خلیفہ ثانی اور اُنکے حلقہ بگوش
سالم بن معقل (مولى ابى حذيفه) فارس کا رہنے والا وہ ملعون اور منافق شخص ہے جو خلیفہ ثانی کو بہت محبوب تھا اور آپ اُسے خلیفۃ المسلمین بنانے کی آرزو رکھتے تھے۔ خلیفہ اسکی کافی مدح سرائی اور احترام کیا کرتے تھے۔ یہ اُنکا کافی پرانا دوست بھی تھا۔ (۱)
یہ جان لیجئے کہ یہ وہی شخص ہے جو اُن سر گرم لوگوں اور اُنکے لشکر کے سرداروں میں سے ایک ہے جن کی تمام کوشش یہی تھی کہ مستحق خلافت امام علی ع کو خلافت سے دُور کر دیا جائے۔
امام زین العابدین ع فرماتے ہیں:
" سالم اُن لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے آپس میں یہ قسم کھائی تھی کہ پیغمبر ص اگر رحلت کر جائیں یا شہید ہو جائیں تو ہم خلافت کو اہل بیت پیغمبر ع تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ (۲)
امام صادق ع فرماتے ہیں:
روزِ غدیر جب رسولِ اکرم ص نے علی ع کے ہاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا: " جِس کا میں مولا ہوں ، اُس کے علی ع مولا ہیں۔ " تو اس کے بعد آپنے اپنی داہنی طرف دیکھ کر فرمایا: "منافقین کا خیمہ" جبکہ وہاں پر سالم مولی ابی حذیفہ اور ابو عبیدہ جراح موجود تھے۔ جب اُنہوں نے پیغمبر ص کو علی ع کا ہاتھ اٹھاتے دیکھا تو کہنے لگے: پیغمبر اکرم ص کی آنکھوں کی طرف دیکھو ، ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی دیوانے کی آنکھیں ہیں ۔ اُسی وقت جبرئیل ع یہ آیت لے کر نازل ہوئے: و ان يكاد الذين كفرو ا ليزلقونك بابصارهم (٣) ..... سورة قلم، ايت ٥١-٥٢
سالم اُن منافقین میں سے ایک ہے جِس کے لئے یہ آیت: يحلفون باالله ما قالوا و لقد قالوا كلمة الكفر (توبه، ايت ٧٤) نازل ہوئی تھی ۔ (۴)
شیخ صدوق رح اُسے اُن منافقوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں جنہوں نے پیغمبر ص کو تبوک کی گھاٹی میں قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ (۵)
اسی طرح یہ اُن افراد میں سے بهی ہے جِس نے حضرت فاطمہ ع کے گھر پر حملہ کیا تھا۔ (٦)
سوال:
کیا کسی کے لئے ان تمام کالے کرتوتوں کے بعد جائز ہے کہ وہ خلافت رسول ص جیسے بلند مرتبہ منصب پر جا بیٹھے ؟ خلیفہ نے آخر یہ آرزو کیوں کی کہ اے کاش! سالم زندہ ہوتا تو میں اُسے مسلمانوں کا خلیفۃ بنا دیتا ؟!!! جو قریشی نہیں تھے انہیں خلافت کے لئے اُمید وار کیوں چنا ؟
کیا خلیفہ یہ حدیث صحیح بھول گئے تھے کہ رسولِ اکرم ص نے فرمایا تھا: " الائمة من قريش". [مسند احمد، ج ٣, ص ١٢٩/ المصنف فى الحديث والآثار، ج ٧, ص ٥٤٥, كتاب الفضائل، ما ذكر فى فضل قريش، ح ٨]
کیا ابوبکر نے سقیفہ کے دن انصار کو خاموش کرانے کے لئے اسی روایت سے استدلال نہیں کیا تھا ؟ [ انساب الاشراف، ج ٢, ص ٢٦٢-٢٦٣, أمر السقيفه]
تو پھر عمر نے کیسے کہ دیا کہ سالم جو کہ ایک ایرانی تھا اگر وہ زندہ ہوتا تو میں اُسے خلیفہ بنا دیتا ؟!!!
حوالاجات:
(۱) الاستيعاب فى معرفة الاصحاب، ج ٢, ص ١٣٦, شرح حال سالم بن معقل، ش ٨٨٦
(٢) الكافي، ج ٤, ص ٥٤٥, كتاب الحج، باب النوادر، ح ٢٨
(٣) الكافي، ج ٤, ص ٥٦٦-٥٦٧, كتاب الحج، باب مسجد غدير خم، ح ٢ / من لا يحضره الفقيه، ج ٢, ص ٣٣٥, باب الابتداء بمكة والختم بالمدينة، الصلاة في مسجد غدير خم، ح ١٥٥٨
(٤) تفسير القمى، ج ١, ص ٣٠١, ذيل اية ٧٤ سورة توبه / بحار الانوار، ج ٣١, ص ٦٣٥-٦٣٦, كتاب الفتن والمحن، تتميم ما ورد فيهما أو فيهم، ح ١٤٣
(٥) الخصال، ج ٢, ص ١٠٥, ابواب الاربعة عشر، ح ٩٤٠/ بحار الانوار، ج ٣١, ص ٦٣١-٦٣٢, كتاب الفتن والمحن، تتميم ما ورد فيهما او فيهم، ح ١٣٥
(٦) تفسير العياشى، ج ٢, ص ٦٦, ذيل ايت ٦١, سورة انفال، ح ٧٦/ بحار، ج ٢٨, ص ٢٢٧, كتاب الفتن والمحن، الباب الرابع، ح ١٤/ الاختصاص، ص ١٨٦, خديث سقيفه بنى ساعده