اگر متعہ (عارضی نکاح) حلال ہے، تو ائمہ معصومین علیہم السلام نے اسے کیوں نہیں کیا؟
🤔 اہلِ سقيفہ کے ایک شبهہ کا نقضی جواب
اہلِ سقيفہ دعویٰ کرتے ہیں:
> اگر متعہ (عارضی نکاح) حلال ہے، تو ائمہ معصومین علیہم السلام نے اسے کیوں نہیں کیا؟
💢 وضاحت:
یہاں ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام نے متعہ کی یا نہیں۔ بلکہ ہم یہ پوچھ رہے ہیں:
> کیا ضروری ہے کہ ہر حلال حکم کو اہلِ بیت علیہم السلام لازماً انجام دیں؟
✅ اس دعویٰ کا جواب:
اہل سنت/سقيفہ کے مطابق، کئی ایسے حلال اعمال ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی انجام نہیں دیے۔
مثال کے طور پر: سوسمار کھانا۔
اسلام ویب (وهابی سائٹ) میں آیا ہے:
> 🔴وأما الضبّ، فالأصل فيه الحل دون كراهية، عند جمهور العلماء من أهل المذاهب الأربعة وغيرهم
🔵ترجمہ: سوسمار کا اصل حکم حلال ہے، بغیر ناپسندیدگی کے، اور یہ حکم چار مذاہب اور دیگر علما کا ہے۔
📚 https://www.islamweb.net/ar/fatwa/16083/
لہٰذا، اہل سنت کے نزدیک سوسمار کھانا حلال ہے۔
💢 اب چیلنج یہ ہے:
کیا کوئی صحیح سند کے ساتھ روایت دے سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوسمار کھایا؟ 💢
یقینی طور پر آپ ایسی روایت نہیں لا سکتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوسمار نہیں کھایا۔
اب وہ سوال جو آپ شیعہ سے متعہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، ہم آپ سے پوچھتے ہیں:
🤔 سوسمار کھانا حلال نہیں ہے؟ پھر ایک صحیح روایت پیش کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوسمار کھایا۔
۔
۔
ملا محمد باقر مجلسیؒ کے "رسالہ المتعہ" سے متعہ کی فضلیت میں کچھ احادیث نقل کر کے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر متعہ کی اتنی ہی فضلیت تھی تو اہلبیت علیہم السلام کے افراد نے متعہ کیوں نہیں کیا؟
کچھ گذارشات عرض کئے دیتے ہیں:
اولاً: شیعہ یہ نہیں کہتے کہ متعہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے۔ فقہِ شیعہ میں متعہ ایک جائز نکاح ہے جو بعض حالات میں مستحب یا مباح ہوتا ہے نہ کہ ہر شخص کے لیے لازم اور عمومی شرعی تکلیف۔ لہٰذا متعہ ترک کرنا گناہ نہیں سمجھا جاتا۔
ثانیاً: اگر بعض کتب میں متعہ کی فضیلت کے بارے میں روایات نقل کی گئی ہوں تو محض کسی روایت کا نقل ہونا اس کے قطعی طور پر صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ ان میں سے بہت سی روایات سند اور دلالت کے اعتبار سے محلِ بحث ہیں اور تمام شیعہ فقہاء انہیں ان کے ظاہری مفہوم کے مطابق قبول نہیں کرتے۔
ثالثاً: حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ سلام الله علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سب کے مستقل نکاح موجود تھے۔ متعہ نکاحِ دائم کا متبادل نہیں ہے اور جس شخص کی ازدواجی ضرورت نکاحِ دائم کے ذریعے پوری ہو رہی ہو اس پر متعہ کرنا لازم نہیں۔
✍️ ســیـد نــادر نـقــوی
#متعه #شبهہ_اہل_بیت_علیہم_السلام_متعه_کرتے_تھے