:::شہادت امام سجاد علیہ السلام:::

 

ابو بصیر امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام 57 سال کی عمر میں شہید ہوئے اور آپ کی شہادت کا سال سنہ پچانوے ہجری ہے۔امام علیہ السلام نے اپنی شہادت کی رات اپنے فرزند ارجمند امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا بیٹا! پانی لاؤ تا کہ میں وضو کروں۔امام باقر علیہ السلام اٹھے اور پانی سے بھرا برتن لے آئے۔امام نے فرمایا بیٹا! اس پانی میں ایک مردہ جانور گرا ہوا ہے چنانچہ اس سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔امام باقر علیہ السلام نے چراغ اٹھا کر پہلے والے برتن میں ایک مرا ہوا چوہا دیکھا اور پانی کا دوسرا برتن لے آئے۔امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا بیٹا یہ وہی رات ہے جس کا مجھے وعدہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے گھر والوں کو ہدایت کی آپ کے اس اونٹ کا خوب خیال رکھیں اور اس کو خوب کھلائیں پلائیں جس پر سوار ہوکر آپ کئی بار حج مشرف ہوئے تھے۔کہا گیا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام 18 یا 22 یا 25 محرم کو شہید ہوچکے ہيں لیکن 25 محرم زیادہ مشہور ہے۔

 

امام سجاد علیہ السلام نے خود فرمایا میں نے اپنی عمر کے دو سال امیرالمؤمنین علیہ السلام کی امامت میں، 10 سال چچا امام حسن علیہ السلام کی امامت میں اور 10 سال اپنے والد امام حسین علیہ السلام کی امامت میں بسر کئے۔امام سجاد علیہ السلام کی مدت امامت 35 سال ہے۔ مدینہ والوں نے آپ کی شہادت کے بعد آپ کا جسم مبارک نہایت شان و شوکت سے بقیع میں منتقل کیا اور آپ کو امام حسن علیہ السلام کے پہلو میں سپرد خاک کیا۔ بقیع کے اسی حصے میں عباس بن عبدالمطلب بھی مدفون تھے اور پھر امام باقر اور امام صادق علیہ السلام بھی آپ کے پہلو میں دفن ہوئے۔اس قطعے پر قبہ و بارگاہ تھی جس کو وہابیوں نے منہدم کردیا۔

 

حضرت علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب علیہ السلام ولید بن عبدالملک کی بادشاہی کے زمانے میں شہید ہوئے۔چنانچہ عمر بن عبدالعزیز بادشاہ بنا تو کہا ولید ایک جابر و ظالم شخص تھا جس نے خدا کی زمین کو ظلم و جور سے بھر دیا تھا۔ اس شخص کے دور میں پیروان آل محمد، خاندان رسالت اور بالخصوص امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ مروانیوں اور امویوں کا رویہ بہت ظالمانہ اور سفاکانہ تھا۔گو کہ مدینہ کا والی ہشام بن اسماعیل مروان کے زمانے سے مدینہ منورہ پر مسلط تھا لیکن ولید کے دور میں اس کا رویہ بہت ظالمانہ تھا اور اس نے امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ شدت آمیز برتاؤ روا رکھا۔ اس نے اہل مدینہ پر اتنے مظالم ڈھائے کہ ولید بن عبدالملک نے اس کو منصب سے ہٹا دیا اور اپنے باپ مروان کے گھر کے دروازے کے ساتھ رکھا تا کہ لوگ اس سے اپنے بدلے چکائیں۔ یہ شخص خود کہا کرتا تھا کہ امام سجاد علیہ السلام سے خوفزدہ ہے اور اس کو ڈر تھا کہ امام سجاد اس کی شکایت کریں گے؛ لیکن امام سجاد علیہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ مروان کے گھر کے سامنے سے گذرے جہاں ہشام بن اسماعیل کی شکایتیں ہورہی تھیں لیکن امام اور آپ کے ساتھیوں نے ایک گرے ہوئے منکوب شخص کی کسی سے کوئی شکایت نہیں کی اور ہشام چلا اٹھا کہ: "الله اعلم حیث یجعل رسالته" خدا خود ہی جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کس خاندان میں قرار دیں۔ اور روایت میں ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے معزول مروانی گورنر کو اس کے تمام مظالم اور جرائم بھلا کر پیغام بھیجا کہ "اگر تم تنگدست ہو تو ہم مدد کے لئے تیار ہیں"۔

 

مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے؛ بعض کا کہنا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں مسموم ہوئے اور بعض دوسرے کہتے ہیں کہ آپ کو ولید کے بھائی ہشام بن عبدالملک نے مسموم کیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ خواہ ہشام ہی امام کا قاتل کیوں نہ ہو، وہ یہ کام ولید کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا تھا چنانچہ ولید بن عبدالملک بن مروان بن العاص روسیاہ ہی امام سجاد علیہ السلام کا قاتل ہے۔امام علیہ السلام کو شدید دور کا سامنا تھا لیکن آپ نے 35 سالہ انسانی اور الہی سیرت و روش کے ذریعے لوگوں کو اپنا مجذوب بنا رکھا تھا اور امامت کی خوبصورت تصویر ان کی نظروں کے سامنے رکھی تھی چنانچہ آپ کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی مانند پورے شہر مدینہ میں پھیل گئی اور لوگ جنازے میں شرکت کے لئے جمع ہوگئے۔

 

سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ جب امام سجاد علیہ السلام شہید ہوگئے تو مدینہ کے تمام باشندے نیک انسانوں سے لے کر بد کردار انسانوں تک، سب آپ کے جنازے میں شریک ہوئے، سب آپ کی تعریف و تمجید کررہے تھے اور اشکوں کے سیلاب رواں تھے، جلوس جنازہ میں سب نے شرکت کی حتی کہ مسجد النبی میں ایک شخص بھی نہیں رہا تھا۔ 

 

امام سجاد علیہ السلام کا ایک اونٹ تھا جو بائیس مرتبہ آپ کے ہمراہ سفر حج پر گیا تھا اور حتی کہ امام نے ایک بار بھی اس کو تازیانہ نہیں مارا تھا۔ امام نے اپنی شہادت کی شب سفارش کی کہ اونٹ کا خیال رکھا جائے۔ جب امام علیہ السلام نے شہادت پائی تو اونٹ اٹھ کر سیدھا امام قبر مطہر پر پہنچا اور قبر پر گرگیا جبکہ اپنی گردن زمین پر ماررہا تھا اور اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ امام محمد باقر علیہ السلام اطلاع پا کر اپنے والد کی قبر پر پہنچے اور اونٹ سے کہا آرام سے ہوجاؤ یا پرسکوں ہوجاؤ، اٹھو خدا تجھ کو مبارک قرار دے۔ اونٹ پرسکوں ہوگیا اور اٹھا کر چلا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد واپس لوٹا اور اپنی پہلے والی حرکتیں دہرا دیں۔ اور امام باقر علیہ السلام نے آکر اس کو لوٹا دیا لیکن تیسری مرتبہ وہ پھر بھی قبر پر پہنچا تو امام باقر علیہ السلام نے فرمایا اونٹ کو اپنے حال پر چھوڑو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عنقریب مر جائے گا۔ روایت میں ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کے تین دن مکمل نہيں ہوئے تھے کہ اونٹ بھی دنیا سے رخصت ہوگیا۔

 

بحارالانوار ‌ج 46 صفحات 147 تا 154

 

امام سجاد علیہ سلام کی شہادت

 

امام سجاد علیہ سلام اگرچہ گوشہ نشینی کی زندگی بسرفرما رہے تھے لیکن آپ کے روحانی اقتدارکی وجہ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دیدیا، اور آپ بتاریخ ۲۵/ محرم الحرام ۹۵ ھ مطابق ۷۱۴ کو درجہ شہادت پرفائز ہو گئے امام محمد باقرعلیہ السلام نے نمازجنازہ پڑھائی اورآپ مدینہ کے جنت البقیع میں دفن کردئیے گئے علامہ شبلنجی، علامہ ابن حجر، علامہ ابن صباغ مالکی، علامہ سبط ابن جوزی تحریرفرماتے ہیں کہ ”وان الذی سمہ الولیدبن عبدالملک“ جس نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا،وہ ولید بن عبدالملک خلیفہ وقت ہے 

 

نورالابصار ص ۱۲۸،

صواعق محرقہ ص ۱۲۰، 

فصول المہمہ، تذکرہ سبط ابن جوزی، 

ارجح المطالب ص ۴۴۴، 

مناقب جلد ۴ ص ۱۳۱

     

 

ملاجامی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ناقہ قبر پرنالہ و فریاد کرتا ہوا تین روزمیں مرگیا 

 

شواہد النبوت ص ۱۷۹، شہادت کے وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی

 

🔴 امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کے دن کے سلسلہ میں بھی بعض دیگر معصومین کی تاریخ شہادت کی طرح مورخوں نے مختلف تاریخیں لکھی ہیں کہ جن میں سے مشہور ۲۵ محرم الحرام کی تاریخ ہے۔ آپ نے ۵۷ یا ۵۸ برس کی جو عمر پائی اس میں ۲ سال امیر کائنات کے زمانہ میں رہے، ۱۰ سال امام حسن علیہ السلام اور ۱۰ سال اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گزارے اور پھر ۳۵ برس تک خود منصب امامت پر فائز رہے[۱]۔

 

*آپؑ کی زندگی کی آخری شب*

 

     امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت امام سجاد علیہ السلام نے اپنی شب شہادت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا: بیٹا! میرے لئے پانی لے آؤ تاکہ وضو کرلوں۔

 

امام باقر علیہ السلام اٹھے اور ایک برتن میں پانی لے کر آئے۔

 

اور پھر امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: بیٹا! یہ وہی رات ہے جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا ہے۔ پھر امام علیہ السلام نے نصیحت کی کہ انکے اس اونٹ کی بہتر دیکھ بھال کی جائے اور اسے کھانا پانی دیا جائے جس سے وہ بارہا حج کے لئے گئے تھے[۲]۔

 

*آپ علیہ السلام کا قاتل*

 

     امام سجاد علیہ السلام، ولید ابن عبدالملک کی خلافت کے دور میں درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ ولید، جو کہ ایک جابر اور ظالم حاکم تھا، اس نے زمین کو ظلم و جور و ستم سے لبریز کر دیا تھا۔ اس کے دور حکومت میں مروانیوں اور اس کے ذلیل ساتھیوں کا رویہ، اہلبیت پیغمبر،بنی ہاشم اور بالخصوص امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ بہت ہی ظالمانہ تھا۔ ولید کے اسی بغض و کینہ نے آخر کار اپنا ناپاک اور گھناؤنا چہرہ ظاہر کیا اور امام سجاد علیہ السلام کے قتل میں ملوث ہوگیا۔

 

     مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کو ولید ابن عبدالملک نے زہر دیا اور اسی زہر کے اثر سے امام علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی لیکن کچھ لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہشام ابن عبدالملک نے ولید کے دور خلافت میں امام علیہ السلام کے مسموم کیا۔ لیکن ان دونوں نظریوں کے درمیان کوئی تعارض اور ٹکراؤ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک واضح سی بات ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کے قتل کی منصوبہ بندی، حکومت کے ہاتھوں ہوئی تھی اور اس کا حکم، خلیفہ کی طرف سے صادر ہوا ہو جو کہ ولید تھا اور دیگر افراد، اس حکم کو عملی جامہ پہنائے ہوں۔ اس طرح سے یہ بات عقل و نظر سے بعید نہیں ہے کہ ہشام ابن عبدالملک نے اپنے بھائی ولید ابن عبدالملک کے حکم پر اس ظلم کا مرتکب ہوا ہو اور درحقیقت دونوں امام کے قاتل ہوں[۳]۔

 

*محل دفن*

 

     امام سجاد علیہ السلام کی قبر مطہر جنت البقیع میں ہے جو آج بھی اپنی ویرانی کے ذریعہ امام کی مظلومیت کو بیان کر رہی ہے۔

 

📚 *حوالہ جات*

 

[۱]بحارالانوار،‌ ص ۱۵۱، حدیث ۱۰ (نقل از کشف الغمه ) و ص ۱۵۲ الی ،۱۵۴ اصول کافی،‌ ج ۱، ص۴۶۸، حدیث ۶۔

 

[۲]بحارالانوار، ‌ج ۴۶، ص ۱۴۸، حدیث ۴۔

 

[۳]بحارالانوار،‌ج ۴۶، ص ۱۵۲، حدیث ۱۲ و ص ۱۵۳ و ۱۵۴۔