Back to حضرت عمر

امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا

امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا
امام حسین ع نے عمر کو منبر سے اتارا

✔⬅یہ مطلب اہل سنت کی بہت ساری کتابوں میں ذکر ہے لیکن اختصار کی خاطر ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہیں ۔

 

 

📜 حَمَّادُ بنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَى بنُ سَعِیْدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ عُبَیْدِ بنِ حُنَیْنٍ عَنِ الحُسَیْنِ قَالَ : صَعِدتُ المِنْبَرَ إِلَى عُمَرَ فَقُلْتُ: انزِلْ عَنْ مِنْبَرِ أَبِی، وَاذْهَبْ إِلَى مِنْبَرِ أَبِیْکَ. فَقَالَ: إِنَّ أَبِی لَمْ یَکُنْ لَهُ مِنْبَرٌ ! فَأَقْعَدَنِی مَعَهُ، فَلَمَّا نَزَلَ، قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! مَنْ علَّمَکَ هَذَا ؟ قُلْتُ: مَا عَلَّمَنِیْهِ أَحَدٌ. قَالَ: أَیْ بُنَیَّ! وَهَلْ أَنْبتَ عَلَى رُؤُوْسِنَا الشَّعْرَ إِلاَّ اللهُ ثُمَّ أَنْتُم. وَوَضَعَ یَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَقَالَ: أَیْ بُنَیَّ! لَوْ جَعَلْتَ تَأْتِینَا وَتَغْشَانَا

👈إِسْنَادُه صَحِیْحٌ

 

امام حسین علیه السلام فرماتے ہیں کہ میں نے منبر پر چڑھ کر عمر کو کہا کہ

 

*اترو میرے بابا کے منبر سے*

👈اور جاو اپنے باپ کے منبر پر .

عمر نے کہا کہ : میرے باپ کا کوئی منبر نہیں تھا پھر عمر نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا جب وہ منبر سے نیچے آیا تو مجھ سے کہنے لگا کہ تجھے کس نے یہ سکھایا ہے ۔

میں نے کہا کہ مجھے یہ کسی نے بھی نہیں سکھایا ہے۔ ۔ ۔

 

👈سند روایت صحیح است

 

📚 سیر اعلام النبلاء.ج3 ص285.ط موسسة الرسالة

 

اس روایت سے نتیجہ:

 

1- سید الشهداء امام حسین علیه السلام حضرت عمر کو رسول اللہ کے منبر کا سزاوار نہیں سمجھتے تھے

 

2⃣ حدثنا أبو مسلم حدثني أبي أحمد حدثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن عبيد بن حنين عن حسين بن على قال صعدت إلى عمر رضي الله عنه وهو على المنبر فقلت 👈إنزل عن منبر أبي واذهب إلى منبر أبيك 👉 قال من علمك هذا قلت ما علمني أحد قال منبر أبيك والله منبر أبيك والله منبر أبيك والله وهل أنبت الشعر على رؤوسنا إلا أنتم جعلت تأتينا جعلت تغشانا.

 

📕 الثقات للعجلی، ج 1، ص 302، رقم: 310 .

 

♻️ رجال روایت :

 

💡1 ) الحسن بن أحمد الأموي (أبو مسلم) : ثقة .

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=1243

 

💡2 ) أحمد بن أبي شعيب (أبي) : ثقة .

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=458

 

💡3 ) سليمان بن حرب الواشحي : ثقة إمام حافظ .

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=3579

 

💡4 ) حماد بن زيد الأزدي : ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور .

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=2491

 

💡5 ) يحيى بن سعيد الأنصاري : ثقة ثبت .

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=8272

 

💡6 ) عبيد بن حنين الطائي : ثقة .

http://library.islamweb.net/hadith/RawyDetails.php?RawyID=5328

 

⭕ اس واقعے کا ذکر دیگر متون میں بھی ملتا ہے، جیسے:

 

الاصابة فی تمییز الصحابة، ص319

 

تهذیب التهذیب، ج2، ص95

 

تاریخ بغداد، ج1، ص471-472

 

المطالب العالیة، ج15، ص760، ح3892

 

الطبقات الکبری، ج1، ص394-395، ح363

 

تاریخ المدینة المنورة لابن شبة، ج3، ص14-15

 

حیاة الصحابة، ج3، ص189

 

الثقات للعجلی، ج1، ص302

 

الصواعق المحرقة، ج2، ص515

 

تاریخ الاسلام للذهبی، ج2، ص633

 

تاریخ مدینة دمشق، ج14، ص175-176؛ ج30، ص307

 

تهذیب الکمال، ج6، ص404

 

فضائل الصحابة للدارقطنی، ص34

 

کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری، ج5، ص182

 

اتحاف الخیرة المهرة، ج7، ص162، ح6580

 

کنز العمال، ج13، ص654، ح37664-37665

 

روضة المحدثین، ج8، ص427، ح3777

 

فصل الخطاب فی الزهد و الرقائق و الآداب، ج1، ص440؛ ج8، ص804

 

تاریخ الخلفاء، ص114

 

تاریخ واسط، ص203

 

بغیة الطلب فی تاریخ حلب، ج6، ص2584-2585

 

الریاض النضرة فی مناقب العشرة، ج2، ص341

 

التحفة اللطیفة فی تاریخ المدینة الشریفة، ج1، ص295

 

السیرة الحلبیة، ج1، ص391

 

#بدر_علی

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22
Gallery Image 23
Gallery Image 24
Gallery Image 25
Gallery Image 26
Gallery Image 27
Gallery Image 28
Gallery Image 29
Gallery Image 30
Gallery Image 31
Gallery Image 32
Gallery Image 33
Gallery Image 34
Gallery Image 35
Gallery Image 36
Gallery Image 37
Gallery Image 38
Gallery Image 39