متوفى292هـ)، تاريخ اليعقوبي، ناشر: دار صادر – بيروت.

 

ابو نعيم اصفہانی:

 

ابو نعيم اصفہانی نے ایسے لکھا ہے کہ:

 

علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب علیہ السلام زين العابدين ومنار القانتين كان عابدا وفيا وجوادا حفيا.

 

علی ابن الحسين [امام سجاد عليہ السلام] عبادت کرنے والوں کی زینت اور عابد لوگوں کے لیے ایک علامت و نشان تھے۔ وہ ایک عابد، وعدے کے پابند اور شرف و وقار کے ساتھ چلنے والے انسان تھے۔

 

الأصبهاني، ابونعيم أحمد بن عبد الله (متوفى430هـ)، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 3 ص 133 ، ناشر: دار الكتاب العربي - بيروت، الطبعة: الرابعة، 1405هـ..

 

ابو الوليد الباجی:

 

اس نے امام سجاد (علیہ السلام) کی شخصیت کے بارے میں زہری کے قول کو نقل کرتے ہوئے ایسے لکھا ہے کہ:

 

حدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري قال حدثني علي بن الحسين وكان أفضل أهل سنة وأحسنهم طاعة.

 

علی ابن الحسین میرے ساتھ کلام کیا کرتے تھے اور وہ سنت پر عمل کرنے والوں میں سب سے بہترین تھے اور ان میں سے سب سے زیادہ اطاعت گزار بندے تھے۔

 

الباجي، سليمان بن خلف بن سعد ابوالوليد (متوفى474هـ)، التعديل والتجريح لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح، ج 3 ص 956 ، تحقيق: د. ابولبابة حسين، ناشر: دار اللواء للنشر والتوزيع - الرياض، الطبعة: الأولى، 1406هـ – 1986م.

 

ابن ابی حازم:

 

بيہقی نے ابن ابی حازم سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

 

قال ابن أبي حازم وهو من العلماء السلف: ما رأيت هاشمياً أفضل من زين العابدين علي بن الحسين رضي الله عنهما.

 

ابن ابی حازم نے کہا ہے کہ: میں نے کسی ہاشمی کو بھی علی ابن الحسین سے افضل و بالا تر نہیں دیکھا۔

 

البيهقي، أبو الحسن ظهير الدين علي بن زيد، الشهير بابن فندمه (متوفي 565هـ) لباب الأنساب والألقاب والأعقاب، ج 1 ص 13 ، دار النشر: طبق برنامه الجامع الكبير.ابن عساکر:

 

ابن عساکر شافعی نے بھی ان امام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

وكان يسمى بالمدينة زين العابدين لعبادته.

 

وہ [امام سجاد عليہ السلام] شہر مدینہ میں زیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے سجّاد کہلاتے تھے۔

 

ابن عساكر الدمشقي الشافعي، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله،(متوفى571هـ)، تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 41 ص 379 ، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ناشر: دار الفكر - بيروت - 1995.

 

ابن خلکان:

 

ابن خلکان نے بھی حضرت امام سجاد سلام الله عليہ کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:

 

زين العابدين أبو الحسن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم أجمعين المعروف بزين العابدين...هذا وهو أحد الأئمة الأثني عشر ومن سادات التابعين قال الزهري ما رأيت قرشيا أفضل منه.

 

زين العابدين، ابو الحسن علی ابن الحسين ابن علی ابن ابی طالب معروف بہ زين العابدين... وہ بارہ آئمہ میں سے ایک امام اور بزرگ تابعی تھے۔

 

زہری نے کہا ہے کہ: میں نے کسی ہاشمی کو بھی ان ( علی ابن الحسین) سے افضل نہیں دیکھا۔

 

إبن خلكان، ابو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن أبي بكر (متوفى681هـ)، وفيات الأعيان و انباء أبناء الزمان، ج 3 ص 267 ، تحقيق احسان عباس، ناشر: دار الثقافة - لبنان.

 

عجلی:

 

عجلی عالم بزرگ اہل سنت نے بھی ایسے لکھا ہے کہ:

 

على بن الحسين بن على بن أبي طالب مدني تابعي ثقة وكان رجلا صالحا قال العجلي ويروى عن الزهرى قال ما رأيت هاشميا قط أفضل من على بن الحسين.

 

علی ابن الحسين ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام اہل مدينہ و تابعی تھے، وہ ثقہ و مورد اعتماد اور ایک صالح انسان تھے۔

 

عجلی نے زہری سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ: میں نے کسی ہاشمی کو بھی علی ابن الحسین سے افضل و بالا تر نہیں دیکھا۔

 

العجلي، أبي الحسن أحمد بن عبد الله بن صالح (متوفى261هـ)، معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم، ج 2 ص 153 ، تحقيق: عبد العليم عبد العظيم البستوي، ناشر: مكتبة الدار - المدينة المنورة - السعودية، الطبعة: الأولى، 1405 – 1985م.

 

شيبانی نے بھی اسی طرح کے مطالب نقل کیے ہیں:

 

الشيباني، أحمد بن عمرو بن أبي عاصم (متوفي287هـ)، الزهد، ج 1 ص 166 ، تحقيق: عبد العلي عبد الحميد حامد، دار النشر: دار الريان للتراث – القاهرة، الطبعة: الثانية 1408

يحيی ابن سعيد:

 

ابن سعد اور ابن عبد البر نے قول يحيی ابن سعيد سے ایسے نقل کیا ہے کہ:

 

حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد قال سمعت علي بن حسين وكان أفضل هاشمي أدركته.

 

يحيی ابن سعيد نے نقل کیا ہے کہ: میں نے علی ابن الحسين علیہ السلام سے روايت کو سنا ہے اور میں نے جتنے بھی ہاشمیوں کو دیکھا تھا، وہ ان سب میں سے افضل و بالا تر تھے۔

 

البصري الزهري، محمد بن سعد بن منيع أبو عبد الله (متوفي230 هـ)، الطبقات الكبرى ، ج 5 ص 214 ، دار النشر : دار صادر - بيروت ، طبق برنامه الجامع الكبير.

 

النمري القرطبي المالكي، ابوعمر يوسف بن عبد الله بن عبد البر (متوفى 463هـ)، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، ج 9 ص 156 ، تحقيق: مصطفي بن أحمد العلوي، ‏محمد عبد الكبير البكري، ناشر: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية - المغرب – 1387هـ..

 

سعيد ابن مسيب:

 

مزی اور ذہبی نے سعيد ابن مسيب کے قول سے نقل کرتے ہوئے ایسے لکھا ہے کہ:

 

قال رجل لسَعِيد بن المُسَيب : ما رأيت أحدا أورع من فلان. قال هل رأيت علي بن الحسين ؟ قال : لا ، قال : ما رأيت أورع منه.

 

ایک بندے نے سعيد ابن مسيب سے کہا کہ: میں نے فلاں شخص سے کسی کو با تقوی تر نہیں دیکھا۔ سعيد ابن مسيب نے اس سے کہا: کیا تم نے علی ابن الحسين کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، سعید نے کہا: میں نے علی ابن الحسين علیہ السلام سے با تقوی تر کسی کو نہیں دیکھا۔

 

المزي، ابو الحجاج يوسف بن الزكي عبد الرحمن (متوفى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 20 ص 389 ، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

 

الذهبي الشافعي، شمس الدين ابو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفى748 هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 4 ص 391 ، تحقيق: شعيب الأرنؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ..

 

ابن حجر:

 

ابن حجر ہيتمی مکی نے اپنی کتاب الصواعق میں امام سجاد (ع) کی عظیم شخصیت کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:

 

وزين العابدين هذا هو الذي خلف أباه علما وزهدا وعبادة وكان إذا توضأ للصلاة اصفر لونه فقيل له في ذلك فقال ألا تدرون بين يدي من أقف.

امام زين العابدين علیہ السلام علم، زہد اور عبادت میں اپنے والد کے جانشین تھے اور جب وہ نماز کے لیے وضو کرتے تھے تو انکے چہرے کا رنگ زرد ہو جاتا تھا اور جب اس بارے میں ان سے سوال ہوا تو، انھوں نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس ذات کے سامنے کھڑا ہونے جا رہا ہوں ؟!

 

الهيثمي، ابو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر (متوفى973هـ)، الصواعق المحرقة علي أهل الرفض والضلال والزندقة، ج 2 ص 582 ، تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط، ناشر: مؤسسة الرسالة - لبنان، الطبعة: الأولى، 1417هـ - 1997م.

 

مزّی اور ابن حجر:

 

اہل سنت کے دو علم رجال کے بزرگ علماء مزی اور ابن حجر نے مالک کے قول سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

 

وَقَال ابن وهب ، عن مالك : لم يكن في أهل بيت رسول الله مثل علي بن الحسين.

 

مالک سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ: رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت میں کوئی فرد بھی علی ابن حسین علیہ السلام کی طرح کا نہیں تھا۔

 

المزي، ابو الحجاج يوسف بن الزكي عبد الرحمن (متوفى742هـ)، تهذيب الكمال، ج 20 ص 387 ، تحقيق: د. بشار عواد معروف، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400هـ – 1980م.

 

العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر ابو الفضل (متوفى852هـ)، تهذيب التهذيب، ج 7 ص 269 ، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولى، 1404 - 1984 م.

 

ابن تيميہ:

 

ابن تيميہ حرّانی نے بھی امام سجاد (علیہ السلام) کے بارے میں ایسے لکھا ہے کہ:

 

وأما على بن الحسين فمن كبار التابعين وساداتهم علما ودينا... وكان من خيار أهل العلم والدين من التابعين.

 

علی ابن الحسين بزرگ تابعین اور علم و دین کے لحاظ سے انکے بزرگوں میں سے تھے۔۔۔۔۔ اور وہ تابعین میں سے اہل علم و دین کے لحاظ سے برگزیدہ تھے۔

 

ابن تيميه الحراني الحنبلي، ابو العباس أحمد عبد الحليم (متوفى 728 هـ)، منهاج السنة النبوية، ج 4 ص 49 ، تحقيق: د. محمد رشاد سالم، ناشر: مؤسسة قرطبة، الطبعة: الأولى، 1406هـ..

 

گنجی شافعی:

 

گنجی شافعی نے بھی ان امام کے بارے میں لکھا ہے کہ:

 

كان عابداً وفياً، وجواداً حفياً.

 

وہ ایک عابد، با وفا اور بخشنے والے سخی انسان تھے۔

 

الگنجي الشافعي، الإمام الحافظ أبي عبد الله محمد بن يوسف بن محمد القرشي، كفاية الطالب في مناقب علي بن أبي طالب، ص 39 ، تحقيق و تصحيح و تعليق: محمد هادي اميني، ناشر: دار احياء تراث اهل البيت (ع)، طهران، الطبعة الثالثة، 1404هـ..

 

التماسِ دعا ریاض قادری

 

🔴 امام زین العابدین عمربن عبدالعزیز کی نگاہ میں

 

  ۸۶ ھ میں عبدالملک بن مروان کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا ولید بن عبدالملک خلیفہ بنایا گیا ۔ یہ حجاج بن یوسف کی طرح نہایت ظالم وجابرتھا اسی کے عہد ظلمت مین عمربن عبدالعزیزجوکہ ولید کاچچا زاد بھائی تھا حجازکا گورنر ہوا ۔ یہ بڑا منصف مزاج اورفیاض تھا،اسی کے عہد گورنری کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ۸۷ ھ ء میں سرورکائنات کے روضہ کی ایک دیوارگرگئی تھی جب اس کی مرمت کاسوال پیدا ہوا، اوراس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کسی مقدس ہستی کے ہاتھ سے اس کی ابتداء کی جائے توعمربن عبدالعزیزنے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہی کوسب پرترجیح دی (وفاء الوفاء جلد ۱ ص ۳۸۶) ۔

 

اسی نے فدک واپس کیا تھا اورامیرالمومنین پرسے تبراء کی وہ بدعت جومعاویہ نے جاری کی تھی، بند کرائی تھی