🔴 ابوبکر کا مخالفین کو آگ میں جلوانا
▪️اہلِ بغاوت کو جلایا جانا چاہیے، اور یہ صحابہ کا عمل تھا۔ یعنی ابوبکر نے ان لوگوں کے خلاف جو اس کی مخالفت پر اتر آئے تھے، کہا کہ انہیں جلایا جانا چاہیے۔
🖋 ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
📜 مہلب نے کہا: یہ ممانعت (آگ سے جلانے کی) حرمت کے طور پر نہیں، بلکہ تواضع اور فروتنی کے طور پر ہے۔
اور جلانے کے جواز پر صحابہ کا عمل دلیل ہے۔ نبی ﷺ نے عُرَنیین قبیلے کے دو افراد کی آنکھوں کو گرم لوہے سے داغا تھا، اور ابوبکر نے صحابہ کی موجودگی میں باغیوں کو آگ کے ذریعے جلایا۔
📚 حوالہ: فتح الباری، ابن حجر عسقلانی
🔴 ابوبکر کے ذریعے فجاءہ اسلمی کو جلانا
فجاءہ کا قتل اور اسے جلانا:
جب ابوبکر کے لیے یہ طے ہوا کہ وہ خالد کو روانہ کرے گا تو اس نے معن کو خط لکھا کہ وہ خالد کے ساتھ شامل ہو جائے اور اپنے کام کی ذمہ داری اپنے بھائی طریفہ بن حاجِر کے سپرد کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔
طریفہ اپنے ساتھ موجود مسلمانوں کے ذریعے مرتدین سے جنگ میں مصروف تھا کہ فجاءہ — جس کا نام ایاس بن عبداللہ بن عبد یالیل تھا — ابوبکر کے پاس آیا اور کہا:
"میں مسلمان ہوں، اور میرا ارادہ ہے کہ جو لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں ان سے جہاد کروں، لہٰذا مجھے سامانِ جنگ فراہم کریں۔ اگر میرے پاس طاقت اور وسائل ہوتے تو میں آپ کے پاس نہ آتا۔"
ابوبکر اس کے آنے سے خوش ہوا، اسے تیس اونٹ دیے اور ہتھیار فراہم کیے۔ پھر وہ نکلا اور جس مسلمان یا کافر سے بھی ملتا، اس پر حملہ کرتا، انہیں قتل کرتا، ان کے مال لے لیتا، اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے انہیں ختم کر دیتا۔ اس کے ساتھ بنو شرید کا ایک شخص تھا جس کا نام نَجبہ بن ابی المیثاء تھا، اور مرتدین کے ایک گروہ کے لوگ بھی اس کے ساتھ تھے۔
جب ابوبکر کو اس کی خبر پہنچی تو اس نے طریفہ بن حاجِر کو خط لکھا:
"اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ ابوبکر کی طرف سے طریفہ کے نام۔ تم پر سلام ہو۔ اما بعد! اللہ کا دشمن فجاءہ میرے پاس آیا اور اس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسلمان ہے، اور اس نے مجھ سے کہا کہ میں اسے ان لوگوں سے جنگ کرنے کے لیے طاقت فراہم کروں جو اسلام سے مرتد ہوئے ہیں۔ پس میں نے اسے سامان اور ہتھیار فراہم کیے۔
اب اب یہ بات یقینی طور پر میرے علم میں آ گئی ہے کہ اللہ کا دشمن لوگوں پر حملہ کرتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا مرتد، ان کے مال چھینتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرے اسے قتل کر دیتا ہے۔
لہٰذا اپنے ساتھ موجود مسلمانوں کے ساتھ اس کی طرف جاؤ، یہاں تک کہ یا تو اسے قتل کر دو یا اسے گرفتار کر کے میرے پاس لے آؤ۔"
طریفہ نے یہ خط اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا۔ وہ فجاءہ کے مقابلے کے لیے جمع ہو گئے۔ نجبہ بن ابی المیثاء آگے بڑھا، مارا گیا، اور اس کے ساتھی فجاءہ کی طرف بھاگ گئے۔
پھر طریفہ فجاءہ کی طرف بڑھا اور دونوں گروہوں کا مقابلہ ہوا۔ جب فجاءہ نے اپنے ساتھیوں میں کمزوری اور شکست دیکھی تو کہا:
"اے طریفہ! خدا کی قسم، میں کافر نہیں ہوا، میں مسلمان ہوں۔ جس طرح تم ابوبکر کے ماتحت ہو، میں بھی ابوبکر کے ماتحت ہوں۔"
طریفہ نے کہا:
"اگر تم سچے ہو تو اپنا ہتھیار رکھ دو، پھر ابوبکر کے پاس جاؤ اور اپنی خبر اسے بتاؤ۔"
پس فجاءہ نے اپنا ہتھیار رکھ دیا۔ طریفہ نے اسے زنجیروں میں باندھ دیا۔
فجاءہ نے کہا: "ایسا نہ کرو۔"
طریفہ نے کہا: "یہ ابوبکر کا وہ خط ہے جو اس نے مجھے بھیجا ہے۔"
فجاءہ نے کہا: "میں نے سنا اور اطاعت کی۔"
پھر طریفہ نے اسے زنجیروں میں جکڑا ہوا بنو سلیم کے دس آدمیوں کے ساتھ ابوبکر کے پاس بھیج دیا۔ ابوبکر نے اسے بنو جشم کے حوالے کیا، اور انہوں نے اسے آگ سے جلا دیا۔
📚 مختصر سيرة الرسول ۲۸۹ ، عبد الوہاب
▪️طریفہ بن حاجِر کو صحابہ میں شمار کیا گیا ہے۔ سیف بن عمر نے نقل کیا ہے کہ:
📜 "طریفہ بن حاجِر وہی شخص ہے جس کے لیے ابوبکر نے خط لکھا تھا کہ وہ فجاءہ سلمی کو قتل کرے، وہی شخص جسے ابوبکر نے جلایا۔ وہ نکلا یہاں تک کہ فجاءہ سلمی سے مقابلہ ہوا۔ اس کا نام ایاس بن عبداللہ بن عبد یالیل تھا۔ پھر اس نے اسے گرفتار کیا اور ابوبکر کے حوالے کر دیا۔ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو ابوبکر نے اسے آگ سے جلا دیا۔"
کتاب: اسد الغابہ
مصنف: ابن الاثیر، عزالدین
جلد: ۲
صفحہ: ۴۵۷
۔
🔴 خالد نے ابوبکر کے حکم پر لوگوں کو آگ کے گڑھوں میں جلایا 🔥
▪️واقدی نے یعقوب بن یزید بن طلحہ سے نقل کیا ہے:
📜 "خالد نے قیدیوں کو باڑوں (احاطوں) میں جمع کیا، پھر ان میں آگ لگا دی، پس وہ زندہ ہی جل گئے۔ اور بنو فزارہ میں سے کسی کو نہیں جلایا گیا۔"
میں نے اہلِ علم میں سے ایک شخص سے پوچھا:
"اہلِ ردہ میں سے ان لوگوں کو ہی کیوں جلایا گیا؟"
اس نے کہا:
"ہم تک یہ بات پہنچی تھی کہ انہوں نے بہت بری بات کہی تھی، نبی ﷺ کو گالیاں دی تھیں اور اپنے ارتداد پر قائم رہے تھے۔"
▪️اور یعقوب کے علاوہ دوسرے لوگوں سے نقل کیا گیا ہے کہ:
📜 "خالد نے حکم دیا کہ ایک خندق (گڑھا) کھودی جائے۔ اس سے پوچھا گیا: تم اس گڑھے کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟
اس نے کہا: میں انہیں آگ سے جلاؤں گا۔
اس معاملے میں اس سے گفتگو کی گئی تو اس نے کہا:
'یہ صدیق ابوبکر کی طرف سے میرا حکم ہے، اسے میں ہر اجتماع میں تمہارے لیے پڑھتا ہوں:
اگر اللہ تمہیں ان پر غلبہ عطا کرے تو انہیں آگ سے جلا دینا۔'"
اور عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
"میں بُزاخہ کے واقعہ میں موجود تھا۔ اللہ نے ہمیں طلیحہ پر فتح عطا کی۔ اور ہم جب بھی اس قوم پر حملہ کرتے تو ان کے بچوں کو قیدی بنا لیتے اور ان کے مال آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔"
📚 الاحتفاء المجلد الثاني - الجزء الأول ص ۲۹
🔴 بنی سلیم قبیلے کو جلانے کے لیے ابوبکر کا خالد کو خط 🔥
میں اہلِ سنت کی کتابوں سے دو نقلیں پیش کرتا ہوں 👇
▪️پہلی نقل:
🖋 کتاب سلیمان بن موسیٰ الکلاعی الاندلسی (متوفی 634ھ) سے:
ابوبکر نے خالد بن ولید کو لکھا:
📜 "اما بعد! اگر اللہ تمہیں بنو حنیفہ پر فتح عطا کرے تو ان کے درمیان کم سے کم قیام کرنا، پھر بنو سلیم کی طرف اترنا اور ان پر ایسی ضرب لگانا کہ وہ اس چیز کا اثر پہچانیں جس سے انہوں نے انکار کیا تھا۔ کیونکہ عرب کے کسی قبیلے کے بارے میں میرا غصہ اتنا زیادہ نہیں جتنا بنو سلیم کے بارے میں ہے۔
ان کا ایک نمائندہ میرے پاس آیا، اس نے اسلام کا ذکر کیا اور چاہا کہ میں اس کی مدد کروں، تو میں نے اسے سواریوں اور ہتھیاروں کے ذریعے مدد دی۔ پھر اس نے لوگوں پر حملے شروع کر دیے۔
پس اگر اللہ تمہیں ان پر فتح دے دے تو جو کچھ تم ان کے ساتھ کرو گے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا، چاہے تم انہیں آگ سے جلا دو، اور ان کے درمیان قتل کے ذریعے ایسی دہشت پیدا کرو کہ یہ ان کے لیے عبرت اور دوسروں کے لیے بازدار سبب بن جائے۔"
راوی کہتے ہیں:
"پھر خالد بن ولید اپنے آگے جاسوسی دستے بھیجتا تھا۔ بنو سلیم کو خالد کی آمد کی خبر پہنچی، تو ان میں سے بہت سے لوگ مقابلے کے لیے جمع ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر بنو عصیہ تھے، اور انہوں نے باقی مرتد عرب قبائل کو بھی مدد کے لیے بلایا۔ ان کا سردار ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ تھا۔
خالد صبح کے وقت جواء کے مقام پر ان کے اجتماع کے پاس پہنچا۔ خالد نے اپنے ساتھیوں کو پکارا، انہیں ہتھیار پہننے کا حکم دیا، پھر صفیں قائم کیں۔ بنو سلیم نے بھی صف بندی کی۔
اس وقت مسلمان تھک چکے تھے اور ان کے جانور کمزور اور دبلے ہو چکے تھے۔ خالد خود جنگ میں داخل ہوا اور لڑائی کی قیادت کی، یہاں تک کہ ان میں بہت زیادہ قتل و غارت ہوئی۔ پھر اس نے ایک ہی حملہ کیا، جس سے وہ لوگ بھاگ گئے، اور ان میں سے بہت سے لوگ قیدی بنا لیے گئے۔
پھر خالد ان میں سے ایک شخص کے کندھے پر وار کرتا تو اسے دو ٹکڑے کر دیتا، یہاں تک کہ اس کا پیٹ اور اندرونی اعضاء ظاہر ہو جاتے، اور دوسرے کو جسم کے درمیان سے وار کرتا۔"
اور سفیان بن ابی العوجاء کی روایت میں آیا ہے:
"خالد نے ان کے لیے خندقیں/گڑھے تیار کیے اور انہیں انہی میں آگ کے ذریعے جلا دیا۔"
▪️دوسری نقل:
🖋 محمد بن عبدالوهاب سے:
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خالد کو لکھا:
📜 "اگر اللہ تمہیں بنو حنیفہ پر فتح عطا کرے تو ان کے درمیان زیادہ دیر نہ ٹھہرو، یہاں تک کہ بنو سلیم کی طرف جاؤ اور ان پر ایسی ضرب لگاؤ کہ وہ اس کا اثر محسوس کریں اور جانیں کہ جس چیز کو انہوں نے دینے سے انکار کیا اس کا انجام کیا ہوا۔
کیونکہ عرب کے قبائل میں کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس پر میرا غصہ بنو سلیم سے زیادہ ہو۔
پس اگر اللہ تمہیں ان پر فتح دے تو میں تمہیں ان کے معاملے میں نہیں روکوں گا کہ تم انہیں آگ سے جلا دو، اور ان کے درمیان قتل کے ذریعے خوف و ہراس پیدا کرو، یہاں تک کہ یہ ان کے لیے عبرت اور سزا کا باعث بن جائے۔"
📚 مختصر سيرة الرسول
🔴 بنی حنیفہ قبیلے کو جلانے کے لیے ابوبکر کا خالد کو خط 🔥
▪️پہلا قول👇
پس صدیق (ابوبکر) رضی اللہ عنہ نے خالد رضی اللہ عنہ کو اس کی طرف بھیجا اور اسے لکھا:
📜 "اما بعد! تمہارا خط اپنے قاصد کے ذریعے مجھے پہنچا، جس میں تم نے اس فتح کا ذکر کیا جو اللہ نے اہلِ بزاختہ پر تمہیں عطا کی، اور جو کچھ تم نے اسد اور غطفان کے ساتھ کیا، اور یہ بھی بتایا کہ تم یمامہ کی طرف روانہ ہو رہے ہو۔ یہی وہ حکم ہے جو میں نے تمہیں دیا تھا۔
پس صرف اس اللہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور تمہارے ساتھ موجود مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا معاملہ کرو، ان کے لیے ایک شفیق باپ کی مانند بنو۔
اور اے خالد بن ولید! بنی مغیرہ کے غرور اور جوشِ نسب سے بچنا، کیونکہ تمہارے معاملے میں میں نے ایسے شخص کی مخالفت کی ہے جس کی میں نے کبھی کسی معاملے میں مخالفت نہیں کی۔
پس جب، ان شاء اللہ، تمہارا سامنا بنی حنیفہ سے ہو تو ان کے معاملے کو اچھی طرح دیکھنا، کیونکہ تمہارا سامنا ایسے لوگوں سے نہیں ہوا جو بنی حنیفہ جیسے ہوں۔ وہ سب تمہارے مقابل ہوں گے اور ان کے پاس وسیع زمین ہے۔
پس جب وہاں پہنچو تو خود ذاتی طور پر معاملے کی نگرانی کرو، اپنے دائیں بازو پر ایک شخص مقرر کرو، بائیں بازو پر ایک شخص مقرر کرو، اور اپنی سوار فوج پر بھی ایک شخص مقرر کرو۔
اور تمہارے ساتھ جو رسول اللہ ﷺ کے بڑے اصحاب، مہاجرین اور انصار میں سے ہیں، ان سے مشورہ کرو اور ان کی فضیلت اور مقام کو پہچانو۔
پھر جب اس قوم سے ملو اور وہ اپنی صفیں قائم کیے ہوئے ہوں تو تم بھی ان کا مقابلہ تیاری کے ساتھ کرنا۔ تیر کا جواب تیر سے، نیزے کا نیزے سے اور تلوار کا تلوار سے دینا۔ اور جب معاملہ تلوار تک پہنچ جائے تو وہ دشمن کو غمزدہ کرنے کا وقت ہے۔
پس اگر اللہ تمہیں ان پر فتح عطا کرے تو خبردار! ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑنا۔ ان کے زخمیوں کا کام تمام کر دینا، ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا کرنا، ان کے قیدیوں کو تلوار کے حوالے کرنا، ان کے درمیان قتل کا خوف پھیلا دینا، اور انہیں آگ سے جلا دینا۔
اور خبردار! میرے حکم کی مخالفت نہ کرنا۔ والسلام۔"
▪️دوسرا قول: محمد بن عبدالوهاب سے👇
شریک فزاری نے کہا:
📜 "میں ان لوگوں میں شامل تھا جو عیینہ بن حصن کے ساتھ جنگِ بزاختہ میں شریک ہوئے تھے۔ پھر اللہ نے مجھے توبہ اور رجوع کی توفیق دی۔
پس میں ابوبکر کے پاس آیا۔ انہوں نے مجھے خالد کی طرف جانے کا حکم دیا اور میرے ساتھ یہ خط لکھ کر بھیجا:
'اما بعد! تمہارا خط مجھے پہنچا جس میں تم نے اس فتح کا ذکر کیا جو اللہ نے اسد اور غطفان پر تمہیں عطا کی، اور یہ کہ تم یمامہ کی طرف جا رہے ہو۔
پس صرف اس اللہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور تمہارے ساتھ موجود مسلمانوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو، ان کے لیے باپ کی مانند بنو۔
اور اے ابنِ ولید! بنی مغیرہ کے غرور اور تکبر سے بچنا، کیونکہ تمہارے معاملے میں میں نے ایسے شخص کی مخالفت کی ہے جس کی میں نے کبھی کسی معاملے میں مخالفت نہیں کی۔
پس بنی حنیفہ کے معاملے کو دیکھنا، کیونکہ تمہارا سامنا ایسے لوگوں سے نہیں ہوا جو ان جیسے ہوں۔ وہ سب تمہارے مقابل ہوں گے اور ان کے پاس وسیع زمین ہے۔
پس جب تم پہنچو تو خود معاملے کی نگرانی کرو، اور تمہارے ساتھ موجود رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے مشورہ کرو اور ان کی فضیلت کو پہچانو۔
پس جب اس قوم سے ملو تو ہر معاملے کے لیے مناسب تیاری کرو۔
پس اگر اللہ تمہیں ان پر فتح عطا کرے تو خبردار! ان کو باقی نہ چھوڑنا، ان کے زخمیوں کا کام تمام کر دینا، ان کے بھاگنے والوں کا تعاقب کرنا، ان کے قیدیوں کو تلوار کے حوالے کرنا، ان کے درمیان قتل کا خوف پھیلا دینا، اور انہیں آگ سے جلا دینا۔
اور خبردار! میرے حکم کی مخالفت نہ کرنا۔ والسلام۔'"
📚 الروض المعطار في حبر الأقطار
📚 مختصر سيرة الرسول
🔴 ذہبی: خالد قیدیوں کو آگ کے گڑھے میں ڈالتا تھا 🔥🔻
ابن لَہیعہ نے ابو الاسود کے ذریعے عروہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
"خالد روانہ ہوا — اور وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار تھا — پس وہ تیزی سے چلتا ہوا بُزاخہ پہنچا۔
قبیلہ طَیّ نے اس کی طرف پیغام بھیجا:
'اگر آپ چاہیں تو ہمارے پاس تشریف لائیں، ہم سننے والے اور اطاعت کرنے والے ہیں، اور اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کی طرف آ جائیں گے۔'
خالد نے کہا:
'بلکہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری طرف آؤں گا۔'
پس خالد کچھ عرصہ بُزاخہ میں ٹھہرا۔ وہاں دشمن نے، یعنی بنو اسد اور غطفان نے، اس کے مقابلے کے لیے لشکر جمع کیا اور ان کے درمیان جنگ ہوئی۔
یہاں تک کہ دشمن میں سے بہت سے لوگ قتل ہوئے اور کچھ لوگ قیدی بنا لیے گئے۔
پھر خالد نے حکم دیا کہ گھیرے (حصار) بنائے جائیں، پھر ان میں آگ جلائی گئی اور قیدیوں کو ان آگوں میں ڈال دیا گیا۔
اس کے بعد خالد قبیلہ طَیّ کی طرف جانے کے ارادے سے روانہ ہوا۔
پھر بنو عامر، غطفان اور دوسرے لوگ اس کے پاس آئے، اس حال میں کہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے اور واجب حقوق ادا کرنے کا اقرار کرتے تھے۔ پس خالد نے ان کے اسلام اور اطاعت کو قبول کر لیا۔"
📚 تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام
سوال ہے کہ کیا ایسا حاکم دروازے کو آگ لگانے کا حکم نہیں دے سکتا ؟
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen